شمالی کرناٹک میں اکیڈمی کی سرگرمیاں انجام دینے کا مطالبہ
بیدر۔ 14؍ڈسمبر (محمدیوسف رحیم بیدری): مولانا ابوالکلام آزاد ہائی سکول اسٹوڈنٹس الومنی اسو سی ای شناخت کی جانب سے بلگام ونٹر سیشن میں احتجاجی دھرنا دیتے ہوئے کرناٹک اردو اکیڈمی بنگلور بحال کرتے ہوئے جلد اکیڈمی تشکیل دینے کا پر زور مطالبہ کیا گیا۔اس موقع پر بات کرنے ہوئے اللومنی کے رکن ساجد اللہ بابنورنے بتایا کہ کانگریس کو اقتدار میں آئے سات مہینے گذرے مگر مسلمانوں کیووٹ لینے والی کانگریس مسلمانوں کی مادری زبان اردو کے ساتھ انصاف کرتی نظر نہیں آرہی۔لہذا اقلیتی وزیر جناب ضمیر احمد سے گذارش کی گئی کہ اکیڈمی بحال کر بلگام سے نمائندگی کو یقین بنایا جائے۔
جناب رفیق دیشنور نے فرما یا کہ کرناٹک اردو اکیڈمی شہر بنگلور تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔پچھلے کئی سال سے شمالی کرناٹک کو مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔اس وقت اکیڈمی رجسٹرار کی رہبری میں کارگر ہے۔حال ہی میں ۹ ؍نومبر کو بیل ہونگل میں عالمی یوم اردو کے موقع پر ٹین روزہ جشن اردو کا انعقاد عمل میں آیا۔جس میں تعلقہ سطح ہائر پرائمری اور پائی سکول کے درمیان تقریر ی تحریری مقابلوں کا شاندار اہتمام کیا گیا۔جس کے متعلق اکیڈمی سے رابطہ کرتے ہوئے فنڈز کا مطالبہ کیا گیا تو فنڈ نہ ہو نے کی بات کہی گئی جبکہ بنگلور و اطراف کے اضلاع میں اکیڈیمی کے مسلسل ادبی پروگرام دیکھے جاتے رہے ہیں۔جس سے صاف ظاہر ہے کہ کرناٹک اردو اکیڈمی شمالی کرناٹک کو سرے سے نظر انداز کر رہی ہے۔جس کی شکایت وزیر اعلی سدرامیا اور وقف و اقلیتی وزیر بی زیڈ ضمیر احمد خان تک میمورنڈم کے ذریعہ پہنچائی گئی ہے۔اس موقع پر الومنی کے اراکین الطاف نیسرگی فضل کریم سنگولی. محبوب سبحانی ہیرے کمبی اشرف علی پٹیہال۔مزمل مجاور۔ شریف احمد شریف کے علاوہ علامہ اقبال شاہین کلب آف انڈیا بلگام کے صدر مشتاق حسین فاروقی اور ٹی ایس ایس صدر عارف کٹگیری وغیرہ موجود تھے۔اس بات کی اطلاع جناب شریف احمد شریف نے دی ہے۔
