دھن گھٹا، سنت کبیر نگر (محمد رضوان ندوی):
موت ایک اٹل حقیقت ہے ،جس کا کوئی منکر نہیں خواہ کسی بھی مذہب و مشرب سے تعلق رکھتا ہو،ہر متنفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور اس عارضی مقام کو چھوڑ کر دائمی آرام گاہ جانا ہے،دنیا میں جینے پر اور آخرت میں مرنے پر پابندی ہے،دنیا میں موت ایسی حقیقت ہے جو بہت سے گناہوں اور غلطیوں سے انسان کی بچاتی ہے، عقل مند ودانا انسان وہی ہے جو موت کو ہمیشہ یاد رکھے اور اپنے نفس کا محاسبہ کرتے ہوئے آئیندہ کی زندگی کے لئے کمر بستہ رہے،دنیا میں کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کے جانے کے بعد ان کی بہت سی یادیں اور ان کی طرز زندگی ذہن ودماغ میں پیوست ہوجاتی ہے،انہیں عبقری اور سادگی اور خلوص کے پیکر عزیز دوست مولانا خورشید اختر قاسمی بھی تھے،
مذکورہ بالا خیالات کا اظہار مولانا محمد حسان ندوی ناظم مدرسہ عربیہ مصباح العلوم جامع مسجد مہولی نے مدرسہ میں مدرسین اور طلباء کے درمیان کیا،مولانا نے کہا کہ مولانا خورشید اختر قاسمی جن کو مرحوم کہتے ہوئے یقین نہیں ہورہا ہے،انہون نے اپنی مختصر زندگی تقوی وخلوص میں رہ کر گزار دی آپ کو قدیم ترین شاہی جامع مسجد قصبہ مگہر کے منصب خطابت پر فائز کیا گیا آپ نے بلا کسی شہرت وریا کے اپنی ذمہ داری انجام دیتے رہے ،کچھ مہینے قبل ایک قضیہ نامرضیہ کے پیش نظر اتنے قدیم ترین مسجد اور تاریخی مسجد کے منصب خطابت سے اپنے کو الگ کرلیا،آپ کی رفتار وگفتار قرآن کی آئینہ دار تھی ،نیچی نگاہ نرم گفتگو شرمیلا پن آپ کا امتیاز تھا،آپ نے جہد مسلسل سے دینی تعلیم وتربیت کے لئے دو ادارے قائم کئے جس میں ایک بچیوں کے لئے جامعہ ام حبیبہ للبنات قصبہ مگہر جو چند سالوں قبل قائم ہوا اور طالبات کی ایک کثیر تعداد جس میں تعلیم حاصل کررہی ہیں اور بخاری شریف تک تعلیم ہورہی ہے،دوسرا بچوں کے لئے تحفیظ کا ارادہ قائم کیا جو مدرسہ عثمان بن عفان لتحفیظ القرآن کے نام سے مشہور ہے ،جس میں کئی درجن حفاظ تیار ہوکر دین کی خدمت کررہے ہیں ،
مولانا محمد حسان ندوی نے کہا کہ آپ کی ذات مثالی اور قابل تقلید ہے،صبح فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد گھر پر پہونچے اہل خانہ سے گفتگو کرتے ہوئے قۓ کی شکایت ہوئی اور گورکھپور لے جاتے وقت راستے میں ہی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی،آپ کے پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے جو ابھی کم عمر ہیں،آپ نے اس دنیا فانی کی تقریبا ٤٩ بہاریں دیکھی،
تعزیت کرنے والوں میں حافظ عبد الطیف مگہر استاذ مدرسہ سراج العلوم کھدرا،مولانا ومفتی محبوب احمد قاسمی صدر مجلس ارشاد المسلمین مہولی ،مولانا محمد مستقیم قاسمی بلرام پوری،ڈاکٹر اطہر حسین رحمانی حقی ،مولانا نیاز احمد مانپوری ،مولانا حسان احمد قاسمی ،حاجی عبد الرحیم،عبد الصمد، عبد العلی،عبد الشفیع ماسٹر محمد یونس،مولانا مبشر حسین ندوی خلیل آباد وغیرہ نے تعزیت پیش کرتے ہوئے مولانا کے لئے ایصال ثواب اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعائیں کی _
