سلیمان خمار کے سانحہ ارتحال پر ڈاکٹر ماجد داغی کا اظہارِ تعزیت

گلبرگہ 9/ اگسٹ.(پریس نوٹ): سرزمینِ بیجاپور کے نامور شاعر جناب سلیمان خمار کے انتقال پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر ماجد داغی رکن کلیان کرناٹک پردیشدا اتہاس رچنا سمیتی (حکومتِ کرناٹکا) گلبرگہ نے سلیمان خمار کے سانحہ ارتحال کو اردو شاعری بالخصوص کرناٹک کے لئے نا قابلِ تلافی نقصان قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سلیمان خمار اپنی جدت طرازی، لفظیات کے دلفریب استعمال، تخیّل کی موثر ترجمانی کی وجہ اردو شاعری میں قومی سطح پر اپنی پہچان بنالی تھی۔

ان کے دو مجموعہ ہائے کلام ‘ تیسرا سفر’ اور ‘ سمندر جاگتا ہے’ کے علاوہ نعتوں کا مجموعہ ‘ پیکرِ نور’ شائع ہوچکے ہیں۔ جو اردو شعری سرمایہ میں قابلِ قدر اضافہ ہیں۔ محکمہ تعلیمات سے حسن خدمات پر وظیفہ یاب ہوئے. سلیمان خمار بیجاپور کے کئی تعلیمی اداروں سے وابستہ تھے اور اردو زبان و ادب کے ساتھ ساتھ وہ تعلیم کے فروغ کے لیے بھی سرگرداں رہے۔ادب میں جدیدیت کو استحکام بخشا ان کا کلام اردو دنیا کے اہم ادبی رسائل، جرائد اور اخبارات میں کثرت سے شائع ہوتا رہا ہے ۔  قومی و بین الاقوامی مشاعروں کے علاوہ سلیمان خمار کو ریاض اور جدہ میں عالمی مشاعروں میں شرکت اور کلام پڑھنے کا اعزاز بھی حاصل رہا ہے۔

سلیمان خمار انتہائی خوش مزاج، خوش پوشاک اور خوش خِصال شخصیت کے مالک تھے، انہوں نے بتایا کہ کرناٹک اُردو اکاڈمی بنگلور کے 1994 تا 1996 کے دورانیہ میں سلیمان خمار ان کے رفیقِ کار تھے تاہم ان سے یارانہ بہت پرانہ تھا وہ ملازمت میں ایک رشتے کے بھائی کے کلیگ بھی تھے اکثر ملاقاتوں کے علاوہ فون پر رابطہ میں پابندی تھی جب بھی گفتگو ہوتی قہقہوں کے دریچے روشن کرتے اور تازہ کلام کی سماعت سے فکر و فن کے کمالات اجاگر کرتے. دست بہ دعا ہوں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ مرحوم کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عنایت فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے… آمین ثم آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے