الفاروق اسکول الند کے زیر اہتمام والدین اورمنتخب اسکولوں کے اساتذہ کے خصوصی تعلیمی وتربیتی اجلاس
گلبرگہ(کرناٹک): گلبرگہ ضلع کہ تعلقہ الند میں الفاروق ایجوکیشن سوسائٹی کے زیر اہتمام چل رہے الفاروق اسکول کی جانب سے طلبہ کے والدین اور سرپرستوں کا خصوصی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس تعلیمی وتربیت اجلاس میں 300 مرد و خواتین شریک رہے۔
موجودہ حالات میں بچوں کی تعلیم و تربیت پر بھرپور توجہ کی اشد ضرورت ہے۔ کیونکہ خراب ماحول‘ گھر کے باہر نہیں بلکہ اب اندر آگیا ہے۔ موبائیل اور انٹرنیٹ کی سہولتوں کی بناء پر اچھائی کم خرابی زیادہ پنپ رہی ہے، جو ہمارے بچوں کے اخلاق و کردار کو متاثر کرنے کی پوری سکت رکھتی ہے۔ اس صورت میں والدین اپنے بچوں کی بہترین تعلیم و تربیت پر توجہ دینے کو اولین ترجیح سمجھیں۔ اس غرض کے لئے گھر میں بہتر ماحول فروغ دیا جائے، جیسے بچے اسکول میں نظم و ڈسپلن کے ساتھ پورا وقت گزارتے ہیں اسی طرح گھر میں بھی ان کے صبح اٹھنے سے پہلے سے لے کر رات سونے تک کا باضابطہ ٹائم ٹیبل بنانا چاہئے۔ اسی صورت میں بچوں کو وقت کے صحیح استعمال اور اچھی عادتیں اپنانے کی ترغیب دلائی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ والدین کو رول ماڈل بننا چاہئے تاکہ رات دن ساتھ رہنے والے بچے ان کو دیکھ کر سیکھ سکیں۔ ان خیالات کا اظہار محمد عبد اللہ جاوید صاحب‘ ڈائریکٹر اے جے اکیڈمی رائچورنے کیا۔ اس کے علاوہ آپ نے والدین کو بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں میں حصہ لینے اورگھر میں تعلیمی ماحول فروغ دینے پر توجہ دلائی۔ اس بات پر بھی زور دیا کہ اساتذہ اور منتظمین کے ساتھ والدین کے بہتر تعلقات ہونے چاہئیں تاکہ سب کے تعاون کے ساتھ بچوں کی بہتر تعلیم و تربیت ہوسکے۔ اجلاس کا آغاز سورہ الفاتحہ کی تلاوت سے ہوا۔ اس کے بعد سوسائٹی کے صدر عارف علی صاحب نے ادارہ کے ۲۶؍سالہ سفر کی روداد سنائی۔ اس کی اب تک کی شاندار کارکردگی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور شہریان الند کے غیر معمولی تعاون کوخوب سراہا۔
اس ابتدائی سیشن کے بعد والدین اور سرپرست حضرات کے لئے سوالات کا وقت رہا ۔ سوالات کے ذریعہ عملی مسائل پیش کیے گئےجیسے بچوں کو نمازوں کا پابند کیسے بنایا جاسکتا ہے؟بچو ں میں پڑھائی کے لئے دلچسپی کیسے پیدا کی جاسکتی ہے ؟ وقت کا صحیح استعمال کیسے کیا جائے؟ کنڑا‘ انگریزی سیکھنے کا عملی طریقہ کیا ہواور کیسے ان زبانوں میں بول چال آسان بنائی جاسکتی ہے؟ بچوں کو سیکھے ہوئے سبق یاد رکھنے میں کیسے مدد کی جاسکتی ہے؟ موبائیل کے زیادہ استعمال سے کیسے روکا جاسکتا ہے؟جو والدین پڑھنا لکھنا نہیں جانتے وہ اپنے بچوں کو کیسے پڑھاسکتے ہیں؟بچو ں کی تربیت کیسے کریں؟ان پر کب غصہ کرسکتے ہیں؟ماں باپ دونوں نوکری کرتے ہیں تو بچوں کی تربیت کیسے کریں؟بچوں کو امتحانات کی تیاری کیسے کرائیں؟اردو میڈیم سے پڑھنے والے بچے کالج میں انگریزی ذریعہ تعلیم سے کیسے کامیاب ہوسکتے ہیں؟والدہ اور والد کی پسند اور ناپسند سےبچوں کو کیسے متعارف کرایا جائے؟ وغیرہ۔ان تمام سوالات کے تشفی بخش جوابات دیئے گئے۔
آخر میں گھر میں بہتر تعلیمی اور تربیتی ماحول فروغ دینے کے لئے تمام والدین اور سرپرست حضرات نے تین باتوں پر عمل کرنےکا ارادہ ظاہر کیا۔(۱) مہینے میں کم از کم ایک مرتبہ شوہر اور بیوی ساتھ مل کر تہجد کی نماز ادا کریں گے۔(۲) گھر میں بچوں کو کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں کرنا چاہئے‘ اس پر مشتمل اپنی طرف سے تجاویز پیش کریں گے۔تاکہ تمام والدین کے مشوروں کو سامنے رکھتے ہوئے الفاروق اسکول کی جانب سے گھر میں بچوں کو کیا کرنا اور کیا نہیں کرنا چاہئے‘پرمشتمل اصول وضوابط مرتب کئے جاسکیں۔(۳) مہینے میں کم از کم ایک مرتبہ والدین ‘ اساتذہ اور اسکول انتظامیہ سے ملاقات کریں گےاور بچوں کی تعلیم و تربیت سے متعلق تبادلہ خیال کریں گے۔
اس اجلاس کے علاوہ اساتذہ کی ہمہ جہت تربیت کےضمن میں الفاروق اسکول کے علاوہ ایپکس اسکول‘ القلم اسکول اورلٹل اینجلس اسکول کے اساتذہ کا خصوصی سیشن منعقد کیا گیا جس میں تقریباً 50اساتذہ شریک رہے۔صدر سوسائٹی عارف علی صاحب کے افتتاحی کلمات کے بعد محمد عبد اللہ جاوید صاحب نے اظہار خیال میں کہا کہ اساتذہ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقہ سے اسی وقت انجام دے سکیں گے جبکہ ان کے اندر چند نمایاں خوبیاں ہوں جیسے صبر‘ احسا س جوابدہی‘ جذبہ اور شوق تعلیم کے علاوہ طلبہ کی صورت حال سے اچھی طرح واقفیت جیسے امور بڑے اہم ہیں ۔اس کے علاو ہ اساتذہ کے اپنے ذاتی خصوصی اہداف ہونے چاہئےکہ وہ کس طرح اپنی شخصیت کو علمی‘فکری ‘ثقافتی اور تہذیبی لحاظ سے بہتر سے بہتر بنائیں گے۔اسی صورت ممکن ہے کہ اساتذہ ایسے طلبہ کو تیار کرنے میں کامیاب ہوجائیں جو نہ صرف اپنی تعلیم میں نمایاں کامیابی حاصل کریں گے بلکہ اپنے اخلاق و کردار سے ملک و ملت کی بےلوث خادم بنیں گے۔ان کے وجود سے معاشرہ فیض یاب ہوگا۔
ان دونوں اجلاس میں الفاروق ایجوکیشن سوسائٹی کےصدر کے علاوہ دیگر ذمہ داران میں سے ایوب علی صاحب ‘گڑو بھائی صاحب‘ غلام حسین صاحب اور فرحت صاحبہ موجود تھے۔
