جموں وکشمیر میں آمرانہ طرز عمل کہیں ماضی کی سیاسی حصولیابیوں اور جمہوری امن کو برباد نہ کردے

تحریر: ظامر عبداللہ + ظاہر عبداللہ

آئین ہند کی دفعہ 370 کی منسوخی ،جس نے ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کیا تھااور خطے میں ’نئی صبح‘ یا ’’نیا کشمیر‘‘ کے بہانے اس تاریخی ریاست کی سیاسی قدر میں کمی کیساتھ ساتھ اسے دو مرکزی زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کیا۔

یہ بلند بانگ دعوے اُس بے بنیاد تصور پر مبنی تھے کہ دفعہ370جموں وکشمیر میں تمام مسائل کی جڑ ہے، یہ ایک غلط بیانیہ تھا جس کا پروپیگنڈا بھاجپا طویل عرصے سے کرتی آئی تھی۔ اس غیر جمہوری عمل کو جوازیت بخشنے کیلئے تمام ذرائع ابلاغ اور زمینی سطح پر کام کرنے والے صحافیوں پر مختلف قسم کی پابندیاں عائد کی گئیں،قید و بند میں ڈال دیا گیا یا پھر وسیع انتظامی اختیارات کے ذریعے اُن کی آواز کو دبایا گیا۔

اس غلط تاثر کو اُس وقت چیلنج کا سامنا کرنا پڑا جب بھاجپا کو اپنا بیانیہ دہرانے اور اسے برقرار رکھنے کیلئے وادی کی تین لوک سبھا نشستوں پر اُمیدواروں کی تلاش کرنے کیلئے ایک ناکام جدوجہد کرنی پڑی۔ جموں و کشمیر کی سیاسی حیثیت کے بارے میں لئے گئے فیصلے کا خطے کی تمام سیاسی جماعتوں کی طرف کھلے عام اختلاف ہوا اور یہ بھاجپا کیلئے دوسرا سب سے بڑا چیلنج بن گیا۔یہاں تک کہ جموں و کشمیر میں ان کی اپنی پارٹی نے منسوخی کے بعد کی تبدیلیوں اور خطے کی کمزور سیاسی معاشی پوزیشن کے خلاف احتجاج کیا۔

جموں و کشمیر کے اندر لچکدار اور موافق آوازوں کو تلاش کرنے کی دشواری کو حل کرنے کے لئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ آگے بڑھنے کا سب سے مؤثر راستہ یہ ہوگا کہ کسی بھی طرح کی اختلاف رائے اور مخالفت کو مکمل طور پر خاموش کردیا جائے، اور اس طرح ریاست میں آراء اور اظہارِ رائے کا ایک خوفناک خلا پیدا ہوگا، جس سے ایک من گھڑت، مصنوعی اور جھوٹے بیانیے کیلئے راہ ہموار ہوگی تاکہ پیدا شدہ خلا کو پُر کیا جا سکے اور اس فریبی بیانیہ کو ناقابل تردید سچ سمجھا جاسکے۔

جموں و کشمیر کی آوازوں کی خاموشی اس حقیقت کو نہیں جٹھلا سکتی کہ دفعہ370کی منسوخی ایک آمرانہ، جابرانہ اور غیر جمہوری طریقے سے کی گئی تھی۔ نمائندہ جمہوری اصول تو دور کی بات یہاں شہری آزادیوں اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا بالکل بھی خیال نہیں رکھا گیا تھا۔

منسوخی کے موقع پر تین سابق وزرائے اعلیٰ اور بے شمار دیگر سیاسی و سماجی شخصیات سمیت سیاسی رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا تھا۔ علاقے کی نیوز ایجنسیوں، جنہوں نے بی جے پی کے بیانیے کو آگے بڑھانے سے انکار کر دیا تھا، پر پابندی لگا دی گئی تھی، کچھ صحافیوں نے حکومت کی طاقت کے سامنے جھکنے سے انکار کیا، تو ان پر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) کے تحت فرد جرم عائد کردی گئی تھی۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، جو کہ اظہارِ رائے کیلئے ایک طاقتور جگہ بن گئےہیں، کو بلاک کر دیا گیا اور اسے چلانے والوں کو سخت نگرانی اور سنسر شپ کے ذریعے سزا دی گئی۔ حکومت کی طرف سے انٹرنیٹ اور مواصلاتی نظام پر مکمل ناکہ بندی کردی تھی ۔ ان تمام اقدامات کو منظم طریقے سے ایک ایسی خاموشی پیدا کرنے کے لئے لاگو کیا گیا جس نے آزادانہ سوچ اور اظہارِ رائے کی آزادی کو مکمل طور پر دبادیا۔ اگر دفعہ 370کو منسوخ کرنے کا اقدام جموں و کشمیر کے لوگوں کی بہتری کے لئے اٹھایا گیا تھا تو پھر انہی لوگوں کی آواز کو دبا کر ایسا کیوں کیا گیا؟

سپریم کورٹ آف انڈیا کے حکم کے مطابق اسمبلی انتخابات قریب ہیں اور ایسے میں بی جے پی حکومت ایک نئی مایوسی کے احساس سے دور چار ہے کہ اب وہ جموں وکشمیر کی مقامی او رمقبول آواز پر کیسے تالاچڑھائے رکھے گی۔

حکومت زیادہ سخت تکنیک کیساتھ نئے منصوبے بنا رہی ہے اور نافذ کر رہی ہے،جس کے ذریعے جدید ترین طریقہ کار نے پہلے سے موجود ظلم کے وسیع اختیارات میں اس حد تک اضافہ کیاہے کہ اب مشتبہ پتھربازوں اور عسکریت پسندوں کے اہل خانہ کے لئے سرکاری ملازمت پر مکمل پابندی ہے۔

یہ پالیسی، جس کا اعلان حال ہی میں مرکزی وزیر داخلہ نے کیا ہے، انتہائی پریشانی کا باعث ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں جمہوری عمل کا حصہ بننے کے خواہشمند شہری پشت بہ دیوار اور احساسِ بیگانگی کے شکار ہوگئے ہیں۔

2014سے پہلے، ریاستی اور مرکزی حکومتوں، دونوں کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ وہ ان تمام لوگوں کا خیرمقدم کریں ، جنہوں نے تشدد کا راستہ اختیار کیا تھا اور بعد میں مایوسی کا شکار ہوکر اپنی غلطیوں کا احساس کرتے ہوئے معاشرے اور پرامن جمہوری سیاست میں دوبارہ شامل ہونے کی کوشش کرتے تھے۔ان افراد کو واپس خوش آمدید کیا جاتا تھا اور اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ ان کا ماضی ان کے مستقبل کا تعین نہیں کرے گا،ان بحالی کیلئے اقدامات کئے جاتے تھے۔ ان میں سے بہت سے لوگوں نے جموں و کشمیر کی سماجی، سیاسی اور معاشی زندگی میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے بیٹے اور بیٹیاں آج تعلیم، سائنس، فنون اور عوامی خدمت کے شعبوں میں اپنی کوششوں اور شراکت سے ہمارا سر فخر سے اونچا کرتے ہیں، ان میں سے بہت سے حکومت اور بیوروکریسی میں ہر سطح پر اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ جامع اور جمہوری طرز حکمرانی محض ایک خالی سیاسی نعرہ نہیں ہے۔ جموں و کشمیر میں یہ زخموں، دلوں اور دماغوں کیلئے مرہم کا ذریعہ ہے۔

تاہم، مرکزی وزیر داخلہ کی طرف سے جاری کردہ نئی پالیسی کے مطابق صرف وہ فرد ہی نہیں ہے، جس نے اپنی زندگی کے کسی موقع پر بندوق یا پتھر اٹھایا ہو، بلکہ ان کے پورے خاندان، قریبی یا دوردراز کے رشتہ دار بھی سرکاری ملازمتوں، ٹھیکوں اور عہدوں سے محروم رہیں گے۔ ایسے میں موجودہ حکومت روزگار اور دفاتر تک رسائی کو روک کر لوگوں کو عدم تشدد اور تعمیری سرگرمیوں میں کیسے لانے کا ارادہ رکھتی ہے؟

ریاست کی سیاست پر تاریخی ناانصافی کا ارتکاب کرنے اور سخت محنت سے حاصل کردہ سیاسی آزادیوں سے محروم کرنے کے بعد، حکومت کس طرح سے لوگوں کو اُن کے رشتہ داروں، اعزہ و قارب کے غلط کاموں کیلئے مزید سزا دے کر ان کے مصائب و مشکلات کو کم کرنا چاہتی ہے؟

یہ ظالمانہ پالیسی سینکڑوں خاندانوں کے گلے میں ایک مستقل پھندے کا کام کرتی ہے، جس سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ جموں و کشمیر کے پورا خطے میں ایک کھلی جیل کی مانند دبی ہوئی آواز ہمیشہ کے لئے خاموش رہے،ہر اختلاف و احتجاج کو جنگ اور اور ہر اختلاف رائے اور احتجاج کرنے والے کو ملک کا مستقل دشمن قرار دینے کی یہ رجعت پسند اور عوام کُش پالیسی آرام سے اصلاحات اور بحالی کا رُخ تبدیل کرکے ایک مستقل انتقام گیری کی طرف منتقل کردے گی۔یہ پالیسی نہ صرف منطقی طور پر غلط ہے، بلکہ سیاسی طور پر رجعت پسند اور قابل مذمت بھی ہے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ یہ پالیسی مختلف طریقوں سے 2019کی تبدیلیوں کے بعد سے جاری رکھی گئی ہے۔ ہم نے جو مشاہدہ کیا ہے، اُس کے مطابق اس پالیسی میں استثنیٰ صرف ایسے معاملات سامنے آیا ہے جہاں زیر بحث افراد (سابق عسکریت پسندوں اور پتھراؤ کرنے والوں) کو بی جے پی کی صفوں میں شامل ہونے کے بعد ہی سرکاری ملازمتیں اور عہدے دیئے گئے ہیں۔ جہاں انتظامیہ اس پالیسی کو عام لوگوں پر من و عن لاگو کر رہی ہے، وہیں بی جے پی اس کا استعمال حامیوں کو اکٹھا کرنے اور جموں و کشمیر میں ایک کیڈر بنانے کیلئے استعمال کرتی آرہی ہے۔ ایسے کچھ لوگ بی جے پی کی طرف سے الیکشن لڑ کر سرپنچ بھی بن چکے ہیں جبکہ دیگر تمام جماعتوں کے لئے، ایسے امیدواروں کی نامزدگی کو شروع میں ہی کالعدم کر دیا جائے گا۔

درحقیقت، اس سارے عمل سے سینکڑوں متاثرین اور ان کے پورے خاندانوں کیلئے جو پیغام نکلتا دکھائی دے رہا ہے وہ یہ ہے کہ اس مایوس کن صورتحال سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے۔آپ کے سابقہ ​​گناہوں کی معافی سے نجات اور ایک عام زندگی بسر کرنے کا موقع حاصل کرنے کیلئے ایک ہی راستہ ہے اور وہ بی جے پی کا دامن تھامناہے۔

قانونی طور پر یہ پالیسی اتنی ہی غیر آئینی ہے جتنا کہ یہ آئین میں درج بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور فوجداری فقہ کے ہر اصول کی خلاف ورزی کرتی ہے۔آئین ہند کی دفعہ 19(1)(جی) اور دفعہ21زندگی اور آزادی اور روزی روٹی کے حق کی ضمانت دیتے ہیں۔جبکہ بنیادی حق کو محدود کرنے کے لئے حکومت کے لئے واحد استثنیٰ آئین کی دفعہ19(6) کے ذریعے دستیاب ہے،جو عام لوگوں کے مفاد میں معقول پابندیاں فراہم کرتی ہے۔ خاندان کے افراد کو سرکاری ملازمت حاصل کرنے کے منصفانہ موقع دینے سے انکار کو نہ تو معقول پابندی تصور کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے عام لوگوں کے مفاد کے زمرے میں لایا جاسکتا ہے۔

مزیدیہ کہ فوجداری قانون کا بنیادی اصول یہ کہتا ہے کہ کسی فرد کو اُس وقت تک بے قصور سمجھا جائے گا جب تک کہ جرم ثابت نہ ہو جائے اور کوئی فرد کسی دوسرے کے جرائم کے سزا نہیں بھگتے گا۔ تاہم، یہ پالیسی ان خاندان کے افراد کے ساتھ مجرم کے طور پر سلوک کرنے کی کوشش کرتی ہے جب ان کے خلاف کسی جرم کا کوئی الزام نہیں لگایا گیا ہے اور اس کے نتیجے میں کسی دوسرے فرد کے اعمال کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا، جس کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔

جموں و کشمیر اور لداخ کی ہائی کورٹ نے 24مئی 2024 کے اپنے حکم کے ذریعے یہی مؤقف اختیار کیا ہے ،جس نے انتظامیہ کے اس حکم کو رد کر دیا تھا جس میں پتھربازوں اور عسکریت پسندوں کے اہل خانہ کو نااہل قرار دینے کی کوشش کی گئی تھی ،جنہیں اس بنیاد پر سرکاری ٹھیکہ حاصل کرنے کے حق سے محروم کر دیا گیا تھا کہ ان کے اہل خانہ ملک مخالف ہیں۔ ہائی کورٹ کا مؤقف تھا کہ مذکورہ پالیسی غیر آئینی ہے کیونکہ اس سے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے اور شہریوں کو ان کے روزی روٹی کے حق سے محروم کیا جاتا ہے۔اس حقیقت کو دیکھتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ کی طرف سے بھی جو اسی طرح کی پالیسی تجویز کی گئی ہے، ہماری رائے میں، اس کے قانونی امتحان میں کھرے اترنے کے امکانات بہت کم ہیں۔

جیسے جیسے گھڑی کی سوئیاں گھومتی جا رہی ہیں،یہ واضح ہو گیا ہے کہ جموں و کشمیر کے تئیں مرکزی حکومت کا مؤقف بتدریج زیادہ رجعت پسند اور آمرانہ ہوتا جا رہا ہے۔ان غیر جمہوری اقدامات اور غیر منصفانہ پالیسیوں کا مقصد حکمرانوں کے بیانیہ کی مصنوعی مشابہت پیدا کرنا اور مستند، تنقیدی، اختلافی آوازوں کو ختم کرنا ہے۔جمہوریت اور جمہوری طریقوں کا گلا گھونٹنے سے جموں و کشمیر کو ہمیشہ بھاری قیمت چکانا پڑی ہے۔ ہمیں خدشہ ہے کہ یہ آمرانہ طرز عمل ماضی کے سیاسی حصولیابیوں کو برباد کر سکتے ہیں۔اور جمہوری امن کے عمل کو مزید نقصان پہنچائے سکتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ایسی پالیسیوں کو چیلنج کریں جو بے بنیاد الزام تراشی، بے گناہوں کو قصوروار جتلانے اور انہیں سزا دینے کو جوازیت بخشتی ہوں۔ اگرچہ ہم قانون کی طاقت سے اس کا مقابلہ کریں گے، تاہم آخر کار یہ ایک سیاسی جدوجہد ہے جو جموں و کشمیر کے لوگوں کے سامنے ہے۔

نوائے صبح کمپلیکس زیرو برج سرینگر
ای میل؛zahir.abdullah.jk@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے