تکمیل حفظ قرآن کریم کی تقریب میں ننھے سالم کو حافظ قرآن بننے پر دعائیں اور مبارک باد 

نانپارہ، بہرائچ (محمد رضوان ندوی):  نسبت سے چیزوں کی قیمت بدل جاتی ہے، جس کی نسبت جتنی بلند ہوگی اس کی قیمت بھی زیادہ ہوگی ، ایک عام کپڑے کو کوئی بوسہ نہیں دیتا لیکن جب وہی کپڑا کعبہ کی دیوار سے لپٹ جائے یا قرآن کا غلاف بن جائے تو اسے ہر کوئی اپنی آنکھوں سے لگاتا ہے ، بوسہ دیتا ہے ، جب قرآن سے وابستگی کی بنیاد پر ایک کپڑے کی تقدیر بدل سکتی ہے اور اسے ہر کوئی سینے سے لگا سکتا ہے ، چوم سکتا ہے ، آنکھوں سے لگا سکتا ہے تو اگر انسان قرآن سے وابستہ ہوجائے تو کتنا بلند تر ہوجائے گا ، اس کی قسمت اس پر کتنا ناز کرے گی ، دنیا میں بھی وہ کامیاب ہوسکتا ہے اور آخرت میں بھی کامرانی اس کے قدم بوسی کے لئے تیار ہوگی ،اس دور میں بلکہ ہر دور میں قرآن اور اس کی تعلیمات سے وابستہ ہونے کی سخت ضرورت ہے ، ان خیالات کا اظہار مدرسہ بدر العلوم باباگنج کے مہتمم مولانا محمد سلیم قاسمی نے کے این پبلک اسکول محلہ قلعہ نانپارہ میں منعقد تکمیل حفظ قرآن کریم کی ایک اہم تقریب کو خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس تقریب میں ایک ننھے طالب علم محمد سالم بن محمد ارشد نے محض دو سال کی مدت میں اپنے استاذ قاری جنید احمد ہر بس پوری ،مہمانان خصوصی قاری وحید الدین، قاری عبدالمتین اور قاری کلیم احمد سمیت کئی درجن علماء اور حفاظ کے سامنے آخری چند آیات کی تلاوت کرکے تکمیل حفظ قرآن کی سعادت حاصل کی۔ تقریب میں موجود اہل خانہ، رشتہ داروں سمیت دیگر حضرات نے بھی ننھے سالم کو حافظ قرآن بننے پر دعائیں، تشجیعی انعامات اور مبارک باد پیش کی.

(تصویر حافظ محمد سالم)

  مہمان خصوصی مولانا سلیم احمد قاسمی نے کہا کہ قرآن سراپا ذکر ہے ، یاددہانی اور نصیحت ہے ، عبرت و موعظت کا خزانہ ہے ، اللہ نے صاف کہا ہے کہ ہم نے انسانوں کے لئے’’ ذکر‘‘ اتار دیا ہے اور ہم اس کی حفاظت کرکے رہیںگے ،ظاہر سی بات ہے جب ذکر محفوظ رہے گا تو ذکر کرنے والے بھی اللہ کی حفاظت میں رہیں گے ، وہ لوگ بہت خوش نصیب ہیں جن کو ذکر کی توفیق ملے ، قرآن یاد الہی اور تذکرہ ربانی ہے ، حافظ قرآن اور ذاکر الہی کا مقابلہ او رموازنہ کوئی بڑے سے بڑا بادشاہ بھی نہیں کرسکتا ، جو قرآن سے جڑ گیا اس کی قیمت کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا ، وہ انمول اور بیش قیمت ہے ، مولانا نے کہا کہ کون بہتر ہے اور کون کہتر ہے ؟ یہ تو بالکل صاف ہے ، حدیث نے صاف اعلان کردیا ہے کہ جو قرآن سیکھ رہا ہو اور جو سکھا رہا ہو وہی سب سے بہتر ہے ، اقتدار میں رہنے والا ، حویلی میں رہنے والا ، منصب بردار ، جاہ و منزلت والا اگر قرآن اور اس کی تعلیمات سے دور ہے تو اللہ کی نظر میں اس کی کوئی قیمت نہیں ہے ، مولانا نے کہا کہ آج بہت سے لوگ قرآن سے وابستہ افراد کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ کہا ں سے کھائے گا ؟ دنیا میں کیسے رہے گا ؟ ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ ابو الحسن خرقانی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا تھا کہ یہ وہیں سے کھائیں گے جہاں سے انبیاء کھاتے ہیں ، یعنی یہ اللہ کے خاص مہمان ہیں ، ان کی ضیافت کا انتظام اللہ تعالی خود کرتے ہیں ، قرآن کے پانچ حقوق ہیں ، سب سے پہلے اس پر ایمان لانا ضروری ہے کہ یہ اللہ کی کتاب ہے ، پھر تلاوت ضروری ہے ، تیسرا حق قرآن کو سمجھنا ہے ، چوتھا حق اس کے مطابق عمل کرنا ہے اور پانچواں حق یہ ہے کہ اس کی تعلیمات کو عام کیا جائے ، آج کے مدارس اور مدارس میں تدریسی خدمات انجام دینے والے علماء بھی قرآن کے ناشرہیں ، اس لئے ان کا تعاؤن اور اکرام بھی حسب حیثیت ضرور کریں، مفتی صہیب احمد قاسمی نے کہا کہ حفظ قرآن کریم بہت بڑی دولت ہے ، اس کی قدر کریں اور سچی قدردانی یہی ہے کہ اس کے مطالبات پر عمل کیا جائے ، نظامت کے فرائض مولانا زین العابدین قاسمی ناظم دارالعلوم اشرفیہ نواب گنج بہرائچ نے کی، نعت کا نذرانہ مولانا امانت اللہ قاسمی نے پیش کیا،

(ننھے حافظ سالم اپنے استاذ قاری جنید احمد بربس پوری کے ساتھ)

اس موقع پر حافظ محمد سالم کو مبارک باد پیش کرنے والوں میں منیجر مولانا فیضان نسیم ندوی ،مولانا محمد احمد انصار قاسمی، محمد رضوان ندوی ،مولانا محمد الیاس قاسمی، مولانا فرید احمد، مولانا شعیب جامعی، محمد آصف، محمد عارف، طارق جمال،آفتاب احمد، شاداب احمد، شہاب احمد، عبد الوہاب، حافظ عبد اللہ، ماسٹر کلیم الدین، محمد شہزاد، نوشاد احمد، نفیس احمد، ضیاء المصطفی، دانش، رئیس احمد، اسرار احمد، مولانا صغیر عالم حلیمی، مولانا سمیع الدین قاسمی، قاری رئیس احمد نوری،مولانا داؤد احمد قاسمی کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے