نعت پاک

دسمبر 20, 2023

رفیع نعمانی مہراجگنج یوپی

ضَوبار، مہکتا ہواطیبہ کا چمن ہے
وہ پیارے نبی سرور عالم کا وطن ہے
دشمن سے بھی الفت کرے برتاؤ حَسن ہے
وہ شاہِ زمن، شاہِ زمن ،شاہِ زمن ہے

کہتے ہیں دوعالم میں جسے شاہِ مدینہ
وہ دے گیا دنیا کو محبّت کا قرینہ
ہر بات ہى اُس کی لگے انمول خزینہ
عنبر سے بھی بڑھ کرکے مُعطّر ہے پسینہ
قربان اُسى ذات پہ تو مُشکِ خُتن ہے
وہ شاہِ زمن، شاہِ زمن ،شاہِ زمن ہے

دیدار ہوگا اُس کا ہمیں روزِ قیامت
حاصل ہے اُسے حشر میں اُمّت کى شفاعت
شِدّت کی لگی پیاس ہو محشر کی تمازت
کام آئے گی تب رحمت عالم کی اِطاعت
کوثر وہی پائے گا جو طاعت میں مگن ہے
وہ شاہِ زمن ،شاہِ زمن، شاہِ زمن ہے

اُس کے بنے دربان توجبریلِ امیں ہیں
اوصاف سبھى اس کے ہراک دل میں مکیں ہیں
جبریل گئے ساتھ لیے عرشِ بریں ہیں
اُس جیسى مثالیں کہیں دنیا میں نہیں ہیں
طیبہ کی زیارت ہو رفیع دل کی لگن ہے
وہ شاہِ زمن ،شاہِ زمن ،شاہِ زمن ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے