سہارنپور (احمد رضا): سہارنپور کی ادبی معیاری انجمن "انجمن  عروج ادب” کی جانب سے جشن آزادی کے عنوان سے  کل یہاں لوہانی سرائے میں ایک شاندار مشاعرہ کا پر وقار انعقاد بعد نماز عشاء عمل میں آیا جسمیں سیکڑوں معزز مہمانوں نے شرکت کی ادبی شام کی صدارت معروف کہنہ مشق شاعر  محترم جناب ہارون صابر فریدی نے کی اور  نظامت کے فرائض  انجمن عروج ادب کے جنرل سیکرٹری  اور معروف شاعر جناب دانش کمال صاحب نے بحسن خوبی انجام دیئے مشاعرہ میں مہمان خصوصی کے طور پر معروف صحافی جناب احمد رضا صاحب نے شرکت فرماکر شعراء حضراتِ کی حوصلہ افزائی فرمائی۔
مشاعرہ کا  شاندار آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جو بہترین  قاری حافظ مزمل  صاحب نےاپنی خوبصورت آواز سے  فرما کر محفل کو نورانی اور زعفران زار بنایا بعد ازاں ناظم مشاعرہ نے انجمن عروج ادب کے بانی  کہنہ مشق استاد الشعرا  محسن ادب  آبروئے سخن مرحوم حضرت  حمید قریشی کا لکھا حب الوطنی سے سرشار  گیت۔۔۔۔*میرے محبوب وطن میرے محبوب وطن   تیرے زروں کے قدم چومنے تارے ٹوٹیں جھک رہا ہے تری دھرتی پہ عقیدت سے گگن میرے محبوب وطن  میرے محبوب وطن * پڑھ کر مشاعرہ کا آغاز کیا  ۔ مشاعرہ  دس بجے شروع ہوکر رات دو بجے  بخوبی اختتام پذیر ہوا   مشاعرہ میں باذوق سامعین   اور اہل ادب حضرات  کی شرکت  مشاعرہ کی کامیابی کی ضمانت رہے مشاعرہ کی ایک خاص خوبی یہ بھی رہی کہ مدعوین شعراء  کی پابندی سے شرکت رہی جو ان کے  بانئ انجمن  حضرت حمید قریشی مرحوم سے عقیدت  اور  انجمن ہذا اور دانش کمال صاحب سے محبت اور ملنساری  کا مظاہرہ کررہی تھی  جسے دانش کمال صاحب نے محسوس کر  بارہا اسکے لئے اظہار تشکر جتایا !
مہمان خصوصی احمد رضا  صاحب نے جنگ آزادی  میں شاعروں اور قلم کاروں  کی حصہ داری پر خاصی روشنی ڈالی اور اپنے شہر سہارنپور  کے شعراء کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کے شعراء  کا کلام  ہندوستان  کے صف اول کے شاعروں  سے کسی طور کم نہیں  یہاں کا ادبی اور علمی معیار  ہمیشہ سے افضل  و بہتر  رہا ہے  جو آج بھی  حسب روایت  ترقی کی راہوں  پر گامزن ہے  جس پر ہمیں  فخر محسوس  ہوتا ہے !مشاعرہ میں شریک شعراء کرام میں  جناب  ہارون صابر ،جناب سکندر حیات  ،جناب دانش کمال،جناب فیاض ندیم، جناب پیرذادہ عاصم،جناب مستقیم روشن،جناب الیاس علم،جناب طاہر امین،جناب عدیل تابش، جناب خرم سلطان، جناب عابد اسعدی، جناب کمال احمد کمال،جناب لئق افضل، جناب سلیم راکٹ،جناب راو اصغر اور مہمان شاعر جناب نجم الاسلام نجم مظفر نگری  وغیرہ نے مشاعرہ میں اپنے کلام سے نوازا  چند اشعار نذر قارئین ہیں ملاحظہ فرمائیں:
مجھ کو پھر کیوں نہو دانش یہ وطن میرا عزیز
اسکی مٹی سے مجھے ممتا کی خوشبو آئے
دانش کمال
ہم نے  صدیوں کے جگر چاک کئے ہیں اکثر
ایک ہی لمحے میں تاریخ بدل دیتے ہیں
نجم مظفر نگری
عقل نے تھام لیا بڑھ کے جنوں کا  دامن
ورنہ یہ جوش طلب  دونوں کو رسوا کرتا
ہارون صابر
میرے بھارت کی شان میرے بھارت کی شان
میرا بھارت مہان میرا بھارت  مہان
الیاس علم
جسے بنایا تھا اپنا بڑے یقین کےساتھ
وہ شخص بیٹھا ہوا ہے منافق کےساتھ
عدیل تابش
سمندروں میں تجھے سوئ کی طرح ڈھونڈا
مری تلاش کی شدت پہ آکے سوچا کر
فراز اکملی
ترے کرم کی  تری رحمتونکی حد ہی نہیں
گناہ ورنہ تو ہم بے شمار کرتے ہیں
لئیق افضل
ان کے علاوہ بھی سبھی شعراء کے کلام کو بڑے شوق کےساتھ سنا گیا مشاعرہ کا انعقاد  عمران قریشی صدر کانگریس سیوا دل و رکن انجمن عروج ادب کے دولت کدہ پر بڑے عمدہ اہتمام  کےساتھ  کیا گیا  نیتا جی نے  صدر محفل ہارون  صابر صاحب   اور مہمان خصوصی احمد رضا صاحب  و انجمن کے روح رواں دانش کمال صاحب  کو دستار پہنا کر  انکا استقبال کیا اور دیگر  مہمانان کو بھی پھولوں کے ہار پیش کئے اور مشاعرہ کی کامیابی پر مبارکباد پیش کی آخر میں  کنوینر  مشاعرہ  فراز احمد  نے سبھی شعراء  و سامعین  حضرات کا شکریہ ادا کرکے پروگرام کے اختتام کا اعلان کیا!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے