ایک ملک ایک قانون کے تحت کمیشن طلب کرنے والے افسران اور ملازمین کے خلاف بھی اسی طرح کی ہو کارروائی۔
(عبدالمبین منصوری)
سدھارتھ نگر: ہفتہ کے روز ضلع ہیڈ کوارٹر پر واقع کھجوریا روڈ پر ضلع انتظامیہ نے سڑک کو چوڑا کرنے کے لیے سڑک کنارے بنے کئی گھروں اور چہار دیواریوں کو جے سی بی سے پل بھر میں زمین دوز کر دیا۔ کئی آشیانے اور خوابوں کے محلات اور مکانات جو ناجائز قبضہ کی زد میں تھے پل بھر میں مسمار کر دیے گئے۔ جس کی وجہ سے کئی لوگوں کے خوابوں کے محلات اور لاکھوں مالیت سے بنے مکانات ایک لمحے میں زمین بوس ہو گئے۔
ضلع مجسٹریٹ آر راجا گنپتی کے حکم کے مطابق ایس ڈی ایم صدر، ایس او سدھارتھ نگر اور سی او صدر سمیت کئی انتظامی عملے اور سیکورٹی اہلکاروں کی موجودگی میں تمام میونسپل اہلکاروں نے سیکورٹی اہلکاروں کے ساتھ کھجوریا روڈ پر کئی برسوں سے طویل انتظار کے بعد سڑک کو چوڑا کرنے کا کام شروع کیا گیا۔ ضلع ہیڈ کوارٹر پر واقع سڑک پر جے سی بی کے ذریعے غیر قانونی تعمیرات اور ناجائز قبضہ ہٹا دی گئیں جس کی زد میں شہر کے کئی بڑے گھر بھی آگئے اور لاکھوں روپئے مالیت کے مکانات کسی فلمی انداز میں منہدم ہوتے دیکھے گئے۔ اس دوران بہت سے لوگوں کی آنکھوں میں آنسوں اور ان کے دلوں میں غم کے دردناک پہاڑ صاف دکھائی دے رہے تھے۔ لوگوں میں غم اور حیرت کا ماحول صاف نظر آرہا تھا۔ اپنے خوابوں کے محل کو لمحہ بھر میں تباہ ہوتے دیکھ کر لوگوں کی آنکھوں میں آنسو آنا فطری تھا۔
حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے سڑکوں کو چوڑا اور خوبصورت بنانے کے لیے غیر قانونی تعمیرات کو ہٹوایا جانا ایک فطری عمل کہا جا سکتا ہے۔ جس میں انتظامیہ نے پہلے ہی لوگوں کو نوٹس دے کر غیر قانونی تعمیرات ہٹانے کو کہا تھا لیکن لوگوں نے نہیں ہٹایا جس کی وجہ سے انتظامیہ نے جے سی بی کے ذریعے غیر قانونی تعمیرات کو ہٹانے کا کام کیا۔ ایک طرف انتظامیہ کا یہ بیان کہ لوگوں نے ناجائز قبضہ کر رکھا تھا، جو کہ غیر قانونی تھا اس لیے انتظامیہ کے لیے ضروری ہو گیا تھا کہ وہ ناجائز قبضہ کے خلاف مسماری کی کارروائی کرے جو شاید بالکل درست ہو۔ لیکن اس کے ساتھ ہی کچھ لوگ دبے لفظوں میں یہ کہتے بھی سنے گئے کہ چونکہ عوام نے ناجائز قبضہ کر رکھا تھا اس لیے انتظامیہ نے ان کے خلاف مسماری کی کارروائی کی ہے اور کی جا رہی ہے لیکن سڑکوں، نالیوں اور پلوں وغیرہ کی تعمیرات میں کی گئی بد عنوانیوں اور کمیشن خوري پر کب لگام لگایا جائیگا اور جو لوگ اس کے ذمہ دار ہیں ان کے خلاف حکومت اور انتظامیہ کو سخت ترین کارروائی کب کی جائے گی؟ 50 سے 60 ہزار روپئے سے لے کر 1، 1.5 لاکھ اور 2 لاکھ روپے تک تنخواہ لینے والے افسران اور ملازمین عوام سے رشوت لیے بغیر کام نہیں کرتے ہیں اور کئی کئی دن، مہینوں اور کئی سال محکموں اور دفاتر کے چکر لگاتے ہوئے ان کی چپلیں بھی گھس جاتی ہیں لیکن ان کا کام افسران، ملازمین اور محکموں کے ذریعے کئی دنوں، مہینوں اور سالوں تک لٹکائے رکھا جاتا ہے۔ ان کے خلاف بھی سخت سے سخت کارروائی ہونی چاہیے جو اپنی آمدنی سے زائد دولت حاصل کرتے ہیں۔ آدھی بنی، ٹوٹی پھوٹی سڑکوں اور نئے بننے والے پلوں کے ذمہ دار ملازمین اور افسران کے خلاف بھی کارروائی کی جائے جو چند دنوں میں خود بخود ہی گر کر ٹوٹ، پھوٹ جاتے ہیں۔
نالیوں اور سڑکوں کی صاف صفائی نہ کرنے والے صفائی ملازمین کے خلاف بھی فوری کارروائی کی جانی چاہیے۔ تب ہی ایک ملک، ایک قانون کا نعرہ معنی خیز ثابت ہوگا۔ بصورت دیگر صرف عوام کو ہی قربانی کا بکرا نہ سمجھا جائے۔
