انوار الحق قاسمی 
بلاشک اس روئے زمین پر سب سے زیادہ اختلافات علماء برادری میں ہے ،ان میں بھی سب سے زیادہ علماء دیوبند میں ہے۔ایک دیوبندی عالم دوسرے دیوبندی عالم کی عزت وتکریم اور کسی بھی ترقی کو کسی بھی درجے میں دیکھنا گوارا نہیں کرتا(الا ماشاءاللہ)چناں چہ وہ اس کے لیے کسی بھی حد کو جانے کے لیے تیار رہتاہے۔ بعض تو اس کے مریدین اور معتقدین تک کو بھی اس کے خلاف اکساتا اور ابھارتا ہے۔ جب یہی معاملہ بڑھ کر خود پہ آجاتا ہے،تو کہتا ہے کہ عوام علماء کی قدر نہیں کرتی اور رونا پیٹنا،گلے اور شکوے شروع کردیتا ہے اور یہ نہیں دیکھتا کہ یہ تو خود کا کیا ہوا عمل ہے ،جو صلے اور بدلے میں ملا ہے،گرچہ لیٹ ہی  سے  سہی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ عوام میں اتنی جرات و سکت کہاں تھی کہ وہ علماء کے خلاف کبھی زبان کھولتی؟مگر آج،جو وہ اپنی زبان کھولتی ہے،تو اسے آخر  اس قابل بنایا کس نے ہے؟؟
اپنے مخالف عالم کی چغل خوری اور برائی کر کر کے،علماء کا مخالف اسے کس نے بنایاہے؟ ذراسا مال کسی مولوی کو نہیں ہوجاتا کہ وہ ہر مدرسہ کے عالم کو کمتر سمجھنے لگتا ہے،جب کہ  اسے، وہ مال بھی اسی علم کے صدقہ ملا ہوتاہے۔ نیپال میں تو ذرا سی فنڈنگ شروع نہیں ہو جاتی ہے، کہ وہ سب کچھ بھول ہی جاتا ہے اور یوں لگتا ہے کہ یہ ترقی اسے  کسی تجارتی عمل سے حاصل ہوئی ہو۔ علماء کو چاہیے کہ کم ازکم خدا کے لیے متحد ہوجائیں اور شیر و شکر ہوکر زندگی بسر کریں اور مالی ترقی پر مغرور نہ ہوں،کیوں کہ یہ تو چند روزہ ہے اور کسی بھی عالم کی مخالفت نہ کرے ،کیوں کہ اس کا صلہ تو  خود کو بھی مل سکتاہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے