محمدیوسف رحیم بیدری
بیدر، کرناٹک
۱۔ تنظیم چل رہی ہے
وہ سب اہم لوگ تھے ،اور بے حد مصروف تھے ۔ اس لئے ان سے کیاپوچھاجاسکتاتھا اور اگر پوچھ بھی لیتے تو جواب دینے کے لئے ان کے پاس وقت نہیں تھا۔ لہٰذازندگی کی اونچ نیچ کے بارے میں پوچھانہیں جاسکا۔ اور پھر انھوں نے بھی اپنی جانب سے کچھ بتایاوتایانہیں۔تنظیم چل رہی ہے۔
۲۔ لطف
کچھ رقم آنا باقی تھی۔ میں اس کے لئے تقاضہ کرنا نہیں چاہتاتھا لیکن ایک موڑ ایسابھی آیاکہ نہ چاہتے ہوئے بھی رقم کاتقاضہ کرنا پڑا۔
آج رقم میرے پاس پہنچ چکی ہے لیکن لطف نہیں آرہاہے۔ جو چیز بغیر تقاضہ کئے مل جائے اس کا لطف ہی جدا ہوتاہے۔
۳۔ ادبی ترقی
اب ہم ایک دوسرے سے ملتے وِلتے نہیں ہیں۔کل تک ادب یعنی لٹریچر ہمارا مشترکہ موضوع تھا۔اب ہمارامشترکہ موضوع کپڑالتا، روٹی بوٹی،اپنے اپنے بچوںکامستقبل ہے،لیکن اس کے لئے ایک دوسرے سے جدا رہناپڑتاہے۔سو جدائی کومعمول بنالیاہے۔
سابقہ مشترکہ موضوع یعنی ادب کی یادجب کبھی آتی ہے ، ایک دوسرے سے مل بیٹھنے کے بجائے فون کرلیتے ہیں، کبھی وہ ، کبھی میں، کبھی انس ، کبھی شویتا، کبھی مولبھارتی ۔ پانسات منٹ بات ہوجاتی ہے ،اب ملنے مِلانے کے لئے وقت نہیںبچاہے ،سوہم لوگ ملتے نہیں ہیں ۔
سناہے کہ ادب ترقی کررہاہے ، یہ جان کر خوشی نہیں افسوس کرناپڑتاہے۔سوچنے والی بات یہ ہے کہ ہمارے بناادب کی ترقی کس طرح ممکن ہے؟ فراڈیوں کے ہاتھ میں ادب آگیا ہے ۔ان کے اس فراڈ کومنظم طریقے سے بے نقاب کرکے انھیں ادب سے ایک دن نکال پھینکیں گے۔ اس موضوع پر آئندہ مزید غوروفکرہوگا ، فی الحال ہمارے دوساتھی اپنے بچوں کو NEETکی تیاری کرانے میں لگے ہیں۔ شویتا اپنے اکلوتے بچے کوUPSCکی تیاری کروانے میں مصروف ہے۔ارون مولبھارتی کوشش کررہاہے کہ اس کی چھوٹی لڑکی کو کیندر ودیالیہ میں سیٹ مل جائے ۔مجھے اپنے لڑکے کو وزیرکے پاس جاب لگوانی ہے۔
لہٰذا سبھی مشغول ہیں لیکن پھر ملتے ہیںاور ضرور ملیں گے۔ادب زندہ باد ،اپناحق لے کر رہیں گے۔
۴۔ معترضین
اسکول کو چھٹی دئے جانے کااعلان ہوا۔ والدین کوپتہ چلاتو کچھ والدین نے اعتراض جڑدیاکہ یہ چھٹی کیوں کر ؟ اسکول والوں نے بتایاکہ ہمارے اسکول کے سامنے دودن بعدمندر کاافتتاح ہے اسلئے اس دن اسکول کو تعطیل دی گئی ہے۔ والدین نے یہ جواب سنا تو انہیں غصہ آگیا۔ انھوںنے استفسارکیاکہ یہ کیابات ہوگئی ؟ محلہ میں مندر کاافتتاح ہورہاہے اورتعطیل اسکول کودی جارہی ہے۔ اسکول انتظامیہ نے کہا’’جناب ! ایودھیامیں مندر کا افتتاح ہے ، اور تعطیل نکااعلان ہواہے تو ہم اپنے اسکول کوتعطیل کیوں نہیں دے سکتے ؟تعطیل دینے سے مندر کی مریادا اور اس کامان سمان طلبہ کے ذہن میں عمربھر بیٹھے گا۔ورنہ وہ ایک ناستک ہوجائیں گے ، کیاآپ چاہتے ہیں کہ آپ کی اولاد ناستک ہوکر مرے ؟‘‘معترض والدین کو خاموش ہوجاناپڑا۔
۵۔ آدھا سموسہ
میں نے پلیٹ میں سموسہ بچادیاتو پھوپھا بولے ’’قریب قریب آدھا سموسہ تم نے چھوڑدِیا، کھایانہیں ، ایسا کیوں کیا شارب ؟‘‘مجھ سے کوئی جواب نہ بن پڑا۔ واقعی میںنے ایسا کیوں کیاہوگا؟ حالانکہ ذائقہ دارسموسہ ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ میں اپنی پلیٹ میں کچھ نہ کچھ بچادیاکرتاہوں ، ایسے ہی بچادیتاہوں ، کوئی خاص وجہ نہیں ہوتی۔ممی ڈانتی تھیں۔ ممی کے دنیا سے جانے کے بعد اب کوئی مجھے نہیں ڈانٹتا۔ پھوپھا کے ٹوکنے پر اچھالگاکہ ٹوکنے والاکوئی ضرور ہونا چاہیے۔ورنہ زندگی پھینکے جانے والا آدھا سموسہ بن کر رہ جائے گی۔
۶۔بیش قیمت تھوک
تقریباً ایک ہزار جلدوں پرمشتمل مغل بادشاہوں کے زمانے کے کسی مصنف کا تاریخی روزنامچہ تھا۔ فی جلد 700تا950صفحات تھے۔ میں حیرت زدہ ہوکر رہ گیاہوں۔ واقعی سابقہ لوگ کام کیاکرتے تھے۔ ایک مجھے لے لو ، 60کی عمرتک پہنچتے پہنچتے جو تین کتابیں(فی کتاب 112صفحات ) میں نے لکھی اور شائع کی ہیں، اسی پر ناز کیاکرتاہوںکہدیکھو میں نے کتابیں لکھی ہیں۔ میں بھی مصنف ہوں ۔میری باتوں کواہمیت دیں۔ مجھ پر پی ایچ ڈی ہونی چاہیے وغیرہ وغیر۔
لیکن آج جب کہ تقریباً ایک ہزار جلدوں پرمشتمل روزنامچہ دیکھنے کاموقع ملاہے تومیں دل سے یہ گوارا نہیں کررہاہوں کہ روزنامچہ کاحوالہ دے کر خودکو غیرت دلانے کیلئے سہی، اپنے آپ پر تھوک بھی سکوں ۔
