- گلبرگہ میں ’’جدوجہد آزادی میں مسلمانوں کے تاریخی رول‘‘ پر جلسۂ عام، علماء و دانشوران کا اظہار خیال
گلبرگہ۔12؍اگست (پریس نوٹ): ملک کی جد و جہد آزادی میں مسلمانوں کاتاریخی رول رہا ہے ، مسلمانوں کی تاریخ کو مٹانے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن مسلمانوں کی تاریخ کو مٹانا آسان نہیں ہے ۔اس خیال کا اظہار سینئر صحافی عزیز اللہ سرمست صدر حضرت صوفی سرمستؒ اسلامک اسٹڈی سرکل گلبرگہ نے کیا ہے ۔ وہ کل 11:30بجے دن حضرت خواجہ بندہ نوازؒ ایوان اردو انجمن ترقی اردو گلبرگہ میں منعقدہ جلسہ میں صدارتی تقریر کر رہے تھے ۔
حضرت صوفی سرمستؒ اسلامک اسٹڈی سرکل کے زیر اہتمام 78ویں جشن آزادی کے موقع پر منعقدہ اس جلسہ کا افتتاح ڈاکٹراکرم نقاش صدر انجمن ترقی اردو ہندشاخ گلبرگہ نے پودے کو پانی دے کر کیا ۔ عزیز اللہ سرمست نے مزید کہا کہ مسلمانوں کے علماء، ادباء ، شعراء ، صحافیوں اور قائدین نے ملک کی جد و جہد آزادی کے لئے اتنا خون بہایا ہے کہ ملک کا ذرہ ذرہ مسلمانوں کے خون سے سرخ ہے ۔ مسلمانوں نے ہمیشہ تاریخ بنائی ہے اور جو تاریخ بناتے ہیں ان کی تاریخ مٹائی نہیں جا سکتی ۔ قبل ازیں کارروائی کا آغاز مولوی محمد خواجہ گیسو دراز کی قرأت کلام پاک سے ہو ا۔ الیاس صابری ہاشمی ،سجاد حسین نے نعت خوانی کا شرف حاصل کیا ۔ مقبول احمد نیئر شاہ آبادی نے مسلم مجاہدین آزادی پر نظم پیش کی اور طالبہ ایمن شکاری نے مسلم مجاہدین آزادی کو اشعار کے ذریعہ نہایت جذباتی انداز میں خراج تحسین پیش کیا ۔معروف سماجی کارکن ساجد علی رنجولوی نے خیر مقدم کرتے ہوئے نئی نسل کو مسلم مجاہدین آزادی کی تاریخ سے واقف کروانے اس طرح کے جلسوں کے انعقاد پر زور دیا ۔ عبدالجبار گولہ ایڈوکیٹ نے جدوجہد آزادی میں مسلم قائدین کا رول کے زیر عنوان اہم مسلم قائدین کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے موجودہ حالات میں مسلم قیادت کو مستحکم بنانے کی ضرورت ہے تاکہ مسلمانوں کے مسائل کی بھر پور نمائندگی ہو سکے۔
ڈاکٹر ماجد داغی معتمد انجمن ترقی اردو گلبرگہ نے جدوجہد آزادی میں اردو شعراء کا رول کے زیر عنوان اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اردو کے شعراء نے اپنی انقلابی شاعری سے جد و جہد آزادی کو کامیاب بنانے میں اہم رول اد اکیا ۔انہوں نے کہا کہ اردو شاعری نے جذبہ حریت کو بیدار کیا ۔محترمہ کوثر پر وین نے جد و جہد آزادی میں خواتین کا رول کے زیر عنوان اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کے تذکرہ کے بغیر جدو جہد آزادی کی تاریخ مکمل نہیں ہوتی ۔ انہوں نے بیگم حضرت محل ، بی اماں ،سبز پوش خاتون ، ثریا بدرالدین طیب جی اور کئی ایک مسلم خواتین کے کارناموں کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ جدوجہد آزادی میں مجاہدین کی بیگمات نے عظیم قربانیاں پیش کیں لیکن آج ان کی قربانیوں کو فراموش کر دیا گیاہے۔
ممتاز عالم دین مولانا جاوید عالم قاسمی نے کہا کہ 100سال تک مسلمانوں نے تنہا جدوجہد آزادی کی تحریک چلائی جب کہ دیگر قومیں جدوجہد آزادی میں بعد میں شامل ہوئیں۔ انہوں نے حیدر علی اور ٹیپو سلطان کی شجاعت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ حیدر علی نے 3 جنگوں میں انگریزوں کو شکست دی ۔ انہوں نے کہا کہ جب تک اورنگزیب عالمگیر ؒ حیات رہے انگریزوں نے حصول اقتدار کی جرأت نہیں دکھائی۔
مولانا حافظ محمد فخر الدین مانیال نے جدوجہد آزادی میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ اور ان کے خانوادہ کا رول کے زیر عنوان خطاب کرتے ہوئے جدوجہد آزادی میں علمائے کرام کی قربانیوں کا احاطہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ جدوجہد آزادی میں 54 ہزار علماء شہید ہوئے ہیں۔ مولانا حافظ محمد فخر الدین نے مزید کہا کہ ملک کے موجودہ حالات میں جبکہ نفرت پھیلائی جا رہی ہے علماء و مشائخین کو اس کے تدارک اور انسانی بھائی چارہ اور محبت کے پیغام کو عام کرنے کے لئے آگے آنا چاہئے۔
مولانا مفتی سید پیراں حسینی نے جدوجہد آزادی میں مولوی سید کفایت علی کافی کا جذبہ عشق رسول ؐ کے زیر عنوان خطاب کرتے ہوئے مولوی سید کفایت علی کو انگریزوں کی جانب سے دی گئیں وحشیانہ اذیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ احکام الٰہی کی پابندی اور سنت رسول ؐ کی پیروی کے بغیر ہمیں دین اور دنیا کی کامیابی حاصل نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ عشق رسول کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو ہر قربانی کے لئے پیش کریں ۔ ڈاکٹر عبدالباری نے جدوجہد آزادی میں علی برادران کا رول کے زیر عنوان خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خلافت تحریک کے ذریعہ نظام خلافت کے احیاء کے لئے علی برادران نے زبردست خدمات انجام دیں ۔ انہوں نے کہا کہ علی برادران نے ہندوں اور مسلمانوں کو ایک دوسرے سے قریب لانے کے لئے اہم کاوشیں کیں اور مہاتما گاندھی کو جدوجہد آزادی کی قیادت سونپنے کے پیچھے یہی حکمت عملی کارفرما تھی۔ سید نثار احمد وزیر موظف تحصیلدار نے آزادی کے 78سال اور مسلمان کے زیر عنوان اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جدوجہد آزادی میں مسلمانوں نے کلیدی رول ادا کیا لیکن دوسری قوموں کے مقابلہ میں مسلمانوں کو ترقی اور برابری کے بہت کم مواقع حاصل ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین ہی حکومت کا ایڈمنسٹریشن چلاتے ہیں لیکن مسلمانوں میں سرکاری ملازمتوں میں جانے اور اعلیٰ عہدے حاصل کرنے کا رحجان بہت کم پایا جاتا ہے جس کے نتیجہ میں مسلمان سرکاری مراعات سے استفادہ کرنے میں پیچھے ہیں۔
سینئر صحافی عزیز اللہ سرمست نے جد و جہد آزادی میں اردو صحافیوں کا رول کے زیر عنوان خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جد و جہد آزادی کو شروع کرنے کا اعزاز اردو صحافیوںکو ہی جاتا ہے اور ملک کی آزادی کے لئے شہید ہونے والوں میںاولیت اردو صحافی مولوی محمد باقر کو حاصل ہوئی ۔ ڈاکٹر اکرم نقاش نے اس بات پر سخت اظہار تاسف کیا کہ مسلمانوں کو عصبیت اور تنگ نظری کو شکار بنایا جا رہا ہے ۔ انہوں نے ملک میں مسلمانوں کو در پیش موجودہ سنگین حالات کے لئے مسلمانوں کی سرد مہر ی اور مجرمانہ غفلت کو اصل وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ 800 سال حکومت کرنے والی قوم آج کس طرح زیر ہو گئی ہے اس کا ہمیں جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ انجینئر محمد عزیز الدین موظف ای ای محکمہ تعمیرات عامہ نے بزبان انگریزی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو آزادی دلانے والی قوم آج مایوسی اور احساس محرومی کا شکار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مایوسی اور احساس محرومی سے باہر نکلنے کے لئے ہمیں اپنی روشن تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہئے ۔ مولانا محمد نوح قائد مسلم لیگ، انجینئر مشتاق احمد موظف اے ای ای محکمہ تعمیرات عامہ ، انجینئر محمد محمود موظف اے ای ای محکمہ تعمیرات عامہ اور محمد طاہر علی معاون کارپوریٹر نے مہمانان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی ۔
مجیب علی خان بانی صدر مجیب علی خان میوزم اینڈ کلچرل فورم گلبرگہ نے شکریہ ادا کیا ۔بشیر عالم نے نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ نظامت کے فرائض انجام دیئے ۔مختلف تنظیموں ، اداروں کے ذمہ داران اور مرد و خواتین کی کثیر تعداد نے جلسہ میں شرکت کی ۔
