جلسہ ’’استقبال رمضان‘‘ منعقدہ مسجد قباء بیدر سے اقبال الدین انجینئر کاخطاب
بیدر۔ 9؍مارچ (محمدیوسف رحیم بیدری): رمضان نیکیوں کو حاصل کرنے کا مہینہ ہے۔ روزہ کامقصد نفس کو خواہشات کی تکمیل سے روکناہے۔ تقویٰ یہ ہے کہ ہم جائز چیزوں کے حریص ہوں ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جنت کے 8دروازے ہیں۔ ایک دروازے کانام ریان ہے ، جس سے صرف روزے دارہی داخل ہوں گے۔ ان خیالات کااظہار اقبال الدین انجینئر نے ’’جلسہ استقبال رمضان ‘‘ منعقدہ مسجد قباء بیدر سے اپنے خطاب کے دوران کیا۔ اور کہاکہ روزہ انسان کو اس لائق بناتاہے کہ ہم قرآن پاک سے ہدایت حاصل کریں۔ ہماراحق ہے کہ ہم رمضان کی برکتوں سے مالامال ہونے کی کوشش کریں۔ اس لئے کہ رمضان کی کسی عبادت کے فیض سے محروم ہونے کے بعداس کی تلافی ممکن نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اللہ کی فرمانبرداری میں لذت محسوس کریں۔افطار کے وقت دعاؤں کی قبولیت کی اللہ تعالیٰ بشارت دیتاہے۔ رمضان کاپہلا دہا رحمت ہے ۔ اس لئے اللہ سے اس کی رحمت کی دعائیں مانگتے رہنا چاہیے۔پیارے نبی کریم ﷺ نے فرمایا’’کوئی بھی شخص اپنے اعمال کی بدولت جنت میں داخل نہ ہوسکے گا۔ جب تک کہ اللہ کی رحمت اس کے ساتھ نہ ہو۔ موصوف نے اپنے اختتامی خطاب میں کہاکہ آنحضرت ﷺ نے زکوٰۃ کا کامل ترین نصاب پیش کیاہے۔ زکوٰۃ چارطرح کے مال پر لگائی ہے۔ (۱)فصل اور پھل ،(۲) جانور(۳)سوناوچاندی (۴)مختلف قسم کے تجارتی مال ۔ اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کے مصارف کی خودہی تقسیم فرمائی ہے۔ اور اس کی 8قسمیں بیان کی ہیں۔ فقراء ومساکین ،غلام کو آزاد کرانے میں اور مسافر ، زکوٰۃ وصول کرنے والے ، دلجوئی کے مستحق لوگ ، مقروض افراد ، مجاہد ۔ اگر لینے والا محتاج نہ ہوتو اسے زکوٰۃ کامال نہیں دیاجائے گا۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں رمضان کی خیروبرکتیں عطافرمائے اور ہمارے ملک میں اتحاد واتفاق ، امن وسلامتی ، پیارومحبت کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین۔
