محمد یوسف رحیم بیدری، کرناٹک
۱۔ مخلوط محفل 
دعوت بڑے پیمانے پر تھی ۔ سبھی مردوخواتین یکجا تھے۔ سالک غلام آنکھ بچا کر وہاں سے واپس چلاآیا۔
۲۔ کٹھورتا
وہ زیست وموت کی کشمکش میں مبتلا ہے اور عہدیداران چاہ رہے ہیں کہ نشست خالی ہوجائے تاکہ اس نشست پر بیٹھنے کا انھیں بھی موقع مل سکے۔انسان غلط موقع پر صحیح فیصلہ کرنے سے اس لئے قاصر ہے کہ انسان کی کٹھورتابے حساب ہے۔ اناللہ واناالیہ راجعون
۳۔ جینے دینے والیاں 
اس کوپتہ ہے کہ اس کاشوہر کم پڑھا لکھاہے لیکن ذمہ داریوں کی ادائیگی میں بے مثال ہے۔ اسی لئے وہ مثال ڈھونڈنے کہیں نہیں جاتی۔ مطمئن ہے کہ جو کچھ زندگی ہے اسی کے ساتھ ہے۔ دنیا
چاہے ان کی زندگی کو جوبھی نام دے۔ اس کااطمینان دیکھ کر 10ہزار روپئے کی ساڑھیاں پہننے والیاں بھی جل کر رہ جاتی ہیں۔ اوررفعت انجم کو بھی پتہ ہوتاہے کہ اس سے کون جل رہاہے لیکن اس کاایمان ہے کہ جلنے والوں کی نشاندہی مناسب نہیں۔اس کے ہم نام استادجناب رفعت اللہ خان نے کہاتھا’’ خاندانی اور پڑھی لکھی لڑکیاں سامنے والوں کو بھی جینے دیتی ہیںکیوں کہ جینا سبھی کاحق ہے، جینا حرام کرنا شیطانی صفت ہوتی ہے ‘‘
۴۔ مچھلی مارکٹ  
’’دادا، حکومت ہمارے ہاتھ میں آنے سے کیا کسانوں کے مسائل حل ہوجائیں گے‘‘ دادا کے پالتو صحافی نے ان کے ڈرائنگ روم میں ان سے سوال کرلیا۔ وہ اکیلاداداکے ساتھ تھا۔ دادانے ایک
قہقہہ لگایااور پھربولے ’’ایسا بولنے کارے ، لوگ سنے گاتوہمیں ووٹ دے گا۔ ووٹ دے گاتب ہی ہمیں ستہ ملے گا ‘‘
’’پھرتو یہ جملہ ہوانادادا؟‘‘ دادانے صحافی کی طرف دیکھااور بے تاثر چہرے کے ساتھ بولے ’’ پالیٹکس جملوں کامچھلی مارکٹ ہے ۔ جو سب سے اچھاجملہ بولے گااس کو پبلک سرپر بٹھائے گی اور ووٹ دے دے گی ‘‘
’’اسلام کے ماننے والوں کی حکومت کب آئے گی ؟‘‘اسی پالتو صحافی نے آہستہ سے پوچھا۔ صحافی سمجھ رہاتھاکہ اس نے کوئی دھماکہ کیاہے ۔ دادانے پوچھا’’کیوں رے ، تیرے کو اسلام والوں سے محبت ہوگئی کیا؟توبھی اسلامک پالیٹکس جہاد کررہاہے کیا؟ــ‘‘
صحافی اور بھی آہستگی سے بولا’’نہیں دادابھاؤ، ایسے ہی پوچھ لیا ، وہ بھی تو ایک سے بڑھیا ایک جملہ بولتے ہیں ناجیسے،یہ دنیا فانی ہے ، اس کے بعد کی زندگی کے لئے دنیامیں بے لوث کام کریں، یہاں اچھے کام کروگے تو مرنے کے بعد اس کافائدہ ہوگا۔تمام انسان ایک دوسرے کے بھائی ہیں، عورتوں کی عزت کرو، پسینہ سوکھنے سے پہلے مزدور کی مزدوری دے دی جائے ‘‘
داداپانچ چھ سکنڈکے لئے رکے اور پھر بولے ’’سوچناپڑے گا، توہمارا پترکار دوست ہے۔تو نے پرشن پوچھا ہے تو ایسے ہی نہیں پوچھاہوگانا۔ یہ صحیح ہے کہ اسلام والوں کے جملے بھی دل لے لیتے ہیں ۔ابھی عوام کے کان میں یہ جملے نہیں پڑے اسلئے اسلام والے ستہ میں ابھی نہیں آئیں گے لیکن ایک دِن آئیں گے ضرور، ہم کو ابھی سے اس کی تیاری کرنی ہوگی تاکہ کولیشن گورنمنٹ میں ہم ان کے ساتھ ہوں ‘‘
۵۔ پرائیویٹ سڑک 
کاروباری شہر تھا۔ جگہ جگہ شاپنگ مال بنائے جارہے تھے۔ اس شہرکی ایک مصروف بستی کے چند نوجوانوں نے محسوس کیاکہ وہ شاپنگ مال میں کاروبار کے لئے جگہ کرایہ پر نہیں لے سکتے اسلئے ہماری ہی بستی میں ایک اورسڑک نکال کر دوکانیں بنالینے سے بات بن جائے گی۔
ان سرپھرے نوجوانوں کی مخالفت بہت ہوئی۔ کہاگیاکہ سڑک نکالنا حکومت کاکام ہے ہمار انہیں ۔ ہم اپنی جگہ نہیں دیں گے ، جب ہمارے رہنے کے لئے گھر نہیں ہے تو کاروبار کے لئے دوکانیں کہاں سے نکال پائیں گے ؟
نوجوانوں نے اپنی ہی بستی والوں کوپوری طاقت وقوت اور تمام طریقوں سے رات دِن سمجھایاکہ کبھی کبھی گھر سے زیادہ اہمیت کاروبار کی ہوجاتی ہے ۔ فی الحال ہم کاروبار پر توجہ دیں گے تو کل اور بھی کئی عدد گھر خرید سکتے ہیں ۔کرایہ کے مکان میں رہنے سے عزت کم نہیں ہوجاتی ۔بیکاری سے کئی گنا بہترہوتاہے کاروبار پر رہنا ورنہ نوجوان جرائم میں ملوث ہوجائیں گے وغیرہ وغیرہ
لوگ جیسے تیسے مان گئے اور ایک پرائیویٹ سڑک بستی میں نکالی گئی ۔ آج اس غریب لیکن مصروف بستی میں نوجوان مختلف کاروبارسے وابستہ ہیں اور راوی کہتاہے چین کی زندگی جی رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے