نئی دہلی: کیجریوال حکومت دہلی کے نظام تعلیم کو عالمی معیارکا بنانے کی کامیاب کوشش کر رہی ہے۔ مگر حکومت کو اس کامیابی کے پیچھے جن مہمان اساتذہ کا بھر پور تعاون حاصل رہا ہے ان کی زندگیاں انتہائی بدتر صورتحال کو پہنچ چکی ہیں۔ کیجریوال حکومت نے گزشتہ سات سالوں میں مہمان اساتذہ کے اعزازیہ میں ایک روپیہ کا بھی اضافہ نہیں کیا ہے جس کے سبب مہمان اساتذہ معاشی بحران میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اس کے علاوہ آۓ دن سر پلس یا مستقل اساتذہ کی آمد کی وجہ سے انھیں بار بار کچھ وقفہ کے لیے ہٹا دیا جاتا ہے۔ اس عرصے میں ہزاروں گیسٹ ٹیچرز کو ان کی خدمات سے ہٹا دیا گیا ہے۔ جو روزانہ E5 برانچ کے چکر لگا رہے ہیں۔ اسامیاں خالی ہونے کے باوجود انہیں جوائن نہیں کرایا جاتا ہے۔
دہلی اتیتھی ادھیاپک منچ کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر ایم اے۔ عزیز نے بتایا کہ مہمان اساتذہ نے دہلی میں عام آدمی پارٹی کو اقتدار میں لانے کے لیے بڑی محنت کی تھی اور اس وقت جنتر منتر پر مہمان اساتذہ کے مظاہرے کے دوران عام آدمی پارٹی کے سربراہ خود پہنچے اور مظاہرے کو ختم کرایا اور یقین دلایا کہ ان کی پارٹی کے اقتدار میں آتے ہی سبھی مہمان اساتذہ کی ملازمت کو ریگولر دیں گے اور جب تک ریگولر نہیں ہوتے انھیں مساوی کام، مساوی تنخواہ ملے گی اور ان کی اسامیاں خالی نہیں دکھائی جائیں گی، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد اپنے وعدے سے مکر گئے اور آج صورتحال ایسی ہے کہ بیشتر مہمان اساتذہ کو ملازمت سے ہٹا دیا گیا، مہنگائی کی شرح میں مسلسل اضافے کے باوجود دہلی کے مہمان اساتذہ کی تنخواہ میں گزشتہ سات برسوں سے ایک روپیہ بھی اضافہ نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے مہمان اساتذہ میں بے چینی کا ماحول پیدا ہو رہا ہے۔ بیشتر مہمان اساتذہ دہلی میں مسلسل 10 سال سے زیادہ عرصے تک اپنی خدمات انجام دینے کی وجہ سے مستقل اسامی کے لیے درخواست دینے کی متعینہ عمر کو پار کر چکے ہیں اور انھیں کوئی دوسرا متبادل بھی نظر نہیں آرہا ہے۔ دریں اثنا، محکمہ تعلیم کی جانب سے بیچ بیچ میں چھٹی کا اعلان کرنے اور محکمہ تعلیم کی جانب سے مبہم احکامات جاری کرنے کی وجہ سے ان کی تنخواہ میں بھی کٹوتی کر دی جاتی ہے۔
وزیر اعلیٰ اور وزیر تعلیم کے بے شمار وعدوں کے باوجود آج تک مہمان اساتذہ کے یومیہ تنخواہ کو ماہانہ تنخواہ میں تبدیل نہیں کیا گیا۔ جس کے سبب مہمان اساتذہ بے چینی کے عالم میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جو کہ اساتذہ اور نظام تعلیم پر منفی اثرات کا باعث بن سکتا ہے۔ اس لیے حکومت دہلی کو یہ چاہیے کہ وہ اس مسئلہ کی جانب جلد از جلد سنجیدگی سے غور کرے اور کوئی بہتر حل پیش کرے۔
