محمدیوسف رحیم بیدری،
بیدر، کرناٹک۔
۱۔ تسلط 
تاریخ کے ایک موڑ پر ان سے شدت سے مطالبہ کیاگیاکہ بہانے یاکسی منت کے حوالے سے نیکی مت کرو ۔ نیکی تو عزم اور حوصلے سے کی جاتی ہے لہٰذا اٹھواوراسلام پر چلنے کے لئے کمر بستہ ہوجاؤ ۔تاریخ کاوہ باب ہمیں شرمندہ کرتا ہے کہ نیکی کرنے کوئی نہیں اُٹھا۔۔۔۔۔۔ اگرکاہلی ، تساہلی یا غلطی ہماری ہی تھی توپھر مشرکین کے غلبہ اورتسلط پررونادھونا بھی نہیں چاہیے۔ نیکی کرنے اب تو اُٹھ کھڑاہونا چاہیے۔
۲۔ شہرت مخالف 
وہ اپنی شہرت سے ڈرتارہتاہے۔ اس کو اپنی شہرت بالکل پسند نہیں ہے۔ آلسی آدمی ہے نا، اپنے چاہنے والوں کو وقت دینے کے لئے اس کے پاس ٹائم نہیں ہے۔ اور پھریہ بات بھی ہے کہ اپنی عادتیں اور آرام کون قربان کرے ؟
۳۔ عقلمندی 
وہ ہم دوستوں کاغیراعلانیہ لیڈرتھا۔وہ اپنے سارے پروگرام ہمیں بتادیتاتھا، 25سال گزار دئے ہم نے اُس کی پرخلوص قیادت میں۔ پھر پتہ چلاکہ کیاچھپاناہے وہ بھی اس کوآتاہے ۔جس کامظاہرہ خفیہ طریقے سے اس نے کئی بار کیاہے، اور ہمیں اس مظاہرے کی بھنک تک لگنے نہیں دی۔  تب ہم نیند سے جاگے اور ہم نے بھی آپسی دوستی کو چھپانے کافیصلہ کرلیا۔ایسے ہی سرسری ملنے لگے۔
گھروں پرایک دوسرے کی دعوت کئے ہوئے عرصہ گزرچکاہے۔اتنا ہی نہیں شہر میں جس کسی نکڑیا مرکزی بازار میں ایک دوسرے پر نظر پڑجائے تو نظر بچا کر گزرجانے کو بھی اپنا شیوہ بنالیاگیاہے۔ شاید عقل تجربہ کے بعد آتی ہے ،سوعقل آگئی اور عقلمندی کا مظاہرہ جاری ہے۔آ پ نے بھی ہماری موجودہ عقلمندی کونوٹ کیا ہوگا
۴۔ شہرمیں ٹھیکیدار رہتاہے 
’’میں آپ کی دعوتوں میں اسلئے نہیں آتاکہ وہاں شہر کاسب سے بڑا ٹھیکیدار بھی مدعو ہوتاہے‘‘
’’شہرکے ٹھیکیدار سے آپ کی دشمنی ہے کیا؟‘‘
’’ وہ اللہ اور رسول کادشمن ہے ، سودی کاروبار میں ملوث ہے ‘‘
’’پھرمولوی ملا لوگ کیوں اس ٹھیکیدار کے ساتھ ٹوئٹی فور بائی سیون نظر آتے ہیں ؟‘‘
’’مجھے نہیں معلوم ‘‘
’’میں بتاتاہوں ، وہ مولوی ملااس کو سمجھاتے ہیں کہ سودی کاروبار چھوڑ دے ، لہٰذا تم بھی اس کے ساتھ دوستی کرلو اور اس کو سمجھاؤ کہ وہ غلط کررہاہے ، سودی کاروبار چھوڑ کر کوئی درست کام شروع کردے‘‘
’’ایسا ممکن نہیں ہے ‘‘
’’اچھا۔۔۔۔ایک کام کرو، جب تم ٹھیکیدار کابہانہ کرکے دعوت میں نہیں آتے ہو تو پھر تمہیں شہر میں بھی نہیں رہناچاہیے کیوں کہ شہر میں ٹھیکیدار رہتاہے‘‘
۵۔ ہزارموضوع گفتگو
ادب کے کئی ایک موضوعات پرگفتگو ہورہی تھی’’ ادب میں تحریر کاحصہ‘‘ عنوان پرگفتگو جب چوٹی پر پہنچی تو ایک ماہرِ ادب نے کہا’’اشرف علی کو اشرفعلی، یوسف کو عسوف ،رخسانہ میم کو رخسا نمیم لکھناسہو اً نہیں ہوتا ، یہ سب شعور کے ساتھ کیاجاتاہے ۔ تحریر نمائندہ ہوتی ہے فکر کی ، شخصیت کی اور ہمارے جذبات کی۔ دل میں جب بغض و عناد بھراہوتووہ باہر ضرورآئے گا۔ ادیب اورقلمکار کا بغض اس کی تحریر سے جھلکتاہے‘‘سبھی نے اتفاق کیا۔
  ادب میں ایک بڑی تعداد میں خواتین کی آمدکے بعد کیا کچھ ہوا؟ اس موضوع پر گفتگو شروع ہوئی توسبھی دلچسپی دکھانے لگے۔ کسی نے کچھ کہا، کسی نے کچھ ۔ کوئی بولا ’’ادب سکھانااَدب کی پہلی ذمہ داری ہے لیکن عورتوں کی بڑی تعداد میں ادب میں آمد کے بعدہماراادب دراصل سامانِ تعیش فراہم کرنے کاپلیٹ فارم بنتاجارہاہے ‘‘
مولوی فاروق بولے ’’ اس کاسبب دوسرابھی ہوسکتاہے لیکن میرے خیال میں حق دار کو حق نہیں پہنچانے کے سبب یہ فساد پیداہواہے ۔ کوئی اپنے حق سے محروم ادبی شخص ہمارے درمیان ہے ، جواپنابدلہ لے  رہاہے ورنہ پہلے ادب کی صورتحال ایسی نہیں تھی، اس کو تلاش کریں جو ادب کی پسندیدہ صنف غزل کے چلتے پھرتے مرکزی موضوع کو خود غزل لکھ کردیتاہے ، آج ہانڈی چولہا چھوڑ کر غزل خود غزل لکھنے لگ گئی ہے، اسی کو شاید الٹی گنگابہنا کہتے ہیں ‘‘
کوئی بھی اس محروم ادبی شخص(یااشخاص) کوتلاشنے کے لئے تیارنہیں ہواتو گفتگو ادب کوچھوڑ کر مندر کی زعفرانی وفسطائی سیاست کی طرف مڑگئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے