بارہ بنکی (ابوشحمہ انصاری): مومن انصار سبھا کے قومی صدر محمد اکرم انصاری نے کہا کہ اس وقت پسماندہ سماج کو سیاسی جماعتوں کے الزامات اور جوابی الزامات سے گریز کرتے ہوئے اپنی سیاسی شمولیت، روزگار، تعلیم اور تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا۔ مومن انصار سبھا کا واحد ایجنڈہ پسماندہ طبقہ کو کسی بھی حالت میں روزگار، تعلیم اور تحفظ فراہم کرنا ہے۔ آج مسلمانوں کو جو بھی مسائل درپیش ہیں وہ پسماندہ مسلمانوں کی سیاسی حیثیت کی کمی کی وجہ سے ہیں۔ مسٹر انصاری اتوار کو مولوی گنج کے پالکی پیلس میں تنظیم کے عہدیداروں کی میٹنگ کے بعد صحافیوں سے خطاب کر ر ہے تھے۔
مسٹر انصاری نے کہا کہ تنظیم کی سالانہ رکنیت سازی مہم یکم ستمبر سے شروع ہو گی اور 30 ستمبر تک جاری رہے گی۔ مہم میں تمام اضلاع میں پرانے ممبران کے ساتھ 55 ہزار نئے ممبر بنانے، لکھنو میں مومن انصار سبھا کالج اور دیگر اضلاع سے آنے والے تنظیم کے ممبران کے لیے ایک گیسٹ ہاؤس بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ تنظیم کی توسیع کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد عاطف کو دہلی کا ریاستی صدر، بجنور کے رہنے والے ڈاکٹر اشتیاق کو ریاستی نائب صدر اور بدایوں کے رہنے والے شمس القمر کو ریاستی وزیر بنایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مومن منیہر سیل تشکیل دیا گیا ہے اور احمد علی ایڈوکیٹ کو ریاستی صدر بنایا گیا ہے۔ اس سے پہلے کی میٹنگ میں حافظ رفیق احمد، معین الدین انصاری، شاکر علی، اکبر انصاری، معراج الدین انصاری، نسیم الدین انصاری، محبوب عالم انصاری، ایوب انصاری، شکیل انصاری، ضیاءالدین انصاری، انور جمال لالے، اکرم انصاری، نسیم انصاری، منصور انصاری سمیت کافی تعداد میں لوگ موجود رہے۔
تقریب کے آخر میں شعیب انصاری اور رٸیس انصاری نے دیگر عہدیداروں کا شکریہ ادا کیا۔
