عبد الرحیم امینی
سابق پرنسپل دارالہدیٰ یوسف پور، سدھارتھ نگر
دیکھتے ہی دیکھتے کریم کے دونوں لڑکے بڑے ہو گۓ جاوید دسویں جماعت میں فیل ہو کر گاؤں کے اوباش نوجوانوں کے ساتھ بمبئی چل گیا اور کریم کے سپنوں کا شیش محل چکنا چور ہو گر رہ گیا چھوٹا جمیل لشتم پشتم انٹر میڈیٹ پاس ہو گیا آگے تعلیم کے لۓ کسی قیمت پر راضی نہیں ہوا کریم مایوس ہو گیا اور اس کے سارے خواب بکھر کر رہ گۓ ۔
جاوید کے ابو ! مریم بالغہ ہو چکی ہے بیس سال پار کرنے والی ہے وقت گزر تے دیر نہیں لگتی فلانیہ کی بیٹی نے پورے گاؤں کی ناک کاٹ دی ہے کو ئ رشتہ دیکھو یہ سنتے ہی کریم تفکرات کے بیابان میں گم سم ہو کر رہ گیا ۔
سکینہ!وہ تمھاری بہن کا بیٹا اسلم کیسا رہے گا ؟شریف ،سنجیدہ اپنے کام سے کام رکھنے والا ہے ۔جاوید کے ابو میں اس حسن انتخاب پر آپ کو داد دیتی ہوں ۔
بات آگے بڑھی دن کی تعیین ہو ئ اور دھوم دھام سے مریم کی شادی ہو گئ ۔
کریم جاوید کے لۓ قریب کے چوراہے پر کسی دکان کی تلاش میں تھا کہ یہیں کار وبار کریگا ساتھ میں رہ کر رشتے ناطے کی دیکھ ریکھ کے ساتھ میرا دست راست بنے گا ۔
جاوید بیٹے ! تمھارے ابو نے تمھارے لیے ایک دکان رینٹ پر لے لی ہے اب کام کا انتخاب تمہیں کرنا ہے ۔ اوہ امی مجھے یہاں کچھ نہیں کرنا ہے میں اپنے مستقبل کی تلاش میں ممبئی جانا چاہتا ہوں آپ ابا حضور کو سمجھائے کہ یہاں سے کچھ ہو نے جانے والا نہیں ۔سکینہ پھٹی نگاہوں سے جاوید کو دیکھتی رہ گئ جیسے اس کا دل ہی بیٹھ گیا ہو۔ھزار فہمایش کے با وصف جاوید نہیں مانا اور ممبئی چلا گیا ۔
سکینہ دیکھ رہی ہو بال کنی تیزی کے ساتھ سفید ہو رہے ہیں اور تمہارے چہرے سے بھی جھریاں جھانک رہی ہیں
سفینہ حیات ساحل زندگی کی طرف کس برق رفتاری کے ساتھ بڑھتا چلا جارہا ہے اور ذمہ داریاں ہیں جو پیچھا نہیں چھوڑ رہی ہیں جاوید اور جمیل کی شادی بھی ہونی ہے اور ان دونوں نے آج تک دمڑی کا تعاون نہیں کیا
اس طرح ان دونوں کو چھٹیرا بھی تو نہیں چھوڑا جا سکتا کہیں یہ الٹا سیدھا کر بیٹھے سماج میں بیٹھنے کے قابل نہیں رہ جاؤں گا۔
بات تو صحیح ہے معقول رشتے مل بھی گۓ اخراجات کہاں سے آینگے ان دونوں سے تو کوئ توقع نہیں سکینہ کی گفتگو سے مایوسی ٹپک رہی تھی جیسے وہ اندر سے بری طرح ٹوٹ چکی ہو اور کریم کے بجھے ہوۓ چہرے پر نظریں جما نہیں پاتی ۔وہ روڈ پر جوہماری زمین ہے سوچتا ہوں اسی کو نکال کر شادی کے اس بار گراں سے نجات حاصل کر لوں ۔کریم کے لہجے میں اعتماد کے ساتھ ایک حسرت بھی تھی اور اس کے علاوہ کو ئ چارہ بھی تو نہیں تھا ۔
کریم خوددار آدمی تھا سماج میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا کبھی کسی کے سامنے اپنے اندر کی کیفیات کو رسوا نہیں ہونے دیا رشتوں کی لائن لگ گئ زمین کی فروخت سے شادی کے مصارف پورے ہو گۓ ایک خرچے سے دونوں شادیاں نکل گئیں اس میں کریم کے جیب کی تنگی ایک بڑی وجہ تھی۔ بہوؤں سے گھر آباد ہو گیا کریم اور سکینہ کو جیسے بہشت بریں مل گئ ہو سال ہفتے کی طرح گذر گیا ۔
ناشتے کی میز پر جاوید اور جمیل دونوں بیٹھے ہوۓ تھے جاوید نے ہکلاتے ہوۓ کہا ابا حضور آپ کو اعتراض نہ ہو تو میں ممبئی چلا جاؤں آخر کب تک آپکی روٹیاں توڑتا رہونگا آخر میرا بھی تو کچھ فرض بنتا ہے۔ کریم جیسے سکتے میں آگیا ہو ٹھنڈھی سانس لیتے ہوۓبولا۔
جاوید! اب میری صحت پہلی جیسی نہیں رہی تم بڑے ہو میری اور سکینہ کی خواہش ہے تم گھر ہی پر رہو اور یہیں کچھ کرو ہم دونوں کو سہارے کی ضرورت ہے ۔
امی جان آپ ہی بتائیں یہاں کیا کیا سکتا ہے ابا کی بات میری سمجھ سے پرے ہے ،، اور رقیہ کے بارے میں کیا سوچا ہے شاید وہ بھی تمہارے ساتھ جائیگی ۔جاوید نے سر جھکا لیا جس کا مفہوم آسانی کے ساتھ سمجھا جا سکتا ہے ۔
جاوید اپنی اہلیہ کو لیکر ممبئی چلا گیا جمیل کی بیوی شبنم کو بھی ساس ،سسرکی خدمت گراں گزرنے لگی بالآخر وہ دونوں بھی چلے گۓ ۔
کریم کا آباد گھر اجڑ گیا اور اسے اندر سے کو ئ چیز کھاۓ جارہی تھی صحت دن بدن گرنے لگی سکینہ بھی کھوئ کھوئ
سی رہنے لگی بیٹی مسلسل کھوج خبر لیتی رہی بچے فون کے جواب میں اپنی خیریت بتاتے بہوویں روزی روٹی کی شکایتیں کرتیں روح افزا خبروں کے لۓ جیسے یہ دونوں ترس گۓ ہوں ۔
جمعرات کا دن سکینہ کے لئے قیامت صغری بن کر آیا کریم پر دل کا دورہ دورہ پڑا سکینہ کے رونے کی آواز سن کر پاس پڑوس کے لوگ جمع ہو گئے پڑوسنیں تسلی دینے لگیں سکینہ بہن پریشان نہ ہوں بیٹے اور بہوویں نہیں تو کیا ہوا ہم تو ہیں ایمبولینس جب تک آتی بیٹی داماد پہونچ گۓ اور ساری ذمہداریاں اٹھاتے ہوۓ ہاسپٹلائج کر دیا گیا پڑوسی سلیم نے پوچھا بیٹے ! پیسے کا کو ئ نہیں مسلہ نہیں جتنی بھی ضرورت ہو بولو میں ہوں۔ اسلم نے شکریہ ادا کیا اور کہا یہ میرے صرف سسر نہیں خالو بھی ہیں اور خالو باپ کے درجے میں ہو تے ہیں میں انکے بیٹوں کی طرح بے وفا نہیں ہوں ۔
لمحہ بلمحہ کریم کی حالت بگڑتی گئ اسلم نے اپنے باپ شکور کو خبر دی جو ان دنوں ممبئی میں تھے بہن نے بھائیوں کو مطلع کیا دس بجے رات میں دوبارہ اٹیک آیا
یہ پہلے سے زیادہ شدید تھا ڈاکٹروں کی ہزار کوششوں کے با وصف کریم جانبر نہیں ہو سکے اور بیٹوں سے آنکھ کی ٹھنڈک بس آرزو بن کر رہ گئ۔
اسلم نے اپنے باپ کو وفات کی الم ناک خبر بتائ اور شاید بہن نے بھائیوں کو اطلاع دی آنا فانا پاس پڑوس گاؤں محلے کے لوگ اکھٹا ہو گۓ اس بھیڑ میں سکینہ کی نگاہیں بھی کسی کو ڈھونڈ رہی تھیں لیکن وہ نظر نہیں آرہے تھے ۔
ہیلو خالو! ابا کا انتقال ہو گیا ہے جاوید کی آواز رندھی ہو ئ تھی بغل سے جمیل کے رونے کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی ،،
معلوم ہے بعد نماز جمعہ جنازہ ہے اسلم نے جہاز سے پانچ ٹکٹوں کا بن وبست کر دیا ہے رات تین بجے کی پرواز ہے تم چارو ایر پورٹ پہونچو وہیں ملاقات ہو گی ۔
بہن کو جیسے وقت ملتا بھائیوں کو فون کرتی ایر پورٹ پہونچ گۓ ؟ کتنے بجے جہاز لینڈ کریگا ؟ وغیرہ وغیرہ ۔
رات جیسے تیسے کٹی صبح ہوتے ہی خویش و اقارب کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا گھر میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی اگر نہیں تھے تو بس وہ لوگ جن کے لۓ کریم نے پوری زندگی کھپا دی تھی سب کی زباں پر جاوید اور جمیل کی وفا کا چرچا تھا ۔
بھیا کہاں پہونچے ؟ بہن کے لہجے میں انتظار کے ساتھ بے صبری بھی تھی اور عزیزوں کے جملے تیر ونشتر بن کے اس کے سینے کو چھلنی کر رہے تھے ۔
بس دوگھنٹے اور لگنگے ابھی تو گیارہ بجے ہیں وقت سے پہلے پہونچ جائیں گے ۔
جمعہ کے بعد اچانک موسم کا تیور بدلا پچھم سے کا لی گھٹا اٹھی ایمبولینس ڈرائیور گھبراہٹ میں راستہ بھٹک گیا اور ادھر موسم کے مزاج نے اعزہ و اقارب کو ہواس باختہ کر دیاطے پایا کہ اب کسی کا انتظار موجب طوالت ہے جنازہ ہوا اور نم آنکھوں سے کریم کو سپرد خاک کر دیا گیا خیرت ہو ئ بوندا باندی پر موسم نارمل ہو گیا مٹی سے لوٹتے ہوۓ کسی منچلے نے گن گنایا
بڑھی نماز جنازہ کی میری غیروں نے
مرے تھے جن کے لۓ وہ رہے وضو کرتے
لوگ جا چکے تھے ایمبولینس پہونچا بہوویں چیختی چلاتی ہو ئ باہر نکلیں بیٹے بھی قیدیوں کی طرح سر جھکائے ماں کے سامنے کھڑے تھے ماں نے کچھ نہیں کہا صرف اتنا بولیں ،،اب آۓ ہو کیا فائدہ ،،؟
