محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک۔
۱۔ اسکیمات کے بازار
بڑے بڑے شورومس جیویلری فروخت کرنے میں ایک دوسرے سے بازی لے جارہی ہیں۔ ان تمام جیویلری شاپس پر خواتین کاہجوم دیکھ کر محسوس ہوتاہے جیسے معتبر خواتین کے لئے جیویلری فری ہو۔ اتنے میں ایک نیم دیوانہ شخص یہ کہہ کر ہم دوستوں کے سامنے سے گزر گیاکہ ’’حکومت کی تمام اسکیمات بھی فری سمجھیں۔ اگر حکومت کے ایوانوں
تک آپ کی بھرپور رسائی ہوتب ‘‘
ہم نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ۔ ہمارے چہروں پرالجھن تھی ۔ واقعی ہماری بے روزگاری دور ہونے کانام نہیں لے رہی ہے ۔ جبکہ حکومت نے اسکیمات کے بازار بھی سجارکھے ہیں ۔ اور ان بازاروں کے بارے میں ہم نوجوان کم ہی جانتے ہیں۔
۲۔ معاف فرمائیں
اس نے شہید کے جسد ِ خاکی کا دیدار کیا اور دنیا سے صرف اتناہی کہا’’میرے سرتاج نے حق کے لئے اپنی جان دے دی ہے۔ اے دنیا ، ہوسکے تو حوصلہ کر اور حق کی طرف دار بن جا۔ اگر ایسا نہیں ہواتو لاکھوں سرتاج چھینے جائیں گے اور کروڑوں لڑکے لڑکیاں یتیم ہوں گی ‘‘
دنیا تک اس خاتون کاپیغام پہنچاضرور ، لیکن دوسرے کے گریبانوں پر ہاتھ ڈال چکی دنیا کواس پیغام پر غور کرنے کی فرصت کہاں ہے اور پھر میں بھی ذراجلدی میں ہوں ، کچھ نہ سمجھیں معاف فرمائیں ۔
۳۔ اخبار کی قیمت
’’اخبار کی قیمت ایک روپئے بڑھ چکی ہے ، کیوں لیتے ہیں اخبار آپ ؟‘‘بیگم نے کہاتو محب ِ زبان وادب جناب سہیل احسن نے میٹھے لہجے میں کہا’’بیگم ، یہ سب میں نے آپ ہی سے سیکھاہے ‘‘ بیگم نے خود پر الزام لگتے دیکھاتووہ تقریباً بھڑ ک گئیں، کہاکہ’’میں نے کب مہنگی چیزیں خریدی ہیں ؟کفایت شعاری تو میر اشعار رہاہے ‘‘ بیگم نے گردن اکڑا کر جیسے خود کوشاباشی دی۔ سہیل احسن نے چاوی لی اور ہیلمٹ ہاتھ میں لے کر کہا’’بالکل ، بالکل ، درستہی کہہ رہی ہوں گی آپ ، لیکن 20؍روپئے کیلووالے ٹماٹر کو کبھی کبھی 100اور 150روپئے فی کیلو ٹماٹر خریدتے ہوئے دیکھا اور سنا ہے ۔ میں تو بیچار اجب بھی
ترکاری لاتاہوں ، آپ کے نزدیک وہ مہنگی ہی ہوتی ہے نا‘‘
وہ بیرونی دروازے کی طرف بڑھے تو بیگم صاحبہ بھی پیچھے آتے ہوئے بولیں ’’وہ دیکھئے ، ضرورت کی اشیاء جب مہنگی ہوجاتی ہیں تو اس مہنگی شئے کو خریدنا ہی پڑتاہے جس میں ترکاری بھی شامل ہے ‘‘
سہیل احسن نے اپنے جوتے پہنے اور کہا’’اخبار کو بھی ضرورت کی اشیاء والی فہرست میں آج ہی سے شامل کرلیں۔ کوئی پریشانی نہیں ہوگی ان شاء اللہ ‘‘پھر تو یہ جاوہ جا۔
