ازقلم: نورین خان پشاور 
ٹینڈر:
چلو نہ بیگم آج پارٹی پر جلد پہنچنا ہے۔
تم جانتی ہوں ملک کے بڑے بڑے بیوروکریٹ اور سرمایہ دار اپنی بیگمات سمیت پہنچ رہی ہوگی۔
میں چاہتا ہوں تم سب سے حسین نظر آو پارٹی میں تاکہ میرا اس سال کا ٹینڈر پاس ہو سکے۔
مالی نے ڈرائیور سے پوچھا یہ بیگم صاحبہ کا اور ٹینڈر کا کیا تعلق؟
کوٹھوں پر بھی عورتوں کا جسم اتنی بڑی تعداد اور بے دردی سے استعمال نہیں ہوا ہوگا…جتنا شریفوں کی دنیا میں (دل لگی اور دوستی) کے نام پر بہت بڑی تعداد میں بے دردی سے استعمال ہوا ہے۔
یہ سرمایہ داروں کے پارٹی ہے یہاں سے ٹینڈر پاس ہوتے ہیں مالی کاکا۔
رب کے حوالے:
کیا ہوا زبیدہ کیوں پریشان ہو؟
کیا بتاو غزالہ جب سے میری خالہ گھر آئی ہے۔
میرے ذاتی مسائل گھر گھر جاکر سنا رہی ہے اور مجھے بدنام کر رہی ہے۔
 دیکھو زبیدہ ! منافق لوگ بظاہر بڑے میٹھے اور با ادب ہوتے ہیں کہ یہ آپ کی بات آپ سے کرنے کے بجائے لوگوں سے کرتے ہیں…!
بہتر ہے اس خالہ سے مناسب الفاظ میں بات کر لو اور سمجھاو کہ خدا کے ہاں حقوق العباد کی معافی نہیں ملتی۔
ہم میں سے ہر ایک کو اپنا جائزہ لینا چاہیے۔
وقت پاس کرنا:
الطاف بیٹے کیوں گلی میں یوں اکیلے بیٹھے ہو؟
راہ چلتے مولوی صاحب نے پوچھا۔
مولوی صاحب بس یوں ہی وقت پاس کر رہا ہوں۔
مولوی صاحب نے ایک نظر الطاف کو غور سے دیکھا اور اسکو سمجھایا بیٹے زندگی ایک کینوس کیطرح ہے، اسے مقصد کے ساتھ رنگو۔”
اور مفید اور بامقصد زندگی گزارو۔
وقت نے ثابت کیا الطاف ایک بہت بڑا آدمی بنا۔
روشن ستارے:
 اماں میں تنگ آگیا ہوں اس زندگی سے۔
روز نوکری کی تلاش میں صبح سویرے نکلتا ہوں اور دھکے کھا کھا کر رات کی تاریکی میں گھر لوٹ آتا ہوں آخر کب تک ماں کب تک؟
نوید سسکنے لگا۔
ماں اسکے پاس آئی سامنے کھانا رکھا اور تسلی دی بیٹا شکر کرو خدا کا صحت مند ہو لاچار نہیں ہو۔
فکر کیوں کرتے ہو میرے بچے۔
تاریک ترین راتیں روشن ترین ستارے پیدا کرتی ہیں۔”
ہمت:
ارے یہ لکھنا کیوں چھوڑ دیا معین۔چلو قلم اٹھاو پھر سے لکھو۔
مگر باس میری ہر کوشش ناکام ہو رہی ہے۔
میں جو لکھتا ہوں سچ لکھتا ہوں،تلخ لکھتا ہوں۔
لوگوں کو پسند نہیں آتا۔
دیکھو معین ہر طوفان گزر جائے گا، لیکن قوس قزح ہمیشہ کے لیے ہے۔”
تم لکھتے رہو،لکھتے رہو آخر قلم اور لفظوں کے خزانے کے مالک تو ہو۔
ایک دن کامیابی تمھارا مقدر ہوگی۔
ججھک :
میں کب سے دیکھ رہی ہوں میڈیم آپ ہر گانے میں اپنا منہ زبردستی بند کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
ایسا مت کریں پلیز۔
مگر ڈائرکٹر صاحب میرے لمبے دانت برے لگتے ہیں۔
دیکھئیے میڈیم آپ ایک سحر انگیز آواز کی مالک ہے۔”آپ کی آواز اہمیت رکھتی ہے، اسے فرق کرنے کے لیے استعمال کریں۔”
دوسروں کی پروا مت کریں ۔
اس دن کے بعد اس گلوکارہ اس شوق سے گانے ریکارڈ کروائے،اور پرفارمنس دی
کہ وہ دنیا کی کامیاب گلوکارہ بنی۔
زنجیر:
کیا ہوا اسلم تم اتنے مایوس کیوں ہو؟
میں تمھارا انتظار کر رہا تھا کہ تم آو گے تو میں کام پے جاونگا۔
دیکھو میرے دوست تمھیں خود اپنے پاوں پے کھڑا ہونا پڑے گا۔
روز روز میرے سہارے پے بیٹھے رہو گے تو کام سے بھی جاو گے اور کاہل اور سست بھی رہو گے۔
دوسری بات صرف زنجیریں جو ہمیں باندھتی ہیں وہی ہیں جو ہم خود بناتے ہیں۔”
لہذا خود اپنے اوپر اعتماد کرو اور خود زندگی کا مقابلہ کرو۔
چنگاری:
جب سے وہ مجھے چھوڑ کے گئی ہے میں اس کمرے سے باہر زیادہ نہیں نکلتا۔
کون ہو تم جو مجھے نظر نہیں آرہے؟
میں تمھارا دوست تمھارا ہمدرد ضمیر۔
کیوں آئے ہو تم ؟ مجھے اس تاریکی میں اکیلا رہنے دو۔مجھے اس تاریکی سے مت نکالو۔
میرے دوست اگر کوئی تمھارے زندگی سے چلا جائے اسکا مطلب یہ نہیں کہ زندگی میں ہر طرف اندھیرا چھا گیا ہے۔
ہو سکتا ہے نئی منزل تمھاری منتظر ہو نئی کامیابی تمھاری راہ دیکھ رہی ہو۔کیونکہ
"اندھیرے کی گہرائیوں میں امید کی ایک چنگاری ضرور ہوتی ہے۔”
نقل:
کیا اچل کود کر رہے ہو برخوردار؟
شفیق چچا میں چارلی چیلن کی نکل کر رہا ہوں۔
اسکی طرح حرکتیں کر رہا ہوں تاکہ ویڈیو بناو اور عوام میں مشہور ہو جاوں۔
دیکھو جبران بیٹے خدا نے ہر انسان کو الگ الگ اور منفرد پیدا کیا ہے۔ہر ایک کی جداگانہ اور منفرد حیثیت ہے جو لوگ اس دنیا میں آئے نام کما کر چلے گئے وہ تو دنیا سے گئے مگر تم اب بھی جوان ہو تمھارے اندر ٹیلنٹ ہے امید ہے۔
تم اپنی الگ اور منفرد پہچان بناو اپنی شخصیت کے مطابق کام کرو۔
تب تم عوام میں پسند کئے جاو گے۔وہ کہتے ہے نہ کہ
 "دنیا کو آپ کے منفرد راگ کی ضرورت ہے، بلند آواز میں گاؤ۔”
اپنی الگ اور خود کی پہچان پیدا کرو۔
منزل:
کہاں جارہے ہو شکیل اتنی جلدی میں؟
چوکیدار چچا میں بلڈنگ سے کودنے جارہا ہوں۔
بہت بری بات شکیل بیٹے تم جوان ہو،قابل ہو،پڑھے لکھے انسان ہو پھر یہ ناسمجھی کی باتیں تمھارے منہ سے اچھی نہیں لگتی۔
چوکیدار چچا مجھے دفتر کے افسر نے نوکری سے نکال دیا ہے وہ بھی غلطی کسی اور کی تھی میری نہیں تھی۔
شکیل بیٹا صرف نوکری ہی گئی ہے کوئی قیامت تو نہیں آئی نا اتنی سی بات پے مایوس ہو جانا اور اپنی جان دینا یہ بہت بڑا گناہ عظیم ہے۔
پریشان ہونے کی ضرورت نہیں میں تمھاری سفارش قریبی دفتر میں کروا دونگا وہاں محنتی افراد کی ضرورت ہے اور تنخواہ بھی زیادہ ہے۔
اب خوش ہو جاو اور اپنے گھر بےفکر ہو کے جاو۔کیونکہ سیانے لوگ کہتے ہیں کہ
  "ہر عظیم کہانی کا آغاز ایک لفظ سے ہوتا ہے۔”
وہ لفظ ہے کوشش زندگی میں کوشش کرتے جاو بالآخر ایک نہ ایک دن منزل پر پہنچ ہی جاو گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے