محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک۔
۱۔ بے ہمتی
خبرتھی کہ ’’مسلمانوں کے خلاف بلڈوزر کارروائی کاسلسلہ جاری ، دہلی میں ایک اور مسجد شہید کردی گئی‘‘ وہ سرخی پڑھ کر نیوزپورٹل کی لنک پر کلک نہیں کرتا، آگے بڑھ جاتاہے ۔ کیوں کہ اس میں اتنی
ہمت نہیں ہے کہ مسلمان بھائیوں اور اپنے دین پر آئی مشکلات کو وہ پڑھ بھی سکے۔
۲۔ آدھی کہانی
یہی لوگ اگر مرنے کے بعد خدا کے آس پاس کھڑے مل گئے تو اک ناختم ہونے والی مصیبت کھڑی ہوجائے گی۔ یہ سوچ کروہ مایوس ہوگئی اور اس نے خودکشی کرنے کی کوشش کی۔ اس کو بچالیاگیا۔اس واقعہ کو دیکھتے ہوئے انسانی مبلغین کو تربیت دی گئی کہ لوگ مررہے ہیں لہٰذا اپنے اپنے کاروبار چھوڑ کر زائد وقت تبلیغ پر دیاجائے ۔ جس سے توقع ہوسکتی ہے کہ لوگ مایوسی اور خودکشی دونوں ترک کردیں۔
پھر کیاہوا، اس تعلق سے راوی خاموش ہے۔
۳۔ نئی غلامی
وہ اے آ ئی (AI)کا مسیحا بن کر سامنے آیاتھااو رانسانوں کو یہ یقین دِلارہاتھاکہ عنقریب ہم انسانوں کو اے آئی کی دنیا میں لے چلیں گے جہاں انسان کو مشینوں کے ذریعہ انسانیت محسوس کر نے اور برتنے کاتجربہ ہوگا۔ زندگی آسان اور آرام دہ بن جائے گی۔
اور جب اے آئی (AI) کا دور شروع ہواتودعویٰ کو دلیل نے مکمل کردیاتاہم عام لوگوں سے ہٹ کر حساس انسانوں نے محسوس کیاکہ انسانوں کے خلاف ایک ایسی آفت کھڑی کی گئی ہے جو اصلی انسانوں سے زیادہ نرم دل اور بڑا دل رکھنے والی نئی مخلوق ہے۔ پھر تو انسان ، انسان کوچھوڑ کر اے آئی (AI)پرفد اہوگیا۔ پچھلے پچاس سال سے انسان اے آئی (AI)کاغلام بن کررہ گیاہے۔
اس غلامی سے باہر نکالنے کی ہرکوشش بے سود ہوچکی ہے۔لوگ نعرے لگارہے ہیں ، مشینیں مردہ باد ۔ لیکن مشینوں کی پیدائش روزبروز بڑھتی ہی جارہی ہے ۔ اور کھپت بھی خوب ہورہی ہے۔
۴۔ انکاری
وہ تماشائی بننے سے انکاری رہا اس لئے مارا گیا۔ باقی سبھی تماشائی زندہ ہیں.اورہر ایک نکڑ پرناٹک جاری ہے___!
زندگی کی جئے ہو
۵۔ ٹھنسے ہوئے
ٹرین میں اس قدر لوگ ٹھنسے ہوئے ہیں کہ کچھ لوگ ٹرین سے اتر جانا چاہئیے۔
سبھی کا یہی خیال ہے لیکن ٹرین سے کوئی نہیں اتررہا. جب اس کا اپنا اسٹیشن آتا ہے، وہ اتر جاتا ہے، ویری سمپل حل ہے
۶۔ سٹی بس
قدیم شہر میں سٹی بس نہیں چلتی تھی. آٹو رکشا بیتکا کرایہ لیا کرتے تھے. اس شہر کی پڑھی لکھی خواتین اور نوجوانوں کو سٹی بس شروع کرانے کی فکر نہیں تھی ___اگر وہ سٹی بس کے لئے فکرمند ہوتے مہنگائی کے اس دور میں چار پیسے بچ جاتے۔
ایسا بھی نہیں ہے کہ انھیں کوئی فکر نہیں تھی…. فکر یہ تھی کہ میرے موبائل کا ریچارج ختم نہ ہو اور اگر ختم ہوجائے تو اس ریچارج کو کس طرح چارج کیا جائے؟
نوجوانوں کے علاوہ خواتین اور لڑکیاں بھی موبائل چلانے کی ماہر تھیں. قدیم شہر میں دوڑتے ہوئے آٹوس میں یہی کچھ دیکھنے کو ملتاہے، آپ نے ایسے مناظر ضرور دیکھے ہوں گے،بہرحال اللہ سب کو سلامت رکھے۔
