محمد یوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک۔
۱۔ بیگم صاحبہ 
موبائل چارچنگ کیلئے لگایاجاتاہے ۔ کچھ ہی دیر بعد موبائل کی گھنٹی بجتی ہے ۔بیگم صاحبہ موبائل کو چارجنگ سے نکال کرباتیں کرتی ہوئیں دوسرے کمرے میں چلی جاتی ہیں۔ وہاں سے واپس ہوتی ہیں تو موبائل دوسرے کمرے میں ہی رہ جاتاہے۔ کچھ دیر بعد کوئی ہمدردموبائل چارجنگ کیلئے پھر لگادیتاہے۔ چارجنگ کو لگائے ہوئے دس منٹ بھی نہیںگزرتے کہ بیگم صاحبہ کی بہن ؍یابچوں کے اسکول سے کال آجاتی ہے۔ وہ چارجنگ سے موبائل کو نکال کربہن ؍بچوں کے اسکول کی انتظامیہ سے بات کرنے لگ جاتی ہیں۔
بہرحال دن بھر موبائل مکمل چارج نہیں ہوتا۔ رات جب بیگم صاحبہ سوجاتی ہیں تو موبائل کی قسمت جاگ اٹھتی ہے اوروہ مکمل چارج ہونیکی طرف رواں دواں ہوتا ہے ۔ اسی درمیان بیگم صاحبہ کی خوش دامن صاحبہ اچانک کھانسنے لگتی ہیں تو نیندسے بیدار ہوکر وہ ان کی مزاج پرسی کے لئے چلی جاتی ہیں۔ چھوٹا لڑکارات میں چھوٹی ضرورت کے لئے اٹھتاضرور ہے۔ اس کے ساتھ بیت الخلاء تک ہوآنا پڑتا ہے۔ورنہ بچہ کے ڈرجانے کادھڑکا لگارہتاہے۔ ایک دوبجے شب کے بعد بیگم صاحبہ کوعادت ہے کہ بچوں کے لحاف درست کرنے، اوندھے منہ سورہے بچوں کو کروٹ سونے کی تلقین کرنے
 بچوں کے کمرے کی طرف چلی جاتی ہیں۔ اسی اثناء میں یاایک آدھ گھنٹہ بعد شوہر نامدار کی نیند میں ڈوبی ہوئی آواز سنائی دیتی ہے ’ذرا پاؤں تو دبادیں ‘‘
رات بھر اتنے سارے فرائض سے گزرتے ہوئے فجر کو سب سے پہلے بیگم صاحبہ ہی کو اٹھنا ہے، نمازفجر کی ادائیگی کے ساتھ ناشتہ بنانے لگ جاناہے۔ سوچناپڑتاہے کہ بیگم صاحبہ کی بیاٹری فل کب ہوگی ؟
۲۔ فون نہیں آیا 
کہاگیاکہ ’’تم ہبلی جیسے مرکزی مقام پر ہو، کام جم کر کرنا چاہیے۔اسی طرح دوسرے مقامات کے دورے بھی ہوں تو سونے پرسہاگہ ہوگا‘‘
جواب ملا ’’میراشہرہبلی ، ریاست کے مرکز میں ضرورواقع ہے لیکن میرے نجی حالات معاشرتی پہلوؤں کے مرکز سے ہٹے ہوئے ہیں۔ اسلئے میراہبلی میں رہنا ضروری ہے‘‘
جواب مل چکاتھا۔اس کے بعد فون کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔
۳۔ کیاکہاجائے ؟ 
میں نے پوچھا’’تیاری ہوگئی ؟‘‘وہ ادیب اور شاعر شخص تھے ، قطعی دوسری طرح کاغیرمتوقع جواب دیابلکہ خود مجھ سے سوال کردیا کہ ’’کون سا مجھے لوک سبھا جانا ہے ؟‘‘
واقعی حیرت ہوئی کہ لوک سبھا جانے والا توتیار ی میں ہے اور یہ سب کو معلوم بھی ہے لیکن ہماراادیب اور شاعر تیار ہے ، شایدنہیں۔
میں تو خیر یہ بھی نہیں کہہ سکتاکہ۔۔۔۔۔۔۔۔ شاعرو ، ادیبواٹھو،۔۔۔۔۔۔  ا یک دنیا تمہارے پیغام کی منتظر ہے۔ شاید شعرأاور ادیب اپناپیغام ختم کرچکے ہیں اورفی الحال آرام کے موڈ میں ہیں۔
۴۔ ہماری کہانی 
بڑے علمی گھمسان کے بعد کہاگیاکہ’’بس اتنی ہی کہانی ہمارے بزرگوں کی اور ہماری ہے کہ  ۔۔۔۔۔۔۔  انھوں نے لکھا اور اَمرہوگئے۔ ہم نے بھی ایک کتاب کیا، کئی ایک کتابیں لکھیں اور یوں ہی مُرمُراگئے‘‘
۵۔ جان لیوا تجسس
لڑکا امتحان دے کر آیاتھا۔ والدین کویقین نہیں تھاکہ لڑکے نے صدفیصد نشانات کو پارکیاہوگا۔ والدین نے سوالات کرکے اپنے لڑکے کوکچھ اس قدر تنگ کیاکہ لڑکے کو یقین ہوگیااس کے والدین اس کو بے وقوف اورکام چور سمجھتے ہیں ۔کیا میں ایک معمولی پرچہ کے 100فیصدنشانات حل نہیں کرسکتا؟اس قدر بے اعتباری اچھی نہیں ؟اس سے بہتر ہے کہ دنیا چھوڑدی جائے ۔
  اور وہ گلے میں پھنداڈال کر اپنے کمرے کے پنکھے سے جھول گیا۔
اس خبر کوپڑھ کر مجھے قرآن کی وہ بات یادآئی کہ ’’تجسس نہ کرو‘‘ یہ ایک جان لیوا قسم کا تجسس ہی تو تھاجس نے جوان لڑکے کی جان لے لی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے