ذکی طارق بارہ بنکوی
سعادت گنج، بارہ بنکی، یوپی
آ کے بزمِ ادب نشین میں ہم
ہوگئے ہیں معززین میں ہم
ہر قدم پر عروج پاتے گئے
کر کے گھر چشمِ حاسدین میں ہم
ڈس لے تو آج جتنا ڈسنا ہے
ہونگے کل تیری آستین میں ہم
ہاتھ دھو بیٹھے ہیں خراب سے بھی
کھوئے کچھ ایسے بہترین میں ہم
سب ترے عشق کی نوازش ہے
جو ہیں چشمِ تماش بین میں ہم
ہار کا غم ہے اب بھی سینے میں
لاکھ ہیں آج فاتحین میں ہم
دھیرے دھیرے سنورتے جاتے ہیں
رہ کے قربِ مخالفین میں ہم
یہ جو ہے سر زمینِ ہند "ذکی”
دفن ہونگے اسی زمین میں ہم
