محمدیوسف رحیم بیدری ، کرناٹک۔
۱۔ بے ہوش آتما
  غلط ہی نہیں بلکہ تعصب سے بھری ہوئی معلومات اپنی اپنی زبانوں تک محدود رکھی گئی تھیں لیکن جب ایک عرصہ بعد انٹرنیٹ کی آمد ہوئی تو ان غلط اورمتعصبانہ معلومات کو اپنی اپنی زبان کی سوسالہ اور نصف صدی پہلے کی شائع شدہ کتابوں سے نکال کر سوشیل میڈیا کے ذریعہ مختلف زبانوں میں’’تحقیقی علم ‘‘ کے نام پر تیزی سے پھیلایاجانے لگا۔ یہ دیکھ اور سن سن کرسرسوتی دیوی بیچاری ایک دن اچانک ہی
 بے ہوش ہوگئیں۔ ا ن کوبے ہوش ہوتے دیکھ کرکل یگ کے مؤرخین،ماہرین تعلیمات ، پروفیسرس، محققین ، لیکچررس ، اور طلبہ وطالبات بھاگ کھڑے ہوئے ۔
 سرسوتی دیوی ابھی بھی یکاوتنہا بے ہوش پڑی ہوئی ہیں ۔ تمام مرچکے مؤرخین،ماہرین تعلیمات ، پروفیسرس، محققین ، لیکچررس ، ٹیچرس اور چند طلبہ وطالبات کی آتمائیں سورگ سے اس منظرکانظارا نہایت ہی افسو س سے کررہی ہیں ۔کہاجاتاہے کہ آتماؤں میں آنکھوں کاکوئی مقام نہیں ہوتا ورنہ اپنی اپنی آتمائی آنکھوں سے تمام آتمائیں سرسوتی دیوی کی بے ہوشی کے منظر پراس قدر آنسو بہاتیں کہ وہ آنسوسرسوتی دیوی کی بے ہوش آتما تک پہنچ کر اس سے اپنی ہمدردی کااظہا رکرتے۔
۲۔کام کاجادو
سلوچنا میر کو بہت کم لوگ جانتے تھے۔ وہ ایک اچھے سبھاؤ کی لڑکی تھی۔ لکھناپڑھنا ، اور مہمان نوازی میں اس کاکوئی ہم پلہ نہیں تھا۔ ساری سہیلیاں موبائل اور سوشیل میڈیا کی دیوانی تھیں لیکن وہ ان سب شوق سے دور سادگی سے اپنی اسٹڈی میں مصروف رہی۔ بی اے کے بعد اس نے اردو سے ایم اے کرنا شروع کردیاتو جویریہ ، احمدی ، فرحانہ اور کومل کو حیرت ہوئی کہ اردو سے ایم اے کرناا س نے کس خوشی
 میں شروع کردیاہے ؟ کہیں کسی مسلم لڑکے سے عشق تو نہیں ہوگیا؟ لیکن ایسی کسی با ت کاپتہ نہ چلا۔ سلوچنااپنی سہیلیوں کی باتوں سے بے خبر دوسال میں ایم اے مکمل کرلیا۔ پھر اس کے بعد ایم فل میں داخلہ لے لیا۔ سہیلیو ں نے اس کو پاگل قرار دے دیا۔ اس نے ایم فل کے بعد اردو سے پی ایچ ڈی کرناشروع کیاتو سبھوں کویقین ہوگیاکہ وہ اپناوقت خراب کررہی ہے۔ پی ایچ ڈی کرنے کے بعد روزگار ملنے والانہیں۔ لیکن یہ بات صرف سلوچنامیرجانتی تھی کہ غیرمسلم امیدوار کے لئے کوٹہ مقرر ہواکرتاہے ، اسی کوٹہ کے ذریعہ وہ بنگلورویونیورسٹی میں لیکچررکی پوسٹ پرآ گئی ۔ یہاں تک کہ آگے چل کر بنگلورویونیورسٹی کے شعبہ ء اردو کی ہیڈ بن گئی۔ جویریہ، کومل ، کوکب اورفرحانہ کو جب پتہ چلاکہ سلوچنامیرتو واقعی میر نکلی ۔ ہم ابھی تک ملازمت کے بغیر ہیں اور وہ برسرروزگار ہی نہیں ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹ ہوگئی ہے تو انہیں محسوس ہواکہ سلوچنامیر پر نام کااثر ہے اور ہمارے نام کاکوئی جادو چل نہیں سکا۔
۳۔ بغاوت قدیم  
راجدھانی میں قیام کرنا مشکل تھااسلئے پورے قبیلہ نے راجدھانی ترک کرنے کافیصلہ کیا۔ قبیلے کے نوجوانوں کو پتہ چلاتو انھوں نے قبیلہ سے بغاوت کردی اوراپناقبیلہ چھوڑکر راجدھانی ہی میں رہنے لگے۔ یہ ڈیڑھ سوسال پرانی بات ہے۔ ڈیڑھ سوسال بعد راجدھانی پر اسی قبیلے کے باٖغی جوانوں میں سے ایک جوان راج کرنے جارہاہے۔ملک کے سب سے بڑے چینل کے صحافیوں کی ٹیم نے ان جوانوں کے قبیلے کی بنیادیں ڈھونڈ نکالی ہیں ۔اور اب وہ چینل یہ پیغام نشر کررہاہے کہ راج کاج کرنے کے لئے پہلے بغاوت ضروری ہوتی ہے۔چاہے وہ بغاوت تاریخ میں پہلے کبھی کی گئی ہو۔
بغاوت نہیں تو پھر حکومت کرنے کاموقع نہیں ۔
۴۔ قبر میں پانی 
انجم کوئی بڑا کاروباری آدمی نہیں تھا۔ چھوٹا ساکنڑاکٹر تھا لیکن سڑکیں بناتے ہوئے اس بات کاخیال رکھتاتھاکہ پرانی سڑک کو کھود کراس کاساراملبہ ہٹایاجائے پھر جب مٹی والاحصہ آ جاتاہے اس پر تارکول کی نئی سڑک بنائی جائے۔دوسرے کنڑاکٹر یہ سب جھمیلے میں نہیں پڑتے تھے۔ پرانی سڑک پر نئی سڑک بنادیاکرتے تھے۔ جس کی وجہ سے ان سڑکوں کے دونوں کنارے رہنے والے لوگوں کے گھریاپھر ان کی دوکانیں نیچی ہوتی چلی جاتیں، سڑک اونچائی پر ہوتی اور جب بارشیں شروع ہوتیں تو سارا پانی ان کے گھروں اوردوکانوں میں داخل ہوجاتا۔
انجم لوگوں کی بددعا لینانہیں چاہتاتھا۔ اس کاماننا تھاکہ اگر میں سڑک پر سڑک بناؤں گاتو میری قبر میں بھی پانی جمع ہوجائے گا۔وہ اپنی قبرکوپاک وصاف دیکھنا چاہتاتھا۔ پھریوں ہواکہ ایک دن انجم انتقال کرگیا۔جس دن انجم کاانتقال ہوابے، شہر میں بیتحاشہ بارش ہورہی تھی بلکہ گزشتہ دوہفتوں سے لگاتاربارش جاری تھی۔قبر کھودنے سے پہلے اس کے بالغ لڑکوں اور بھائیوں نے آپس میں مشورہ کیا۔ ان تمام کاخیال تھاچوں کہ گذشتہ دوہفتوں سے بارش بہت زیادہ ہورہی ہے۔ قبر کھودیں گے تو ساتھ ساتھ قبرمیں پانی بھی جمع ہوتارہے گاجس کو نکالتے رہنا پڑے گا۔فیصلہ کیاگیاکہ گورکن کے قبر کھودنے سے پہلے اتنے حصہ پر سائبان تانا جائے اور فیصلے کے مطابق قبر سے پانی نکالنے کے لئے موٹر کاانتظام بھی کرلیا گیا لیکن حیرت کاسامنااس وقت کرناپڑا، جب قبر ساری کھودی گئی لیکن نئی نویلی قبر میں ایک لوٹاپانی تک کہیں سے نہیں آیا۔انجم کے لڑکے اور بھائی بے انتہاخوش ہوگئے۔
