بیدر۔ 28؍جون (محمدیوسف رحیم بیدری): حالیہ دنوں میں درجہ حرارت 53 ڈگری تک پہنچ گیا تھا۔ شمالی ہندوستان میں ہیٹ اسٹروک اور سن اسٹروک سے کئی اموات اور مصائب پیش آ رہے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی درجہ حرارت 43 ڈگری تک پہنچ گیا ہے۔ اگر یہ اسی طرح بڑھتا رہا تو آنے والے دنوں میں عوام کو بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا۔ آکاش وانی کلبرگی کیندر کے پروگرام آفیسر سوم شیکھرا رولی نے رائے دی کہ اگر درجہ حرارت کو کم کرنا ہے تو پودے لگا کر ان کی پرورش کی جانی چاہیے۔ وہ کلبرگی آکاش وانی مرکز میں آل انڈیا یونیورسٹی ایمپلائز یونین کے زیر اہتمام ماحولیاتی بیداری اور پودے کی تقسیم کے پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے ہم سب سے گزارش کی کہ اس سے پہلے کہ صورتحال ہاتھ سے نکل جائے بیدار ہو جائیں۔

کرناٹک ویٹرنری یونیورسٹی کے ریٹائرڈ ڈپٹی فائنانس آفیسر ویربھدرپا اپن نے رائے دی کہ ہمارے گھروں کے احاطے میں موجود تمام پودوں کی دیکھ بھال کرنی چاہیے تاکہ وہ تباہ نہ ہوں۔ پرگتی ہیلتھ اینڈ ایجوکیشن انسٹی ٹیوٹ کے صدر اروند کلکرنی نے خطاب کیا اور مطالبہ کیا کہ شجرکاری پروگرام کو ایک تحریک کی شکل میں چلایا جائے۔ سنتوشی کماری، ساگر برادار، مدھو دیشمکھ، سنگمیش وغیرہ موجود تھے۔اس بات کی اطلاع ایک پریس نوٹ کے ذریعہ دی گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے