محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک
۱۔ علاج کی کوشش 
ڈاکٹر اس کی دوائیاں بدل رہاتھا
اور مریض تھاکہ سوچ رہاتھا’’کاش ! ڈاکٹر کو اتنا علم ہوتا اوراس میں اس قدر طاقت ہوتی کہ میرامسئلہ ہی بدل دیتا۔جس کی وجہ سے دوائی بدلنے کی نوبت نہ آتی ۔
پانچویں دفعہ دوائی کاتبدیل کیاجانا کیاکوئی اچھی بات ہے ؟
۲۔ ہارچکے لوگ 
عوامی سطح پر کوشش نہیں کی اس لئے عوامی سطح پراسلاموفوبیا کے ہتھیارسے وہ لوگ ہار گئے۔
بہت زیادہ بوال ہوگیاتو قائدین کی جانب سے جواب آیاکہ’’ سب کچھ اللہ کرتاہے۔ عوامی سطح پر کوشش نہ کرنا بھی اللہ کی طرف سے تھا۔اس کی مشیت کے آگے کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔اللہ کی مشیت کے آگے امام حسین ؓ نے اپنی گردن کٹادی تھی‘‘
کوئی دور سے پکارا ’’تم نے اپنی گردن کیوں نہیں کٹائی ؟ کوشش کے بعد ہارجانے کو مشیت ِ خداوندی کہتے ہیں ‘‘ سبھی اس بولنے والے کی طرف دیکھنے لگے تھے۔
۳۔ خیال کرو
دوبارہ استفسار کے بعد بھی گروپ کے لوگ خاموش تھے۔ مجھے بھی خاموش ہوجاناپڑا لیکن میرے اندر کاوحشی چیخ چیخ کر آسمانِ نہاں سرپر اٹھایاہواتھا۔ کہہ رہاتھا
’’دیکھا، کوئی جواب نہیں دیتا۔ جب خود پر آپڑتی ہے تو بھاگ کھڑے ہوتے ہیں، اور دوسرا جب کوئی مشکل کام انجام دیتاہے تو اس کے کام کوسراہتے بھی نہیں، یہ کیاانقلاب لائیں گے ۔مثال دے رہے ہیں کہ بنگلہ دیش کی طرح انقلاب لائیں گے۔ وقت بتادے گاکہ بنگلہ دیش کاانقلاب کس کی شہ پر آیاہے اوراس انقلاب کے ذریعہ کن کن کو ٹارگٹ کیاگیاہے اورکس ملک کے بدلے یہ سوداہواہے ‘‘
اب میں کس کس کو بتاپاتاکہ میرے اندر کیاہورہاہے؟یار ، تمہاری منافقانہ خاموشی پر بھی میں تڑپ تڑپ جاتا ہوں ۔ میری کوششوں اور تڑپنے پھڑکنے کاکچھ توخیال کرو۔ جنگل کے جانور تک مل جل کے رہتے ہیں ۔ اور تم لوگ ہوکہ مجھے اکیلا چھوڑدیتے ہو؟
۴۔ نقاب اُتری 
وہ گھبرارہاتھاکہ کس طرح اتنی بڑی بات کہہ دے۔اس سے یہ ممکن نہیں تھا۔اس کی حالت دیکھ کر مہتمم جامعہ نے طلبہ سے کہاکہ اس کامنہ اچھی طرح دھلوا کر اور جھیل میں اس کے چہرے کا خود اس کوہی دیدار کرواکرلانا۔ طلبہ نے ایسا ہی کیا۔ وہ جھیل سے واپس آیاتو وہ یکسر بدلا ہواتھا۔ اس کے منہ سے جنگلی بادشاہ جیسی غراہٹ نکل رہی تھی۔
مہتمم جامعہ خوش تھے کہ ایک اور نے اپنی نقاب اتارپھینکی ہے۔
۵۔ معبد خانہ 
اس کی ننگی بانہیں اور شہوت پرست اشاروں اوراداؤں نے اس کی جانب مائل کردیاتھا۔ دل لیکن ملامت کررہاتھا۔کوئی اندر سے کہہ رہاتھاکہ اچھائی میںاچھائی تب خوبصورت لگے گی جب برائی کو خودبھی جان سکیں۔ میرے اندر کوئی عجیب سی طاقت آگئی اور میں مغلوب ہوکر رہ گیا۔
چھ ماہ تک کی آوارگی نے مجھے کہیں کانہ رکھا۔ چھ ماہ بعد وطن واپس ہواہوں تواب ایک شرمندگی سی سرتاپا دوڑ رہی ہے کہ ایک گناہگار شخص کس طرح معبد خانے میں داخل ہوکر آزادانہ طورپر گھوم پھر رہاہے ؟ پھر کوئی اندر سے اکسانے لگاکہ یہ جو اپنے وطن میں نیک بنے پھررہے ہیں، وطن سے باہر جاتے ہی نیکی کاچولااُتارپھینکتے ہیں۔ تمہیں فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، سبھی یہاں گناہگار ہیں۔ لیکن میرے اندر کاوہ فکر مند رہا۔ ساری عمر سراٹھاکر وطن ِ عزیز میں چل پھر نہ سکا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے