طالب دعا:انصر نیپالی

 

اب کے ان کی آنکھوں میں خوں کی اشکباری ہے

اب کے ان کے دامن میں غم ہے سوگواری ہے

آہ ! کیسا دن آیا بھوک ہی کا روزہ ہے

اب کے ماہ رمضاں میں سحری نہ افطاری ہے

اب کے نہ اذانوں میں پہلی سی حرارت ہے

زخم دل کی چیخیں ہیں اور آہ وزاری ہے

مسجدوں کے سائے میں ہم نماز پڑھتے تھے

آج خیموں کے اندر کیسی بے قراری ہے

اے وطن کے رکھوالو! وطنیت مبارک ہو

شکر ہے کہ "اقصیٰ” بھی میری پاسداری ہے

یا الہی! دنیا کی نعمتیں نہیں چاہئیے

مجھکو دیدیے آزادی ہر کرم پہ بھاری ہے

درد کو خموشی سے اس لیے میں سہتا ہوں

اپنی حریت مجھ کو زندگی سے پیاری ہے

اے عرب کے جانبازو! بھول گئے "ایوبی”

تیری بزدلی انصر وجہ شرمساری ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے