ٹانڈہ۔ امبیڈکر نگر (یو،پی): آج قومی اردو تحریک فاؤنڈیشن کےصدر مشہور ادیب و شاعر اور صحافی انس مسرور انصاری نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ عتیق احمد اور ان کے بھائی اشرف احمد کو اترپردیش کی بھاجپا حکومت نے بہت چالاکی، عیاری اور عدالتی جواب دہی سے بچنے کے لیے دونوں بھائیوں کے قتل کی سپاری دے کر انھیں منصوبہ بند طریقے سے قتل کروایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جس دن عتیق اور اشرف کو قتل کیا جانا تھا، مجھے میرے ایک بھاجپائی دوست نے صبح سویرے ہی بتا دیا تھا کہ آج عتیق اور اشرف کو گولی مار دی جائے گی۔ جب میں نے بے یقینی کا اظہار کیا تو اس نے کہا۔۔ دو بجے دن کی نیوز میں سن لینا،،

 پھر وہی ہوا جو اس نے کہا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ گاؤں کے رہنے والے ایک عام بھاجپائی کو بھی معلوم تھا کہ آج کیا ہونے والا ہے۔ خاص بھاجپائی لوگوں کی تو بات ہی الگ ہے۔

  عجیب بات ہے کہ سیکوریٹی کی موجودگی میں عتیق کے جسم میں آٹھ گولیاں اور اشرف کے جسم میں پانچ گولیاں تین شوٹروں نے اتار دیں اور حفاظتی دستہ کھڑا تماشے دیکھتا رہا۔ اور اب تحقیق اور کھوج بین کا ڈرامہ کیاجا رہا ہے۔ سچ یہ ہے کہ سیکوریٹی کو بھی معلوم تھا کہ ابھی کیا کچھ ہونے والا ہے۔

 ان سے پہلے ان کے بیٹے اسد اور اس کے ایک ساتھی کو مڈ بھیڑ کے ڈرامے میں مارا جاچکا ہے۔

یوپی کے سی ایم آدتیہ ناتھ نے اپنا وعدہ پورا کر دکھایا کہ ۔۔عتیق اور اس کے خاندان کو مٹی میں ملادوں گا،، سو ملا دیا۔

 جنید اور ناصر کو بغیر کسی قصور کے گاڑی میں بند کر کے زندہ جلا دیا گیا۔ ان کے قاتلوں کو سزا کیوں نہیں۔؟کیونکہ وہ بجرنگ دل کے لوگ ہیں جو آر ایس ایس کے جنونیوں کی ایک جماعت ہے۔ اس موقع پر انس مسرور انصاری نے بی،جے،پی پر سوال اٹھاتے ہوئے ان مجرموں کی ایک فہرست پیش کی جو آج بی،جے،پی حکومتوں میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں۔

جن کے کالے کارناموں سے دنیا واقف ہے۔ ہندو انتہا پسندوں کو مسلمانوں سے انتہائی نفرت ہے۔ ضرور نفرت کرو لیکن نفرت کے انجام پر بھی ضرور غور و فکر کرلو۔۔۔،،

   انھوں نے کہا کہ بھاجپا آر ایس ایس کے اشارے پر آج پھر ملک کو توڑنے کی سیاست کر رہی ہے۔ اسی کو اندھیر نگری، چوپٹ راج کہتے ہیں۔

    انھوں نے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔۔ گنگا جمنی تہذیب کو اٹھا کر رکھو طاق میں اور اپنی اسلامی تہذیب کو اختیار کرو۔ بہت ہوچکا۔۔ بہت ہوچکا۔۔۔۔ اب اور نہیں۔ اب اور نہیں۔ دیکھو! سروں کی فصلیں پک چکی ہیں۔۔ کٹائی کا موسم آنے والا ہے۔ اپنی آنکھیں کھولو ورنہ بے موت مار دئیے جاؤ گے۔ اپنی قومی غیرت اور حمیت کو بیدار کرو۔ اپنے اسلاف کے کارناموں کو یاد کرو۔ ان کی روحوں کو شرمندہ نہ کرو۔۔ اپنے ملک کو تباہی و بربادی سے بچاؤ۔ یہ مجرموں اور لٹیروں کا راج ہے۔

سیکولرزم اور آئین کے سرناموں پر ان لوگوں نے موت کے دستخط کر دئیے ہیں۔ اس سے پہلے کہ ان کی سیاہی خشک ہو جائے، ملک کو بچانے کی تدبیریں کرلو۔،،

    انس مسرورانصاری نے ملک کی موجودہ عدلیہ پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا:۔

   منصفی اب عدلیوں سے آگئی بازار تک

    لرزش د ست و قلم ا و ر فیصلے ٹوٹے

  اپنےاپنےمسئلےہیں اپنی اپنی ہے صلیب

   آدمی پر سانحوں پر سانحے ٹوٹے ہوئے

     انھوں نے مزید کہا کہ۔۔ہم مانتے ہیں کہ عتیق ایک کریمنل اور مافیا ڈان تھا لیکن ہر جرم کی سزا دینے کا اختیار عدالت کو ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا عتیق اور اس کے کنبہ کو قتل کرنے میں اس لیے عجلت کی گئی تاکہ یہ معاملہ میڈیا میں خوب گرم ہو جائے اور پلواما کا معاملہ دب جائے۔؟ ہم عتیق کی حمایت نہیں کرتے لیکن جو کچھ ہوا وہ غلط ہوا اور صرف مسلمان کے نام پر ہوا۔

   ذیل میں بھاجپائی کریمنلوں اور مافیاؤں کی جو فہرست دی جا رہی ہے وہ بہت مختصر ہے لیکن کیا یہ لوگ دودھ کے دھلے ہوئے ہیں۔؟

 ان مجرموں کے خلاف ایکشن کب لیا جائے گا۔؟ شاید کبھی نہیں۔ کیوں کہ وہ مسلمان نہیں، ہندو ہیں۔ ایسا کب تک چلے گا۔؟؟

     نام مقدمات مقام

 کلدیپ سنگھ سنگر 28/ ( اناؤ )

 برجیش سنگھ 106/ (وارنسی)

 دھننجے سنگھ 46/ (جونپور)

 راجہ بھیا ۔31/ (پرتاپ گڑھ)

 ڈاکٹر اودئے بھان سنگھ ۔83/ ( بھدوہی)

اشوک چندی 37/ (حمیرپور)

وینیت سنگھ 34/ (چندوشی)

برج بھوشن سنگھ 84/ ( گونڈہ)

بلبل سنگھ 53/ (بنارس)

سونو سنگھ 57/ (سلطانپور)

مونو سنگھ 48/ (سلطانپور)

اجئے سنگھ سپاہی 81/ (مرزاپور)

پنٹو سنگھ 23/ (ضلع بستی)

شنی سنگھ 48/ (دیوریا)

سنگرام سنگھ 58/ (بجنور)

چنوسنگھ 42/ (مہوہ)

بادشاہ سنگھ 88/ (مہوہ)

   ہوگی مہراج۔! دودھ کے دھلے ہوئے اپنے ان کریمنل اور مافیا دوستوں کے بارے میں بھی کچھ کہئے۔۔۔ کہئے نا۔۔۔۔۔۔۔۔!؟ چپ کیوں ہیں۔؟،،

              جنرل سیکریٹری

                لاریب مومن

    قومی اردو تحریک فاؤنڈیشن(رجسٹرڈ)

 سکراول، اردو بازار، ٹانڈہ۔ امبیڈکر نگر (یو،پی)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے