محمدیوسف رحیم بیدری
بیدر، کرناٹک۔
۱۔ پروجیکشن
وہ پوری طرح ادب کی دنیا پر چھاگیا۔ ہر طرف اس کی ہی تحریریں پڑھی جانے لگیں لیکن یہ واقعہ اس کی وفات کے پورے سوسال بعد پیش آیا ۔ اس تاخیر کی وجوہات جو بھی ہوں لیکن وہ ایک ایساادیب تھا جس میں دنیا داری کاشائبہ تک نہیں تھا۔ وہ سوسال قبل اپنے آپ کوکہیں پربھی پروجیکٹ نہیں کرسکاتھا۔
قدرت نے پورے سوسال بعدخود ہی اس کوپروجیکٹ کیاہے ۔ یقین ہے کہ وہ آئندہ سوسال تک پڑھاجائے گااور اسکی تحریریں حرز ِجاں بنی رہیں گی۔استادخیالؔ بیدروی کو اس دعویٰ کا پتہ چلاتو انھوں نے کہاکہ دنیا اس کی ہے جس نے دنیا بنائی ہے ۔ اب اس د نیاکو کس طرح چلانا ہے اور کس کس کو ہیروبناناہے یہ وہی جانتاہے۔ استاد نے یہ بھی کہاکہ ہماری تحریریں رب کے حضور پیش کی جاتی ہیں ۔ یہ خیال ہمارے لئے تقویت کا باعث ہونا چاہیے۔ وہ جب چاہے گاان تحریروں کومقبولیت عطاکرے گا۔
۲۔سیٹھ عبدالسلام 
عبدالسلام سیٹھ نے اپنی دولت عام لوگوںمیں تقسیم کی اور جان جانِ آفریں کے سپرد کرنے سے پہلے کہاکہ ’’تو گواہ رہناکہ میں نے انصاف سے کام لیاہے، تیری دی گئی دولت میں نے اپنے بچوں اور رشتہ داروں کے علاوہ سبھی میں تقسیم کردی ہے ، مجھے معاف کرنا ، مجھے دولت تو نے دی لیکن میں پھر بھی اس دولت سے انصاف نہ کرسکا‘‘
سیٹھ صاحب کی موت سے پتہ چلاکہ726افراد کے گھر وہ چلایاکرتے تھے۔ ایک ہزار سے زائد طلبہ کو وہ اسکالرشپ دیاکرتے تھے۔ 500بیواؤں کی کئی سال سے رقمی خدمت انجام دے رہے تھے۔ بہرحال سیٹھ صاحب کی کہانی کاوقت ختم ہوچکاتھا۔ اس کے اثرات پر بات ہورہی تھی اور سبھی ان کی سخاوت کو یاد کررہے تھے۔
۳۔ لنگوروں کا غم
لنگور نے اپنے دوست کے ساتھ دوسرے درخت پر ایک ساتھ جمپ کیا. اور کہا”یار! ہم تو جمپ ہی لگاسکتے ہیں. انسان ہوتے تو دنیا کو چل پھر کر دیکھ سکتے تھے”
دوست نے کہا ”تم سہی کہتے ہو، کود کود کر دیکھنے سے بہتر ہوتا ہے دنیا کوچل پھر کر دیکھنا…” پھر کچھ توقف کے بعد اپنی بغل کھجاتے ہوئے وہ بولا”انسانوں کی نئی نسل یہ دنیا کود پھاند کر دیکھ رہی ہے، تمہیں پتہ ہی ہوگا”
پہلے والے لنگور نے مغموم لہجے میں کہا” سچ کہتے ہو، انسانوں کی نئی نسل ہماری نسل کی جانب بخوشی سفر کررہی ہے”دونوں لنگوروں کی آنکھیں بھیگی ہوئی لگ رہی تھیں
۴۔ بلند آوازہ 
وہ بہت بے چین ہوگیا۔ ایک خدا کو چھوڑ کراپنے جیسے انسانوں کوخدا ماننے والے کروڑوں کی تعداد میں شرکیہ افعال انجام دینے اکٹھاہورہے تھے ۔ جب کہ وہ ایک خدا کو مانتاتھااورشرکیہ افعال کو گھورپاپ سمجھتاتھا۔ مسلسل بے چینی اور تفکر کے بعداس نے طئے کیاکہ ’’ہفتہ ء ذکر ِ واحد ا  لہٰ ‘‘ منایاجائے ۔اس نے اور اس کے دوستوں نے مل کر اس کی ہی قیادت میں نوجوانوں میں مہم چھیڑ دی کہ آئندہ ایک ہفتہ تک اور ہوسکے تو 15روزتک   ذکر ِ واحد ا  لہٰ منایاجائے۔
آہستہ آہستہ نوجوانوں کو بھی اچھالگا۔ وہ کہیں نہ کہیں جمع ہوکر ذکر ِواحد الٰہ کیلئے مصروف ہوگئے۔ یہاں تک کہ اسکول اورکالج کے وقفہ کے دوران بھی طلبہ وطالبات نے ذکرِ واحد الٰہ شروع کردیا۔
اس کے واٹس ایپ پر شہر کے 50مقامات کی تصاویر آہستہ آہستہ آنے لگیں ۔ تب کہیں جاکر اس کی بے قرار ی کو قرار آیا۔ اس نے آسمان کی طرف انگلی اٹھاتے ہوئے اپناسرنیچے کئے ہوئے کہا’’اے آسمان تو گواہ رہنا، ہم نے شرک نہیں کیا۔ ہم نے واحد الہ ٰ  ہی کاآوازہ بلند کیا‘‘
۵۔ اصول 
تنظیم میں بڑی تعداد میں بیمار جمع ہوگئے تھے۔ نیاخون عنقا تھا۔ کوشش کی گئی کہ نیا خون تنظیم میں آسکے لیکن حاصل کچھ نہیں ہوا۔ نیاخون دراصل سوشیل میڈیا پلیٹ فارم پر خوبصورت چہروں کی چکاچوند کے درمیان اپناخون گرماکر اپنے جذبات کو سکون پہنچانے میں سرگرم تھا۔
مسلسل کوشش کی گئی۔ خود کئی ایک پروگراموں کے ساتھ وہ تنظیم سوشیل میڈیا پرنوجوانوں کے سامنے نمودار ہوئی لیکن حاصل کچھ نہیں ہوا۔ ایک دن اس تنظیم کے بڑے بزرگ نے کہا’’ میاں ! تم لوگ دورنگی چھوڑ کر کام کرنے میدان میں اترجاؤ پھر دیکھوکہ نیاخون ہی نہیں رب دوجہاں تمہیں کیاکیاعطا کرتاہے‘‘
سناہے کہ وہ لو گ پورے ملک سے  بڑے پیمانے پر جمع ہونے جارہے ہیں تاکہ ’’دورنگی ‘‘ چھوڑنے کے اصول طئے کرسکیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے