ڈاکٹر شارب مورانوی بارہ بنکی انڈیا 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امریکا کی جانب سے بہت بڑی خبر موصول ہو رہی ہے جس میں امریکا نے اپنی نیوکلیئر ٹیم کو چار محاذ پر لڑائی کے لئے تیار رہنے کا حکم جاری کر دیا ہے جو کہ عالمی جنگ دو کے بعد اِس طرح کے اقدامات پہلی بار سامنے آئے ہیں نیویارک ٹائمز کے مطابق بائیڈن نے جوہری جنگ کی تیاری شروع کردی ہے جب کہ بظاہر کوئی بھی مُلک آمریکا سے جنگ نہیں چاہتا پھر بھی امریکا نے اِس طرح جنگی تیاری کے نام پر دستخط کر کے پوری دنیا کو حیران کردیا ہے جِس سے دنیا میں ایک طرح کی کھلبلی مچ گئی ہے۔

یہ چار مشرقی طاقتوں کے خلاف بائیڈن کے دستخط امریکا کو الگ تھلگ کرنے میں مزید اضافہ کرینگے امریکا یوں بھی اسرائیلی حمایت کی وجہ سے کئی مورچوں پر اپنی ساکھ کھو چُکا ہے بس ناک بچانے کے لئے جوجھ رہا ہے اور ایران جیسے چھوٹے چھوٹے مُلک اُسے اپنی چوکھٹ پر ناک رگڑوا رہے ہیں پھر بھی بائیڈن ہے کہ نیتن یاہو کو امداد پر امداد دیئے جا رہا ہے اور غزہ کے قاتلوں میں اپنا نام شمار کرا کر فخر کر رہا ہے جبکہ آنے والے 20 سے 25 دنوں میں برکس (BRICS) کی میٹنگ ہونے والی ہے جِس میں تقریباً 50 مُلک حصّہ لینے والے ہیں۔ BRICS کے ممبرز میں اضافہ کیا جانے والا ہے اور اِس کی قرارداد کی منظوري میں ڈالر کا کھیل ختم کر دیا جائے گا۔

ڈالر کا کھیل ختم ہوتے ہی امریکا منھ کے بل زمین پر گر پڑے گا۔ صِرف اتنا ہی نہیں اِس کو ایک اور زبردست جھٹکا لگنے والا ہے جہاں اُس کی دادا گیری اور غنڈاگردی کرنے والے شیطان کا گریبان بھی پھاڑا جانے والا ہے، لگتا ہے اُسے اِس کی آہٹ مل گئی ہے اور اب اِسے اپنا انجام بھی نظر آنے لگا ہے۔ اسی وجہ سے اُس نے یہ دستخط کا ناٹک شروع کیا ہے۔ اُسے معلوم ہے کہ ڈالر کے ختم ہوتے ہی اُس کی تباہی شروع ہو جائیگی اور یہیں سے اُس کی تنزلی کا آغاز ہوگا۔ صِرف اتنا ہی نہیں ہم اور آپ سب اسرائیل کو صفحہ ہستی سے ختم ہوتا ہوا بھی دیکھیں گے۔

اسرائیل کی جانب سے بولتے ہوئے امریکا کے بلينکن نے کہا ہے کہ نیتن یاہو کو تو ہم نے جنگ بندی کے لئے تیار کر لیا ہے مگر حماس نہیں مان رہا ہے، اِس بات پر ہمیشہ خاموش رہنے والے عرب ممالک بھی امریکا کے بلينکن سے اِس قدر ناراض ہیں کہ اُنھوں نے بھی اب امریکا اور بلينکن کو جھوٹا کہنا شروع کر دیا ہے۔ اِس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عرب ممالک بھی اب فلسطین کے حق میں آگئے ہیں۔

اِس طرح کہا جا سکتا ہے کہ اِس دستخط سے صِرف برّصغیر میں ہی نہیں بلکہ پورے عالم میں سونامی جیسے حالات بن گئے ہیں، اِس سونامی کے اندر امریکا جیسے ملک کو بھی ڈبا دینے کی بھر پور صلاحیت ہے۔ امریکا اگر ڈالر کے برباد ہو جانے سے بھی نہ برباد ہوا تو بھی اسرائیل کی وجہ سے ضرور برباد ہو جائیگا۔ اپنی بربادی کے بعد یہ اسرائیل سے دست بردار ہوگا۔ تب امریکی عوام کہے گی، سب کُچھ لُٹا کے ہوش میں آئے تو کیا ہوا؟

اُس وقت اسرائیل کی گدّی پر چوطرفہ تماچوں کی بارش شروع ہوچکی ہوگی اور وہ اپنی گدّی پر ہاتھ رکھے ہوئے بھاگ رہا ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے