ہر سال کی طرح امسال بھی سال نو و کہنہ کی آمد و رفت کے موقع پر ۳۱ دسمبر ۲۰۲۳ کو ادارہ قلمکار پریشدُ، گورکھپور کی جانب سے الٰہی باغ میں واقع دفتر میں روایتی طور پر ایک شعری بزم کا انعقاد کیا گیا جس میں تمحید عالم کی صدارت میں نوجوان ناظمِ مشاعرہ ڈاکٹر دلشاد گورکھپوری نے نقابت کی۔
بعدہ اردو ادب پر روشنی ڈالتے ہوٸے صدرِ محترم تمحید عالم صاحب نے نوجوانوں سے اردو ادب کو سمجھنے کی اردو پڑھنے کی تاکید کی تاکہ جب ہم آج اردو کو زندہ رکھیں گے تو اس کا بھر پور فاٸدہ ہماری آنے والی نٸی نسل کو پہونچے گا۔ اپنے صدارتی خطبے میں کسی شاعر کا شعر ایسے موقع پر آپ نے سنایا:

مسلماں سکھ نہ ہندو بولتا ہے

سروں پر چڑھ کے جادو بولتا ہے

ابھی تہذیب زندہ ہے ہماری

ابھی یہ گاٶں اردو بولتا ہے

اس خاص موقع پر ادارہ کا بانی استاد شاعر شمیم شہزاد صاحب نے اردو اخبار پر بہت زور دیا کہ ہر گھر میں اردو اخبار لینا چاہٸیے تاکہ ہماری نسل کو اردو کا بھر پور فاٸدہ پہونچ سکے۔
بہترین نظامت کرتے ہوٸے ڈاکٹر دلشاد گورکھپوری نے ایک اپیل کی ایسی ادبی وشعری نشست ہر جگہ منعقد ہونی چاہٸیے اس نٸی نسل کے شعرإ کو بڑی تقویت ملتی ہے بہت کچھ اساتذہ کے کلام سے سیکنے کو ملتا ہے ایسی ادبی نشستوں تمام اساتذہ کے اچھے اچھ اشعار سننے کو ملتے ہیں اس کا سب سے بڑا فاٸدہ یہ ہے کہ اردو کا لگاٶ نٸ نسل کے دلوں میں رقص کرتا ہے اور اردو ادب کی جو میٹھاس ہے اس سے پوری دنیا تک اپنی بات آسانی سے پہونچ جاتی ہے۔

گورکھپور کے بہترین نعتیہ گو شاعر ارشاد نظامی کے نعتیہ کلام سے شعری نشست کا مقدس آغاز ہونے کے بعد نٸی نسل بہترین ترجمانی حالات کو مد نظر رکھنے والا شاعر عمران بشر کے پر جوش اشعار نے مزید رونق بخشی۔ جہاں توفیق ساحر کی دلکش آواز نے اپنا رنگ خوب جمایا وہیں سب کے دلوں پر رج کرنے والا وہ شاعر جس نے اپنی ایک الگ شناخت مشاعروں کی دنیا میں بنایا ہے رئیس انور نے اپنے مخصوص ترنم سے ایک سحر آنگیں کیفیت طاری کردی۔ نسیم سلیم پوری کی غزلیہ اشعار سے گہرا اثر مرتب ہوا۔ طفیل احمد خاکیؔ چک قاضی نظامی کی نظموں نے بھی بے انتہا داد و تحسین وصول کئے۔ شمیم شہزاد کی استادانہ شعری صلاحیت کا اندازہ تو نہیں لگایا جا سکتا لیکن انکا ادب میں ایک الگ مقام ہے ان کی شاعری نے اس بزم کو کمال کی بلندی عطا کی۔ نشست میں سنائے گئے چنندہ اشعار حسب ذیل ہیں:

جس طرح ارشاد سب پر مہرباں ہے میرا رب 
ویسے ہی مشفق ہیں محبوبِ خدا سب کے لۓ 

(ارشاد نظامی)

کیا نیا سال کیا پرانا سال،
جیسے تھا ویسے ہے ہمارا سال۔

( عمران بشر)

چاندنی رات آٸ مگر ،
روشنی کو زمیں کھا گٸ۔
(یا سین علی یاسین)

زندگی لوگ جس کو کہتے ہیں،
ہے خزاں میں میں کبھی بہار میں ہے۔
( توفیق ساحر)

کب تلک تم سے کرے چُھپ کے محبت انور ،
پیار خوشبو ہے ہواٶں میں بکھر جانے دے ۔

(رٸیس انور)

سالِ نو تجھ سے دل لرزتا ہے،
سال پچھلا بہت خراپ گیا۔
(ڈاکٹر دلشاد گورکھپوری)

ہر گام نسیم اٹھ کر طوفان ڈراٸیں گے
منزل کی طرف لیکن بے خوف و خطر جانا ۔

(نسیم سلیم پوری)

مایوسیوں کی آگ بجھاتی ہے جنوری
امید کا چراغ جلاتی ہے جنوری ۔
(طفیل خاکی)

بزمِ شعر و سخن بلاۓ مگر ،
مجھ سے راضی نہیں غزل میری۔
(شمیم شہزاد)

ہر طلبگار کو محنت کا صلہ ملتا ہے
بت تو کیا چیز ہے ڈھونڈو تو خدا ملتا ہے ۔

(عالم گورکھپوری)

اس خاص موقع پر سب نے ایک دوسرے کو نٸے سال کی مبارکبادی دی جس میں خاص طور سے مظہر انصاری ۔راجو رومن ۔قدیر احمد وغیرہ شرکت کی ۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے