نئی دہلی : 25؍جنوری ٢٠٢٤(پریس ریلیز): 75؍ویں یوم جمہوریہ کی مناسبت سے اقرا انٹرنیشنل اسکول، جیت پور میں نہایت تزک و احتشام کے ساتھ رنگارنگ کلچرل پروگرام کا انعقاد عمل میں آیاجس میں اسکول کے طلبہ و طالبات نے اہمیت و تاثیر سے بھرپورنوع بہ نوع پروگرام پیش کئے۔اس پروگرام میں طلبہ و طالبات کے والدین اور سرپرستوںکے علاوہ علاقے کے عوام و خواص نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور پروگراموں کی دل کھول کر ستائش کی۔
پروگرام کی ابتدا پانچویں کلاس کے طالب علم محمد زید کے تلاوت کلام پاک سے ہوئی جس کا اردو ترجمہ احسن بن عبدالقدیرکلاس پنجم نے پیش کیا اور انگریزی ترجمہ محمد زید درجہ چہارم نے پیش کیا۔آفرین حسین کلاس نہم نے حدیث اور اس کا انگریزی اور اردو ترجمہ پیش کیا۔ اس کے بعد صاعقہ ہدی، رقیہ ارشاد، ادیبہ اور سندس نے اردو، عربی، انگریزی اور ہندی میں بالترتیب تقاریر کیں جن میں حاضرین کو یوم جمہوریہ کی مبارک باد پیش کرنے کے ساتھ ساتھ آئین ہند کی خوبیوں کوبیان کیاگیا ۔اسی طرح ان طالبات میں سے بعض نے اقرا انٹرنیشنل اسکول کے ذریعہ تعلیمی بیداری کے تعلق سے انجام دی جارہی خدمات کو بھی سامعین کے سامنے تفصیل سے پیش کیا جسے حاضرین نے پورے غورو سنجیدگی سے سنا اورادارہ کے سرپرست مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی، ڈائریکٹر مولانا محمداظہر مدنی اور دیگر ذمہ داران کو خراج تحسین پیش کیا۔
بعد ازاں، کے جی کلاس کے ننہے منہے شاہین صفت بچوں نے آزادی ایک نعمت کے عنوان سے اور پہلی کلاس کے طلبہ و طالبات کے گروپ نے ’’اسکول چلیں ہم‘‘ کے عنوان پر خوبصورت پروگرام پیش کیا۔ اسی طرح دانش اینڈ گروپ کے ذریعہ ’’ریلس موجودہ دور کا ناسور‘‘ کے عنوان پر ایک تمثیلیہ بھی پیش کیا گیاجسے حاضرین نے خوب سراہا۔ اسی طرح نرسری کلاس کے بچوں نے بھی انگریزی میں استقبالیہ نظم پڑھی۔بشریٰ اینڈ گروپ نے قومی گیت ’’جن گن من ادھی نایک جئے ہے‘‘ گایا۔ ان تمام متنوع اور بقلموںپروگراموں سے متاثر ہوکر حاضرین نے دل کھول کر طلبہ و طالبات کو داد تحسین پیش کیا اور طلبہ و طالبات کی کامیابی اور بہتر مستقبل کے لئے دعائیں کیں۔
اس پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے اسکول کے ڈائریکٹر مولانا محمد اظہر مدنی حفظہ اللہ نے تمام اہل وطن کو یوم جمہوریہ کی مبارک باد پیش کی اور کہا کہ ہمارے وطن کی مٹی ہی میں آپسی پیارومحبت اورثقافتی یگانگت کا عنصر پایا جاتا ہے،یہی وجہ ہے کہ مختلف مذاہب کے لوگ باہم مل جل کر رہتے ہیں اور کثرت میں وحدت کا مثالی نمونہ پیش کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ دین اسلام وہ مذہب ہے جس نے سب سے پہلے انسانی اخوت و بھائی چارہ اور پرامن اور تکثیری معاشرہ میں پرامن تعایش باہمی کا ہمہ گیر و عالمگیر منشور پیش کیا، اس کی نگاہ میں دہشت گردی اور امن و قانون شکنی مردود و مذموم عمل ہے۔
انہوں نے اپنے خطاب میں وطن عزیز کے سرفروش مجاہدین آزادی اور آئین سازوںکی جدوجہد اور مساعیٔ جمیلہ کا ذکر خیرکرتے ہوئے کہاکہ یقینی طور پر ان معمارانِ وطن ملک کے آئین کوعدل و مساوات کی بنیاد پراس طرح استوار کیا ہے کہ جس میں ہر مذہب و دھرم کے لوگوں کو اپنے اپنے مذاہب کو ماننے اور اس پر عمل کرنے کی آزادی حاصل ہے اور کسی کو کسی خاص فکر یا رائے کو اختیار کرنے کا پابند نہیں کیا گیا ہے۔ہمارا فرض ہے کہ ہم اس عظیم آئین کے تحفظ کے لئے مساعی صرف کریں اور اس پر عمل پیرا ہوں تاکہ وطن عزیز امن و شانتی کے سائے میں روز بروز تعمیروترقی کی نئے نئے منازل طے کرتا رہے، یوم آزادی کا یہی سب سے بڑا پیغام ہے۔
مولانا موصوف نے اسکول کے طلبہ و طالبات کے سرپرستوں اور والدین کواس بات پر ابھارا کہ وہ اپنے نونہالوں کو تعلیم و تربیت سے آراستہ کریں اور کہا کہ اگرآپ نے اپنے نونہالوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ و پیراستہ کردیا تو یہ آپ کے لئے صدقۂ جاریہ بھی ہے اور ملک کی تعمیر و ترقی کے تئیں آپ کی سنجیدہ عملی شراکت کا مظاہرہ بھی ذمہ داری کی ادائیگی بھی۔
اس پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے مولانامفتی محمد افروز قاسمی صاحب صدر مرکز القضاۃ انڈیا نے پروگرام کے کامیاب انعقاد پر اسکول کے ڈائریکٹر مولانا محمد اظہر مدنی کو مبارک باد پیش کیا اور کہا کہ یقینا آپ نے بنیادی سہولیات سے محروم اس علاقہ میں اس عظیم الشان اسکول کو قائم کرکے تعلیم کے فروغ کے سلسلے میںبے مثال کارنامہ انجام دیا ہے ۔
اسی طرح حاجی نورمحمد سابق ڈائریکٹر بھارت اسکول شاہین باغ نے بھی اس پروگرام کے کامیاب انعقاد پر اپنی خوشی کا اظہار کیا اورذمہ داران،اساتذہ و معلمات اورطلبہ و طالبات کو مبارک باد پیش کی۔
اقرا انٹرنیشنل اسکول کے اس پروگرام میں جن اہم شخصیات نے شرکت فرمائی ان میں محمد نسیم فیضی، عبدالرحمن ثاقبی، مولانا عرفان تیمی، ماسٹر اشفاق احمد، عبداللہ سلفی وغیرہم اہم اور قابل ذکر ہیں۔