اُس کی بیٹیوں کومعلوم ہواکہ قبر میں پانی بالکل نہیں آیاتووہ سجدے میں گرگئیں۔
۵۔ محبت باقی رہے
سبھی قلمکاروں پر نظر رکھنے کی ضرورت تھی ۔وہ بڑے پروگراموں میں نہ جا ئیں، کچھ اس طرح کااہتمام ہمیں کرنے کی ہدایت دی گئی تھی ۔ میں حتی الامکان کوشش کرتارہاکہ ہدایت پر کامیاب عمل آوری ہواورماہ ِ جنوری میں کوئی بھی قلمکار اپنامقام نہ چھوڑے ۔کسی بڑے پروگرام میں شریک نہ ہو۔خصوصیت سے ایسے پروگرام جو عوام کے لئے نہیں خواص کے لئے ہوںان میں بھی وہ نہ جائے۔نائن الیون کے بعد جیسی صورتحال ملک میں تھی اور میں ہر دن ، پوری رات تک اسی تگ ودو میں لگارہتا۔ میں اور میری پوری ٹیم مختلف قلمکاروں کوفون کرتی ، ایسے ہی بات چیت کی جاتی ۔ انھیں یہ نہ معلوم ہوتاکہ ہم ان پر نظر رکھے ہوئے ہیں ۔وہ کسی بڑے پروگرام یاخصوصی پروگرام کاحصہ نہ بنیں یہی ہماراہدف تھا۔
اورجب ماہ جنوری اختتام پذیر ہواتب ہماری جان میں جان آئی۔ اوپر سے رپورٹ تھی کہ دشمن نے سارے کام ہمارے قلمکاروں کوچھوڑ کرانجام دئے ہیںاور جس کسی کو بلایاہے اس کو خوب خوب نوازابھی ہے۔ اب یہاں سے ادب کی سطح پر جو لڑائی ہوگی ، وہ نفرت بنام محبت ہوگی ۔ رپورٹ سن کرمیرے ہونٹوں پرخودبخود مسکراہٹ آگئی ۔ جو کام ہم گزشتہ 10سال سے انجام دے رہے تھے وہی کام دوبارہ پوری طاقت اور دیوانگی کے ساتھ انجام دیناتھا تاکہ ملک میں انسانیت اور انسانی بنیادوں پر محبت باقی رہے۔اور ہم سب اس کے لئے پہلے ہی سے تیار تھے۔
۶۔ مزاچکھنا
انھیں اپناایمان فروخت کرناتھا،آخرکار انھوں نے ا یمان فروخت کردِیاتھا۔ پھر کیاتھا۔ اس قدر آزادی کااحساس ہواکہ جیسے دنیا سے انھیں کہیں اورنہیں جانا ہے۔ یہیں ایک نہ ختم ہونے والی زندگی گزارنی ہے۔
اس غلط فہمی کااحساس تب شدت سے ہواجب ان کے جسمانی اعضاء نے جواب دے دیااور وہ اچھے خاصے لوگ جیتے جاگتے لیکن حنوط شدہ فرعون نما لاش بن کررہ گئے۔ ڈاکٹروں نے ہاتھ اٹھالیا اور کہہ دیاکہ ہم کچھ نہیں کرسکتے۔ گول اور ٹیڑھے میڑھے ہونے والے جسم کو کھڑا کرنے کی کوئی سائنس یاطب کاکوئی فارمولہ ہمارے پاس نہیں ہے۔
کاش ! کہ دنیاکو بنانے والے پرایمان ہوتا تو وہ جس حال میں ہوتے ، مطمئن ہوتے لیکن انھوں نے تو اپناایمان فروخت کردیاتھا۔ ایمان کے بغیرکی زندگی کانٹوں اوربے شمارملامتوں اور پچھتاوؤں سے گھری ہوتی ہے۔ جس کا مزا انھوں نے آخر کار چکھ ہی لیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے