محمدیوسف رحیم بیدری
بیدر،کرناٹک۔
۱۔ مزاج ِ دنیا 
انھوں نے پوچھاتھا’’اپنے ہونے کااحساس دِلاتے ہوکیا؟‘‘ میں نے کہا’’جی نہیں‘‘ پھر پوچھا’’کیوں ایسے ؟‘‘ میں نے اپناخیال ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ ’’کوئی نہ کوئی جانتاہی ہے کہ میں کیاہوں اور کیاکرسکتاہوں ، اپنے ہونے کااحساس دِلانا چھوٹاپن کہلائے گا‘‘
اس نے ایک زوردارقہقہہ لگاتے ہوئے کہا’’بابوجی ، یہ دنیا ہے ، یہاں چھوٹا بڑا کوئی اصول نہیں چلتا، یہاں دنیا کے اپنے اصول چلتے ہیں ، آپ اس دنیا کواحساس دلائیں کہ آپ ہیں ‘‘
مجھے شاک سالگالیکن میں نے دھیمے لہجے میں انہیں گویا اپنافیصلہ سنادیاکہ ’’میں احساس نہیں دِلاسکتا‘‘ انھوں نے بھی تیز لہجے میںجواباًکہا’’پھرتو دنیا بھی آپ کو محسوس نہیں کرے گی ، اسے آپ سے کون ساخاص تعلق ہے کہ وہ آپ کویاآپ جیسوں کو خود سے محسوس کرتی پھرے ‘‘ ۔
۲۔ بادشاہ سیٹھ 
اُس شہر کاہر فرد مالی مشکلات میں گھرا ہواتھا۔ نوجوانوں کو روزگار نہیں تھا۔ لڑکے لڑکیاں دونوں کمانے کی کوشش کرتے اور جب آپس میں شادیاں ہوتیں توشادی شدہ زندگی کے سبب مزید مالی مسائل سامنے آکھڑے ہوتے ۔کیوںکہ وہاں وسائل تقریباً نداردتھے۔ میاں بیوی دونوں کمانے کے باوجو دبھی پیچھے کچھ بچتاوچتا نہیں تھا۔
اقتصادی جانکار افراد پرمزاح انداز میں کہتے تھے کہ ہمارے اس شہر کے سب سے بڑے کاروباری بادشاہ سیٹھ بھی ابھی پوری طرح سیٹ نہیں ہوپائے ہیںتودیگر نوجوان کس بوتے پر سیٹ ہونے کادعویٰ کرسکتے ہیں؟(ویسے شہر کے وزیرسیٹھ کے بارے میں سب کی رائے یہی تھی کہ وہ بالکل سیٹ ہوچکے ہیں، لیکن اس کاپتہ کسی کو لگنے نہیں دیا) لیکن بادشاہ سیٹھ پریشان تھے تو ان کی پریشانی جائز
ہی تھی۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ بادشاہ سیٹھ کی اولادیں سیٹ ہوچکی تھیں لیکن بادشاہ سیٹھ کاخواب چوں کہ بڑا تھااور ابھی تک خواب دیکھنے کاسلسلہ زیادہ بچوںوالی حاملہ خاتون کی طرح جاری تھا ، اسلئے وہ ابھی تک پوری طرح سیٹ نہیں ہوسکے تھے۔جس کااظہار بھی وہ دن میں کئی کئی دفعہ کیاکرتے تھے۔
حضرت مولانا مفتی عزیزیارخان صاحب نے ایک دن انہیں کہابھی کہ’’ پورے ملک میں اپنی کاروباری شاخوں کو قائم کرنے کی خواہش تمہیں کھینچ کر یہاں سے خلیج لے جائے گی ،خلیج سے جنوبی ایشیاء پھر وہاں سے یوروپ اور آخرکار امریکہ پہنچوگے ، لہٰذا وقت رہنے تک اسی ملک میں سیٹ ہونے کی کوشش کرو، ہماراملک آئندہ پانسات سال میں وشواگرو بن جاے گا، تمہاراخواب خود بخود تعبیر دیکھ لے گا‘‘
کہاں بادشاہ سیٹھ کے خواب اور کہاں حضرت مولانا مفتی عزیزیارخان صاحب کی سست رو اور شارٹ کٹ تجویز، مولاناکوکیاپتہ کہسیٹ ہونا کسے کہتے ہیں ؟ کس طرح سیٹ ہواجاتاہے ؟اور اس کے لئے کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔اس لئے ان کی تجویز ایک کان سے سن کردوسرے کان سے نکال دی گئی۔
آج دنیا میں بادشاہ سیٹھ کاآخری دن تھا۔کوئی نیاپراجکٹ سائن کررہے تھے کہ ان کی روح پرواز کرگئی۔ وہ دنیا سے چلے گئے لیکن شہر بھر کو افسوس ہے کہ بادشاہ سیٹھ آخری وقت تک بھی سیٹ نہیں ہوسکے۔ انہیں مالی ترقی کی فکرہمیشہ گھیرے ہوئے رہاکرتی تھی، اسی فکر میں آخرکاران کی جان چلی گئی۔ رہے نام اللہ کا۔
۳۔ روحانی احساس 
کل بھائی کے خاندان میں ایسے ہی چلاگیاتو بھائی کے پوتے پاتیاں ، نواسے اور نواسیوں نے گھیر لیا۔ ہر کوئی میری آمد پر خوش تھا۔چھوٹی چھوٹی عمروں والے پورے 7بچوں نے مجھے گھیر لیااور پھر لکھ پڑھ کرمجھے بتاناشروع کردیا۔ عریش نے حروف تہجی سنائی ، دانیال نے اے بی سی ڈی پڑھی اور لکھ کر بتایا۔ زیدان نے بھی دانیا ل کے دیکھادیکھی خو دبھی اے بی سی ڈی اور گنتی لکھ کر بتائی۔ پری بٹیا گود سے اُترنے تیار نہیں تھی۔ شاہانہ کو ڈرائنگ بہت اچھاآتاتھا۔گویا اس کی پسند داداجان والی تھی۔ تختی کااستعمال نادیہ اور شاداللہ کررہے تھے۔
دسترخوان بچھ گیاتو سبھی بچے کھانے کے لئے بیٹھ گئے ۔ دونوں بھتیجوں کے ساتھ میں کھاناکھانے لگا۔ جب کہ بھتیجیوں میں کوئی ساتھ اسلئے نہیں بیٹھ سکیں کہ ان کے بچے میرے ساتھ کھاناکھارہے تھے۔اوروہ اپنے اپنے بچوں کی خدمت میں مصروف تھیں۔  ہر ایک بچہ ؍بچی کا کھاناکھانے کااپنااندازتھا۔انھیں اسی طرح کا لاڈ بھی ان کی اپنی مائیں دے رہی تھیں۔ بھائی کے پوتوں کوبھتیجے سنبھال رہے تھے۔ بھائی کی دونوں بہووئیں بھابی کے ساتھ باورچی خانہ میں مصروف تھیں۔بھائی ابھی سفر سے واپس نہیں ہوئے تھے۔
کھانا کھانے کے بعد ایک پھیری کرانہ دوکان کی لگائی گئی۔ سبھی بچوں کو ان کی پسند کی ٹافیاں اور کرکرے میں نے دِلائے ۔ جی تو نہیں چاہ رہاتھاکہ گھر واپس ہولوں لیکن گھر توواپس ہوناہی تھا۔اپنے گھرکوواپس ہوتے ہوئے احساس جاگاکہ اتنے سارے بچے میرے اپنے ہی تو ہیں۔یہ میرااپناخاندان ہے ۔اورپھر ۔۔۔ اور پھر  میں اچانک ہی۔۔۔۔۔۔ جسمانی اور روحانی طورپر خود کو طاقتوراور مضبوط محسوس کرنے لگا ۔
۴۔ شامتِ اعمال 
کروڑہا روپیوں کافراڈ ہوچکاتھا۔ پھرتوجیسے اسکام کی جھڑی سی لگ گئی۔ زندگی کے 10سے زائد میدانوں میں اربوں کھربوں روپئے کے اسکام نکل آئے۔ ہاہاکار مچی گئی۔ یہاں تک کہ ایک
منٹ کے لئے جیسے پورے ملک کی سانس رک گئی۔ ملک کے چھوٹے بڑے کاروباری اپنااپناحساب کرنے اور بینکوں سے پیسہ نکالنے میں لگ گئے۔ حکومت نے یقین دلایاکہ آپ لوگ ایسانہ کریں۔ ہم گیارنٹی دیتے ہیں۔ تب کہیں جاکر معاملہ پوری طرح تھما تو نہیں لیکن بینکوں سے رقم نکالنے کی رفتار میں کمی واقع ہوگئی۔
انتخابات نزدیک تھے۔ یقین تھاکہ برسراقتدار حکومت کی گھر واپسی ہوگی اور اس کوپہلے کی طرح اپوزیشن کی بنچوں پربیٹھنا پڑے گا لیکن جانے کیاہواکہ وہی لوگ اپنی اپنی اقتدار کی کرسیوں پر براجمان رہے۔کسی کی واپسی نہ ہوسکی۔
علم فلکیات جاننے والے ، روحانی عمل سے گزرنے والے ، پیشین گوئی کرنے والے اورایسے ہی دیگر افراد کاماننا تھاکہ اوپر والا سزا دینے پراترآیاہے اور کچھ نہیں ۔ اسی لئے ملک کو لوٹ کر کھانے والے برسراقتدار آئے ہیں۔ دراصل شامت ِ اعمال نے یہ دن دِکھائے ہیں۔ان دِنوں کوبھگتنا توپڑے گاہی۔
۵۔ ناچنے گانے والی 
ناچ گاکر کمالیتی تھی۔ کسی نے کہاکہ اب دنیا آن لائن ہوچکی ہے، تجھے بھی وہیں ناچناگانا چاہیے۔ پھر تو اس نے آن لائن ناچناگانا ، فحش اشارے کرنا شروع کردیا۔ جس کی بدولت ایک عمدہ کاروبار چل پڑا۔ وہ آن لائن کاروبارکے موجدکو دعائیں دیتی ہے کہ مہینے بھر کے ناچ گانے کی کمائی وہ تین چار دن کی شوٹنگ میں کمالیتی ہے۔ اس کے ریلز دنیا بھر میں دیکھے اور سراہے جاتے ہیںلیکن کبھی کبھی دوایک فحش کمنٹ ایسے ہوتے ہیں کہ اس کو لگتاہے میری یہ کمائی غلط ہے۔ پھر دِ ل کو سمجھالیتی ہے کہ مجھے فحش کمنٹ کرنے والا کون سااپنے باپ کی اولاد ہوگا؟وہ کوئی فحش مزاج ماں کی اولاد ہی تو ہوگاجس کے صحیح باپ کاپتہ اسکی ماں ہی جانتی ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے