محمدیوسف رحیم بیدری
بیدر، کرناٹک
۱۔ آمین
’’شرک جس قدر بھی دندناتا پھرے اس کا وجود مکڑی کے جالے کی طرح ہوتاہے ‘‘ میں نے کہاتو پنڈت جی کو غصہ آگیالیکن وہ پنڈت ہی کیاجو غصہ کو ضبط نہ کرلے۔ انھوں نے اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے پینترے بازی کی اور کہا’’ ملاجی ، ہم کہاں شرک کرتے ہیں۔ ہم بھی آپ ہی کی طرح ایک خدا کی پوجا کرتے ہیں ‘‘
میں ان کے مکرکو سمجھ گیا۔ میں نے کہا’’سچ کہتے ہیں آپ پنڈت جی لیکن یہ ضرور بتائیں کہ پھر 33کروڑ سے زائد خداؤ ں کاہمارا دیش کیوں ہے ؟‘‘
پنڈت جی مہان آدمی تھے ۔ ان کی باتیں نرالی ہوتی تھیں اسی لئے لوگ انھیں دلچسپی سے سنتے تھے۔ انھوں نے کہا’’ ہم تو آستک ہیں ناستک نہیں۔ اور ہم ایک خدا کومانتے ہیں۔ جو لوگ تین خدا یا 33کروڑ خداؤں کو مانتے ہیں ، ان میں ہم شامل نہیں ہیں ‘‘
صاف مکرجانے سے کیاہوسکتاہے۔ میں نے کہا’’پنڈت جی ، اللہ آپ کو ہدایت دے ‘‘ انھوں نے اونچی آواز میں کہا’’مجھے اور آپ کو بھی‘‘ان کی دعا کی نیت کیاتھی میںنہیں جانتاتھالیکن میں نے صدق ِ دل سے کہا’’آمین‘‘
۲۔ قبضہ قبضہ ہوتاہے جیت نہیں
افروز جانی بولا ’’کبھی فصیل بند شہر سے باہر بھی نکل کردیکھو، کہ شہر کس طرف جارہاہے ؟‘‘ اس کی بات سبھی کی سمجھ میں آرہی تھی۔ رؤف کھوسٹ بولا ’’ جھنڈے لگاکر دندناتے پھرتے ہوئے خوشی منانے والے جانتے ہیں کہ قبضہ قبضہ ہوتاہے جیت نہیں ، اور اس قبضے کاسچائی سے کچھ لینا دینا نہیں ہے‘‘
سنتوش برامان گیا۔ اس نے کہا’’یار، سچ ہی تو ہے کہ 500سال سے رام مندر پر قبضہ کرکے مسلمان بیٹھ گئے تھے‘‘ عبداللہ سونف والا بولا ’’سنتوش تم سے کس نے کہاکہ مسلمان رام مندر پر 500سال سے قبضہ کرکے بیٹھ گئے تھے۔اگر ایساہوتاتو سپریم کورٹ یہ بات ضرور کہتی۔ لیکن عدالت عظمی ٰ نے کہاکہ ایساکوئی ثبوت نہیں ملاکہ رام مندر توڑ کر500سال قبل بابری مسجد تعمیر کی گئی ہو‘‘
سنتوش خاموش ہوگیا۔ افرو زجانی دوبارہ بولا’’کچھ بھی ہو، ہندوبھائی خوش ہیں ‘‘ رؤف کھوسٹ نے بھی دوبارہ کہا’’انصاف پسند ہندوبھائی 22؍جنوری کے پران پرتشٹھا میں شامل نہیں ہیں۔اگر ہیں بھی تو ان کادِل ہی جانتاہے کہ وہ کس دِل سے شریک ہوئے ہیں یاکن لوگوں کے شر سے بچنے کے لئے شامل ہوئے ہیں ‘‘اس کے بعد دوسری گفتگو شروع ہوگئی ۔ مقامی رکن اسمبلی پارٹی چھوڑ کر کانگریس میں کیوں شامل ہورہاہے۔ اس پر بات شروع ہوگئی تھی۔
۳۔ اپنی بات کرنے والے
شری شری روی شنکرجی کاعرصہ بعد بیان اردو اخبارات میں شائع دیکھ کر فاروق جائسی نے مجھ سے کہا’’شری شری روی شنکرجی جب کبھی اردو اخبارات کی طرف رخ کرتے ہیں ان کی کوئی غرض
ضرور ہوتی ہے ، جس میں مسلمانوں کابھلا ہر گز نہیں ہوسکتا‘‘ فاروق جائسی سے اخبار لے کر میں نے شنکرجی کابیان پڑھا۔انھوں نے آدھے ادھورے مندر میں ’’پران پرتشٹھا‘‘ پراپنابیان دیتے ہوئے کہاتھا کہ ’’بھگوان رام نے خودتمل ناڈو کے رامیشورم میں ایک شیولنگ کو مقدس کیاتھا۔ اس وقت وہاں کوئی مندر نہیں تھا۔ اور مندر بنانے کا وقت نہیں تھا۔ انہوں نے پران پرتشٹھا کیااور بعد میں مندربنایاگیا۔ ایک اور مثال انھوں نے دیتے ہوئے کہاتھاکہ مدورائی مندر اور تروپتی بالاجی مندر بھی شروع میں چھوٹے تھے جنہیں بعد میں بادشاہوں نے بنایاتھا۔ مجھے روی شنکر جی کی وہ بات جانے کیوں اچھی لگی ،جو انھوں نے بیان کے آخر میں کہی تھی’’ایک مثالی معاشرے کو ہمیشہ ’’رام راج‘‘ کے طورپربیان کیاجاتاہے۔ جہاں سب برابر ہوں ، انصاف تک سب کی رسائی ہو۔ ہرکوئی خوش اور خوشحال ہو‘ ‘
میری توہنسی ہی چھوٹ گئی۔ کیا شری شری روی شنکر جی سمجھتے ہیں کہ ہندوستان کے آئین میں سب برابر نہیں ہیں؟جہاں تک بات انصاف تک سب کی رسائی کی ہے ۔ یہ بات تو بابری مسجد کے فیصلے میں مسلمانوں کوسمجھ میں آگئی کہ عدالت نے مان لیا کہ بابری مسجد رام مندر کو توڑ کرنہیں بنائی گئی اس کے باوجودعزت مآب جج نے فیصلہ رام مندرحامیوں کے حق میں سنادیا۔ اب رہ گئی خوش اورخوشحال رہنے کی بات ۔ پولیس ، پیراملٹری فورس اور فوج کے علاوہ خفیہ پولیس کے ہوتے ہوئے رام راجیہ کی بات کرنے والے خودڈنڈا اور طمنچہ لے کر گھوم رہے ہوں تو سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ وہ کون سا’’رام راج‘‘ قائم کریں گے یہ ابھی سے عیاں ہے۔ خود روی شنکر بھی اچھے سے واقف ہوں گے ‘‘
فاروق جائسی کی سوئی وہیں پر اٹکی ہوئی تھی اور وہ کہہ رہاتھاکہ’’ عرصہ بعد اردواخبارات میں روی شنکرجی پدھارے ہیں تو کچھ دن تک ان کی باتیں ہندوستانی مسلمانوں کوسننی ہوں گی۔اور وہ اپناہی کریں گے ، مسلمانوں کی ایک نہیں سنیں گے ‘‘ ۔
۴۔ مسجد اور وہ
وہ بہت پریشان تھا۔ دوطرح کی پریشانی تھی اس کو۔ ایک یہ کہ ہندوستان میں میرااور میری نسلوں کاکیاہوگا؟ کیامیراایمان محفوظ رہے گا؟دوسری پریشانی یہ تھی کہ موت کے بعد میراانجام کیاہوگا؟میں نے شرک کے خلاف کوئی لڑائی نہیں لڑی۔ تماشائی تھا سب کچھ دیکھتارہا۔ اس خوفناک لڑائی میں میراکوئی رول نہیں تھا۔ پانچ سوسالہ مسجد ڈھادی گئی لیکن میں کچھ نہ کرسکا۔ اور پھر کوئی راہ بتلانے والا بھی سامنے نہیں تھا۔ سبھی اپنے اپنے گھروں، دفاتر اور کاروبار میں لگے ہوئے تھے یاپھر وہ مذہبی اجتماع اور سیاسی کنونشن کیاکرتے تھے۔وہ پھوٹ پھوٹ کر روپڑا۔اس کی آنکھوں کے ان آنسوؤں سے اس کی شریک حیات اور نصف بہتر بھی واقف نہیں ہے۔
عجیب مزاج کاآدمی ہے۔ آج 22/جنوری ہے اور وہ آثارقدیمہ کی اجڑی ہوئی ایک مسجد میں تنہابیٹھا رورہاہے۔
۵۔ اسماعیل پھوپھا
نوجوان بہت زیادہ ہی موٹرسائیکلوں پرراؤنڈ لگارہے تھے ۔ تب ادھیڑ عمر اسماعیل پھوپھا نے ہندونوجوانوں کو روک کرکہا’’ نوجوانو! جوانی اندھی نہیں ہوتی اور جو اندھی ہوتی ہے اس کو جوانی نہیں بلکہ جوانی کانشہ کہتے ہیں‘‘ موٹرسائیکلوں پر بیٹھے ہوئے نوجوان اسماعیل پھوپھا کو ٹکر ٹکر دیکھے جارہے تھے اور ان کی بات سن رہے تھے۔ پھوپھا نے کہا’’پران پرتشٹھا کی خوشی اپنی جگہ ، لیکن مندر تعمیر ہونے کی آڑ میں دہشت پھیلانے کی کوشش کی تو سمجھ لینا کہ ہمارے نوجوان بھی خاموش نہیں بیٹھے ہیں ، ان کے پاس بھی ٹووہیلر ہیں ،وہ بھی نوجوان ہیں، انہیں بھی گاڑیاں تیز بھگانا آتاہے۔ وہ صرف ہمارے روکنے سے رکے ہوئے ہیں ، سمجھے نا‘‘
نوجوان کے درمیان کھڑا ان کااپنا ادھیڑ عمر آدمی بولا’’پھوپھا آپ کی بات سہی ہے ۔ میں ہوں ان نوجوانوں کے ساتھ ، آپ کچھ فکر نہ کریں، ایساکچھ نہیں ہوگا، نوجوان ہیں ناچتے گاتے ہیں ، پھر کام پر چلے جائیں گے ‘‘ پھر وہ نوجوان رام کی جئے کے نعرے لگاتے ہوئے لوٹ گئے۔ پھوپھا کا غصہ ابھی تھما نہیں تھا۔
