اسماعیل قمر بستوی
بہت کیا ہوں تجھے دل سے پیار اے بیٹی
یہ میری جان ہے تجھ پہ نثار اے بیٹی
اداس آج چمن کی تمام کلیاں ہیں
ہے سارا گھر ہی مرا سوگوار اے بیٹی
ہے رخصتی کا یہ منظر پہاڑ کے جیسا
ہے آج باپ ترا اشک بار اے بیٹی
جدا تو آج تجھے کررہا ہوں میں لیکن
رہے گی دل میں تو لیل ونہار اے بیٹی
یہ گھرترا نہیں سسرال اب ترا گھر ہے
نہ اب ہے تجھ پہ مرا اختیار اے بیٹی
تولڑ جھگڑ کے نہ آنا کبھی بھی میکے میں
نہ چھوڑنا کبھی شوہر کا دوار اے بیٹی
دعائیں تجھ کو ترے والدین دیتے ہیں
ہیں دونوں آج بہت دل فگار اے بیٹی
کسی بھی شئ کی ضرورت ہو یاد کرلینا
تو میرے مال میں ہے حصے دار اے بیٹی
ہمیشہ دینِ محمد کی تو رہے پابند
تو اپنے گھر کی رہے غم گسار اے بیٹی
تمہارے گھرکا بسانا مرے ہی ذمہ تھا
تھا مجھ پہ فرض دیا ہوں اتار اے بیٹی
دعاقمر کی ہےغم آئے نہ ترے گھر تک
کہ روزگھرمیں تجھ آئے بہار اے بیٹی
