"سورج لہولہان ہے ہر شام دیکھ لے،
اے زندگی غرور کا انجام دیکھ لے”
سہارنپور(احمد رضا): ہم کو یہاں یہ لکھتے ہوئے مسرت ہورہی ہے کہ کافی عرصہ بعد اس سر زمین پر اردو دوست اور اردو کے ضامن ساحل فریدی کو اردو کے محافظوں نے دیر سے ہی سہی مگر یاد تو کیا خوب یاد کیا جب جب اردو ادب کی بات ہوگی ساحل فریدی کا نام مبارک زبان پر ضرور آئیگا ! "سہارنپور میں اردو ادب کو اردو زبان کو اور اردو شاعری کو نئی بلندی اور نیا وقار بخشنے والے مخلص اور مجاہدانہ زندگی گزارنے والے شخص کا نام ساحل فریدی تھا جس عہد میں سہارنپور کی شاعری نشستوں اور مقامی طور ہونے والے چھوٹے چھوٹے مشاعروں تک محدود تھی ساحل فریدی نے شہر اور صوبے کی حدود سے باہر پورے ہندوستان میں اپنے فن اور شاعری کا لوہا منوایا اور سہارنپور کو اردو ادب کی تاریخ میں ایک نئی پہچان عطا کی میں طاہر امین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے ساحل فریدی کے نام سے اس خوبصورت پروگرام کو آراستہ کیا جس سے نئی نسل تک ساحل فریدی کا تعارف پہنچ سکے” ! سبحان اللہ
مند رجِہ بالا خیالات کا اظہاربطور مہمانِ خصوصی آج کی شاندار ادبی تقریب میں شرکت کرتے ہوئے ملک کے نامور شاعر اور ادیب ڈاکٹر عاصم پیرزادہ نے کیا یہ پر رونق موقع تھا "ایک شام ساحل فریدی کے نام” ادبی تقریب کا جس کا انعقاد طاہر امین کے راحت کدہ کے وسیع ہال میں کیا گیا اس تقریب کی صدارت کرتے ہوئے استاد شاعر سکندر حیات نے کہا ساحل فریدی کا مجھ سے تعلق دوستی والا تھا لیکن اس زمانے میں دوستی کے بڑے معانی ہوا کرتے تھے دورانِ گفتگو ادب ملحوظ رکھا جاتا تھا اور ایک دوسرے کا احترام ہم پر واجب تھا انکے جانے سے ادبی فضا میں مایوسی سی چھائی محسوس ہوتی ہے” اردو حلقہ کے معتبر ساتھی فیاض ندیم اور طاہر امین نے قابل احترام شاعر ساحل فریدیرح کے تعلق سے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا پروگرام کی خوبصورت اور باوقار نظامت عدیل تابش کرتپوری نے نئے انداز سے کی پروگرام کا آغاز انصر انجم اور فیاض ندیم کی نعتِ پاک سے ہوا جن شعراء کے کلام کو زیادہ پسند کیا گیا ان کا ایک ایک شعر اخبار کے باذوق قارئین کے لئے پیش کیا جا رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔
سیرت پڑھی تو مل گئے لمحے نعیم کے
نزدیک ہو گیا ہوں رسولِ کریم کے
فیاض ندیم
قافلے سانسوں کے ٹھہرے ہیں یہ کیوں آنکھوں میں
یاس ہے آس ہے احساس ہے فنا ہے کیا ہے
سکندر حیات
ہر چند کہ ہوتا ہے محبت کا جہاں اور
لیکن ترے کوچے میں ذرا دیر فغاں اور
عاصم پیرزادہ
کوئی ممنون نہیں ہے کوئی مشکور نہیں
گھر کا بیٹا ہوں بڑا میں کوئی مزدور نہیں
خرم سلطان
یہی تو سوچ ہے اربابِ اقتدار کی اب
لبوں پہ ٹھہرا ہوا ہر سوال مر جائے
عدیل تابش
فکرِ دنیا میں رہے غرق نہ پایا کچھ بھی
عمر بھر لڑتے رہے ہاتھ نہ آیا کچھ بھی
اسلم محسن
بھر دیا زہر اتنا کانوں میں
تلخیاں گھل گئیں ہیں کانوں میں
مستقیم روشن
ہم دل میں سجا لیں گیں عنایات کے تحفے
ان سے ملے زخموں کی نمائش نہ کریں گیں
طاہر امین
انکساری بڑا بناتی ہے
خود سے کوئی بڑا نہیں ہوتا
انصر انجم
آخری مرتبہ جس دن میں بہت رویا تھا
ہاں مجھے یاد ہے اس روز تجھے کھویا تھا
فراز احمد فراز
میں ایسی کرسی پہ ٹھوکر لگا کے لوٹ آیا
جہاں سے آدمی چھوٹا دکھائی دیتا ہے
فیاض ندیم
یہ اور بات ہے وہ مرا ساتھ چھوڑ گیا
سفر میں عزمِ سفر کو مگر جھنجھوڑ گیا
ڈاکٹر رئیس کمال
علم وعمل کو دورِ جہالت نگل گیا
ظلمت میں ہم چراغ جلاتے کہاں کہاں
راؤ اصغر سہارنپوری
دل اگر نہیں ملتے فاصلہ بڑھا دیجیے
کیوں حسین لمحوں میں تلخیاں بڑھاتے ہو
افضال امیر
انکے علاوہ صابر فلاحی بہٹوی، مجیب بہٹوی شرر اکملی وغیرہ کے کلام کو بہت پسند کیا گیا پروگرام میں معزز شعراء وادباء کے علاوہ شہر سہارنپور کے باوقار سامعین اور صحافی حضرات نے خاصی تعداد میں شرکت کی پروگرام 10 بجے شروع ہو کر دیر رات 2 بجے تک کامیابی کے ساتھ چلا پروگرام کے آخر میں پروگرام کنوینر طاہر امین نے مہمانانِ کرام کا شکریہ ادا کیا۔
