سدھارتھ نگر:  مدھوبنیا میں معذور سروس انسٹی ٹیوٹ کے تحت چلائے جانے والے چلڈرن ہوم پر مالی بے ضابطگیوں کے ساتھ ساتھ کافی سنگین الزامات بھی لگائے گئے ہیں۔

ڈسٹرکٹ پروبیشن آفیسر ونود رائے کے مطابق مذکورہ بالا ہوم تنظیم کے خلاف کئی شکایتیں موصول ہو رہی تھی جس کی تحقیق کے لیے ایک کمیٹی تشکیل کی گئی۔ تشکیل شدہ تحقیقاتی کمیٹی نے مذکورہ بالا ہوم تنظیم کے خلاف اپنی رپورٹ انتظامیہ کو سونپ دی ہے جس میں تمام طرح کی بدعنوانیاں ظاہر ہوئی ہے۔ جس کی تحقیقاتی کمیٹی نے تصدیق کر دی ہے۔ جس کے بعد حکومت اور انتظامیہ نے مذکورہ ادارے کے خلاف فوری کارروائی کرتے ہوئے اس کا  رجسٹریشن منسوخ کر دیا ہے۔

مذکورہ ادارے نے چھ مالی سالوں میں مختلف ذرائع سے 97.63 لاکھ روپئے کی سرکاری گرانٹ حاصل کی ہے۔ حکومت نے اس کی بازیابی کے احکامات بھی دے دیئے ہیں۔ مذکورہ ادارے میں رہنے والے 7بچوں میں سے 6بچوں کو گورنمنٹ چلڈرن ہوم دیوریا میں منتقل کردیا گیا ہے اور ایک بچہ جو مقامی تھا اس کے اہل خانہ کے سپرد کردیا گیا ہے۔

ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ پون اگروال کے مطابق ادارے کو بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے اور مذکورہ ادارے کے ڈائریکٹر کے خلاف مقدمہ درج کر نے کی تحریر تھانے میں دے دی گئی ہے۔

مذکورہ تنظیم کے ڈائریکٹر ارجن پاسوان نے کہا کہ تحقیقاتی کمیٹی نے ہمارے اور ہماری تنظیم کے خلاف سازش کرتے ہوئے بے بنیاد اور جھوٹے الزامات لگا کر ہمارے اور ہماری تنظیم کے خلاف رپورٹ بھیجی ہے۔ کیونکہ دیگر دو افسران جن کے دستخط تحقیقاتی رپورٹ پر ہیں، وہ موقع پر تفتیش کرنے ہی نہیں آئے۔ اس طرح ایسا لگتا ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی نے دفتر میں بیٹھ کر ہمارے خلاف، ہمارا موقف سنے بغیر ہی تحقیقاتی رپورٹ حکومت اور انتظامیہ کو سونپ دی ہے، جو پوری طرح سے غلط اور ہمارے اور ہماری تنظیم کے خلاف ناانصافی ہے۔

مذکورہ معاملے کے پیش نظر کچھ لوگوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہیڈ کوارٹر سے صرف پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع مذکورہ بالا تنظیم گزشتہ چھ سال سے حکومت اور انتظامیہ کی آنکھوں میں دھول جھونک کر کروڑوں روپئے کی ہیرا پھیری اور غبن تنہا اپنے ہی دم پر کیسے کوئی کر سکتا ہے؟ اس میں مذکورہ تنظیم کے ڈائریکٹر کے ساتھ ساتھ دیگر کئی افراد کے ملوث ہونے کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا ہے۔ آخر کس طرح ریوڑی کی طرح کروڑوں روپئے کس کے حکم پر آنکھ بند کر تقسیم کر دیئے گئے؟ یقیناً سوالیہ نشان اٹھنا لازمی ہے۔ اگر مذکورہ ادارے کے ڈائریکٹرز اس میں قصور وار ہیں تو مذکورہ سرکاری فنڈز کے غبن اور غلط استعمال میں حکومتی مشینری اور انتظامیہ کی شمولیت اور رضامندی سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ جس کی تفصیلی، سنجیدہ، غیر جانبدارانہ اور عدالتی تحقیقات کی ضرورت ہے۔ بصورت دیگر ضلع کے بہت سارے ادارے اسی طرح سرکاری مشینری کی ملی بھگت سے ملائی کاٹنے کا اور کمیشن خوری کا کام کرتے رہیں گے اور معاملہ سامنے آنے پر حکومتی مشینری خود کو بچاتے ہوئے کسی اور کے سر پر الزام عائد کر دیں گے۔

مذکورہ بالا سلسلے میں یہ بھی ممکن ہے کہ مذکورہ ادارے کے ڈائریکٹر سے کثیر رقم اور کمیشن کا مطالبہ کیا جا رہا ہو جسے ڈائریکٹر کی طرف سے پورا نہ کیا گیا ہو، جس کے بعد حکام کی جانب سے ایک تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کرکے مذکورہ ادارے کے خلاف کارروائی کی گئی ہو۔ کیونکہ یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ مذکورہ ادارہ پچھلے چھ سات سالوں سے سرگرم رہتے ہوئے کام کر رہا تھا۔ غور طلب سوال یہ ہے کہ اس دوران حکومتی مشینری اور حکام کہاں تھے اور مذکورہ ادارے کو کروڑوں روپے تحفے کے طور پر ایسے ہی بڑی آسانی کے ساتھ کیوں اور کیسے دے دیے گئے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے