محمدیوسف رحیم بیدری
بیدر، کرناٹک
۱۔ غم کا ہلکا ہونا
پرندے چہچہار ہے تھے۔ سورج بھی نکل آیاتھا۔ زندگی کے بوجھل قدم تیز ہوگئے کیوں کہ غم ہلکاہوگیاتھا ۔
پھرتو چہرے سارے مسکان سے اٹ گئے۔
۲۔ ہمیں رہنے دِیا جائے 
ٹیکسی ڈرائیورنے جب کرایہ کم قرار دیاتو میں ٹیکسی میں بیٹھ گیا۔ باندرہ ایسٹ پہنچ کر کرایہ اداکرتے ہوئے میں نے پوچھا’’ کہاں کے ہو؟‘‘چھوٹی سی داڑھی اس کے چہرے پرتھی ، ڈرائیور نے جواب دیا’’بہارسے ہوں‘‘ میں نے کہا’’اچھاتو بہاری ہو۔ یہ تم کرایہ کم کیوں لے رہے ہو؟‘‘ وہ کچھ پس وپیش میں پڑاہوانظر آیاجیسے سوچ رہاہوکہ جواب دیاجائے یانہیں؟پھر اس نے کہا’’صاحب ! ہم ممبئی کے نہیں ہیں ، باہر کے ہیں۔ پارلیمنٹ کاالیکشن سرپرہے اورہمارے خلاف بیان بازی شروع ہوگئی ہے کہ باہر کے لوگوں کو ممبئی سے چلاجاناچاہیے۔ اسی لئے ہم کرایہ کم لے رہے ہیں تاکہ یہاں کی عوام ہم سے نفرت نہ کرے، اور ہمیں یہاں رہنے دے ‘‘ میں اسے ترحم بھری نگاہوں سے دیکھے جارہاتھا۔ اس نے پوچھا’’آپ ممبئی ہی کے ہیںنا ؟‘‘ میں نے کہا’’شولاپور(مہاراشٹر) کاہوں ‘‘ وہ بولا’’ وہی ناکہ آپ مہاراشٹر کے ہیں اور ہم بہار کے ۔۔۔۔ہم آپ سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمیں ممبئی میں رہنے میں مدد کریں ، ہم یہاں سے جائیں گے تو پھر ہمارے بچے پڑھ نہیں سکیں گے۔ پالیٹیکل پارٹیز یا سیاسی لیڈر جوکچھ کہہ رہے ہیں اس کاجواب مہاراشٹر کی عوام کودیناہوگا‘‘ اس کی بے بسی کو محسوس کرکے جانے لگاتو وہ بولا’’صاحب ، ہمیں یہاں رہنے دیاجائے ‘‘
میں آخر اس کے لئے کیاکرسکتاتھا؟
۳۔ تھوڑا دن تھوڑی رات 
وہ باہر سے جلدی جلدی گھر میں داخل ہوا اور اپنی ماں سے کہنے لگا’’مجھے رقم ایک دم کیوں نہیں دی جارہی ہے ؟تھوڑا تھوڑا کرکے کیوں دی جارہی ہے ؟کیا میں قابل بھروسہ نہیں ہوں امی ؟‘‘
ماں نے اپنے لاڈلے کی بے بسی کو محسوس کیا اورمسکراتے ہوئے بولی ’’بیٹا! رقم یکمشت اس لئے نہیں دی جارہی کہ یہ ایک وفاقی اصول ہے۔ تم نے دیکھاہوگاکہ روزہی دن نکل آتاہے اورروزہی شب اُترآتی ہے۔ کوئی سوال نہیں کرتاکہ روزانہ ایک ایک دن اور ایک ایک رات کیوں بھیجی جارہی ہے ؟یہی تو طریقہ ہے۔ اوریہ سب فطری چیزیں ہیں ، فطری چیزوں پرسوال کرنا بے معنی ہوتاہے‘‘
وہ جانے کیوں اپنی ماں سے لپٹ کر زاروقطار رونے لگا۔
۴۔ بندوبست 
اس نے اپنے فرزند کو ایک گندی سی گالی دی اور کہا’’ خون پسینہ بہاکر پیسہ کمایاجاتاہے ۔ اس پیسے کو سنبھال کررکھنا اولاد کا کام ہوتاہے ‘‘
بیٹے نے کہا’’اولاد پیسہ خرچ نہ کرے ، ایساکہیں نہیں ہوتا۔ میں کوئی روبوٹ نہیں ہوں ، انسان ہوں۔ میری بھی خواہشات ہیں اور میں ایک سیٹھ کابیٹاہوں ، آپ کی طرح مزدور کا بیٹانہیں ‘‘
سیٹھ دھرم چند کو مزید غصہ آگیااور انھوں نے اولاد پر گولی چلادی ۔ اہلیہ درمیان میں آگئیں تو وہ بھی گولی سے زخمی ہوگئیں۔ شام تک پتہ چلاکہ بیٹا سچن اور اہلیہ جمنابائی بچ گئی ہیں۔ پولیس نے ان پر کارروائی کرنے کی کوشش کی تو انھوں نے پیسے پھینک کر انہیں خرید لیا۔
پھر کچھ نہ ہوا۔ اب سیٹھ دھرم چند کو خوف اس بات کا ہے کہ سچن صحت مند ہوجائے گاتو باپ سے بدلہ ضرور لے گا۔ اسلئے مجھے اپنابندوبست خود کرنا چاہیے۔انھوں نے اپنے اطراف سیکورٹی کھڑی کرلی ہے۔
۵۔ تحریرمیوزیم 
ایوب اکشر ایک قلمکار تھا۔ اس کی تین ناولوں نے عالمی طورپر شہرت حاصل کرلی تھی۔ ایک ناول میں اس کے لکھے ہوئے یہ جملے انقلابی قرار دئے گئے۔’’صفائی ستھرائی کے معاملے میں پیچھے رہنے والوں کی پیشانی پر تاریخ نے ہمیشہ زوال لکھااور جن کے ہاتھ صاف ستھرے تھے وہی انصاف کی کرسی پربیٹھ کرقلم سے فیصلے لکھنے کافریضہ انجام دے سکے جنہیں انسانی تاریخ کبھی بھول نہیں سکتی‘‘
ان جملوں کو ’’تحریرمیوزیم ‘‘ میں سنہری حرفوں سے لکھ کر باب الداخلہ پر لٹکایاگیاہے۔ہمارے سینئرساتھی جج جب اس میوزیم میں داخل ہوئے ، توباب الداخلہ پر اس تحریر کو پڑھاتو آگے نہیں گئے۔ یہ کہتے ہوئے لوٹ گئے کہ اب ’’تحریر میوزیم‘‘ دیکھنے کی ضرورت نہیں رہی۔
۶۔ ناممکن  
عقیدت بہت تھی اور عقیدہ بھی معقول ہی تھا لیکن اس کے باوجود بھی دربدری سے گزرنے والا علیم اللہ اتنا جانتاتھاکہ اس راہ میں عقیدت کام آتی ہے ناعقیدہ ۔ذاتِ واحدکی مرضی پر منحصر ہے، جو چاہے کرنے دے یا جس چیز کی طرف چاہے ہمارارخ پھیر دے۔ علم کاسرا ہاتھ آسکتاہے لیکن کامیابی کا کوئی سرا سبھی کے ہاتھ لگ جائے ایسا ممکن نہیں ہوتا۔آپ چاہیں مانیں یااوپری سطح کاانداز ہ لگاتے ہوئے نہ مانیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے