محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک۔
۱۔ سیاسی تعصب 
وہ مہمان کی حیثیت سے تقریب میں اپنی کرسی پر بیٹھاہواتھا۔ مقامی ایم ایل اے کچھ تاخیر سے تقریب میں پہنچے ۔ تقریب جاری تھی۔ اسی اثناء میں ان کی آمد پر لوگ کھڑے ہوگئے ۔
ایم ایل اے صاحب  پہلی صف میں بیٹھنے جارہے تھے کہ اس پرنظرپڑتے ہی انھوں نے موقع محل دیکھے بغیر کھری کھوٹی سنانے لگے۔ کہاکہ ’’تجھے کس نے بلایاہے یہاں ؟ کہیں بھی
گھسا چلاآتاہے؟‘‘ کنوینرجوبازو ہی میں تھے ، انھوں نے ایم ایل اے سے کہا’’سر، دے دے کھ۔۔۔۔۔‘‘ ایم ایل اے نے انہیں خاموش رہنے کوکہااور بولے ’’تم لوگوں کو اس نے بلیک میل کیاہوگا؟صحافت کے پیشے میں بلیک میلر آئے ہوئے ہیں۔ یہ کسی بھی تقریب کا مہمان بننے کے لائق نہیں ہے ۔ ‘‘
وہ ایک صحافی تھا۔ اس نے ایم ایل اے کی بکواس برداشت کرتے ہوئے صرف اتنا کہا’’جائیے ، اپنے کرسی پر بیٹھ جائیے ۔ ورنہ سارے صحافی راجدھانی تک آپکا پیچھاکرتے ہوئے آپ کا جینا حرام کردیں گے اور میں ایسانہیں چاہتا‘‘ ایم ا یل اے صاحب ڈرگئے اور جاکر اپنی کرسی پر بیٹھ گئے۔
نیچے بیٹھی ہوئی عوام صحافی کو گھورگھورکر دیکھ رہی تھی۔ گویا انہیں صحافی کاشہ نشین پررہناپسند نہیں تھا۔ تقریب کے کنوینر کے روکنے کے باوجود وہ شہ نشین سے نیچے اُترآیا اور عوام میں بیٹھ گیا۔
۲۔ اچھے دوست 
لوگ زندگی سے چلے جاتے ہیں ۔تو زندگی خالی ہوتی جاتی ہے۔وہ محسوس کررہاتھاکہ اس کی زندگی خالی ہوچکی ہے۔ اس خالی زندگی کو پرکرنے کیلئے وہ بہت سارے نئے لوگوں کاشدت سے انتظارکرنے لگا۔
اس کے دوستوں کو پتہ چلاتو ایک دوست نے کہا’’ہمت والا ہے بھائی، 60کی عمر میں کون نئے دوستوں اور نئے مہمانوں کاانتظار کرتاہے؟اس عمر میں تو زندگی اپنے پسندیدہ ٹریک پر چلنے لگتی ہے۔ اور وہ پسندیدہ ٹریک ہوتاہے احتیاط ۔ گھر میں بیٹھے رہنا۔کم کم ملنا۔ کوئی آئے تو بیماری کابہانہ وغیرہ لیکن وہ منتظر ہے نئے دوستوں کا‘‘سارے دوستوں نے اس کے غیاب میں اس کی زندہ دلی پر تالیاں بجائیں ۔
اس کو پتہ چلاتو اس نے کہا’’اچھے دوست ، سامنے ہی نہیں پیچھے بھی اچھے ہی ہوتے ہیں‘‘
۳۔ چند مؤظف لیکچرر 
مؤظف ہونے کے بعد کئی ایک لیکچررس اردو کی ترقی کیلئے مصروف ہوگئے تھے۔ ایک دن پوچھاگیاکہ ایسا کیوں ؟ جب ملازمت میں تھے اردو یاد نہیں آئی ، اب اردو کی ترقی کے لئے کام کریں گے ؟ آخر قصہ کیاہے ؟
درمیانی آدمی سے جواب ملا ’’قصہ یہ ہے کہ اسٹیج مطلوب ہے ۔ عمر بھر اونچی جگہ پر کھڑے ہوکر بات کرنے کی عادت پڑچکی ہے ۔ اس عادت کوچھوڑا نہیں جا سکتا۔ اسلئے اردو کی ترقی کے نام پر کچھ کرنے نکلے ہیں ‘‘
براسامنہ اسلئے نہیں بنایاگیاکہ سوال اردو کاتھا۔ جو بھی کام کرے ، اورپیچھے مقصد جو بھی ہو۔
۴۔ بگڑا ہوا آوا 
وہ ایک تباہ حال ملک تھا۔اس ملک میں ایماندار افسر مشکل سے ملتا تھا۔تقریباً تمام افسر رشوت خور تھے…. عوام اس کے باوجود انھیں افسران سے اپنا کام نکالتے تھے اور خوش بھی تھے
۵۔ آغازکے منتظر  
اللہ تعالیٰ کاکام تھا۔ کوئی کرنے والانہیں تھا۔ ایسے ہی پڑاہواتھا۔ اس کام کی اہمیت کوجاننے والے بے بس تھے کیوں کہ اس کام کووہ بوجوہ کرنہیں پارہے تھے۔ شیطان خوش تھاکہ اللہ کاکام پڑاہواہے ،کوئی انسان اس کام کو انجام نہیں دے رہاہے۔ فرشتوں کو بھی پتہ نہیں تھاکہ وہ کام کیوں کر نہیں ہورہاہے۔ سوائے خدا کے کون جان سکتاہے کہ کون سا کام کب ہونا ہے اور کس طرح ہوناہے ، کس کے ہاتھوں انجام دیاجانا ہے؟
ناواقف ِ راز لوگ پریشان تھے ۔ انگلیوں پر گنے جانے والے واقف کاروں کو بھی تشویش تھی لیکن وہ اس گھڑی کے بے صبری سے منتظر تھے جب اللہ رب العزت کا کام شروع ہوگااورانسان بڑی تعداد میں ہدایت سے نوازے جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے