عبدالرشید سلفی

انتری بازار، شہرت گڑھ، سدھارتھ نگر 

 

مولانا عبد الرحیم بن محمد یونس اصلاحی رحمہ اللہ ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوۓ اور المعہد الاسلامی بحر العلوم انتری بازار میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے بعد سند فراغت جامعہ اصلاحیہ سراۓ میر اعظم گڑھ سے حاصل کی، وہیں کچھ دنوں تک تدریسی فریضہ انجام دیتے رہے۔ اس کے بعد وہ الجامعۃ الاسلامیہ تلکہنا میں بحیثیت استاد شعبہ فوقانیہ میں منتخب ہوئے۔ انھوں نے ایک باکمال استاد کا حق ادا کرتے ہوئے اپنی ذمے داریوں کو ادا کرنے کی کوشش کی اور طلبہ سے ان کے دیرینہ تعلقات بھی رہے، یہی وجہ ہے کہ تلکہنا کے مستفیدین ان سے بڑی عقیدت و محبت رکھتے اور ان سے ملاقات کے خواہاں رہا کرتے تھے۔ بعد میں ان کی امانت و دیانت اور صاف گوئی دیکھ کر انھیں انچارج پرنسپل بھی بنا دیا گیا، جس کو انھوں نے آخری وقت تک الحمدللہ بحسن و خوبی ادا کیا۔

سب سے بڑی صفت ان کے یہاں یہ پائی جاتی تھی کہ وہ بہت بڑے مہمان نواز تھے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی کے آنے پر چاۓ ناشتہ کرائے بغیر جانے دیں، بسا اوقات ایسا ہوتا کہ کسی ہوٹل پر جب کئی لوگ ہو جاتے تو مولانا چپکے سے اشارہ کردیتے یا خاموشی سے پیسہ ایسے ادا کرتے کہ کسی کو خبر نہ چلے۔ انہوں نے المعھد الاسلامی بحر العلوم انتری بازار کی نظامت بہت عمدہ طریقہ سے ادا کیا اور نے اپنے دورِ نظامت میں زیادہ حاضر رہنے والے اساتذہ کو اکرامیہ دینا شروع کیا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اساتذہ کی غیر حاضری بہت حد تک کم ہوگئی۔ وہ نہایت ملنسار، خوش گفتار، سنجیدہ اور سلجھے ہوئے انسان کے ساتھ ساتھ نہایت شریف اور پابندِ شرع تھے اور نماز کے اوقات میں جن سے ملتے انھیں نماز میں چلنے کی دعوت ضرور پیش کر دیتے۔ دورانِ نظامت جب بھی بحرالعلوم پر آتے ایک ایک کرکے تمام اساتذہ سے ملاقات کرتے اور ان کی خیریت پوچھتے، اساتذہ اور طلبہ کی کامیابی پر بہت خوش ہوتے اور اپنے نیک خواہشات کا اظہار فرماتے۔

میری بہت ساری باتیں اور یادیں بڑے بابو عبد الرحیم اصلاحی سے جڑی ہوئی ہیں۔ بحرالعلوم آنے پر ہمیشہ اساتذہ کے چائے پانی کا اہتمام اپنی جیب سے کرتے اور جب بھی مجھے اپنا شاگرد اور چھوٹا بھائی سمجھ کر حکم دیتے تو ہمیشہ قیمت سے زیادہ ہی دیتے، کبر و نخوت اور غرور و گھمنڈ سے کوسوں دور رہتے تھے۔

آج سے پانچ سال قبل دانت کے درد میں ایسے الجھے کہ پھر اس سے نکل نہ سکے، اُنھوں نے علاج کے لیے گورکھپور کے ایک ڈاکٹر کا انتخاب کیا اور پھر لکھنؤ چلے گئے، وہاں کے ڈاکٹر نے کینسر کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے بمبئی جانچ کروانے کا مشورہ دیا جس پر ان کے کچھ شاگردوں نے اپنی نگرانی میں علاج کی ٹھان لی، وہاں جاکر کینسر کا علاج شروع ہوگیا اور ایک لمبے وقت تک دوا استعمال ہوتا رہا پھر انھیں ڈاکٹروں نے لکھنو کے کینسر سینٹر جانے کا مشورہ دیا، جس کے لیے عزیزم ریحان کے ساتھ مجھے چلنے کو کہا وہاں سے بھی کچھ دوائیں ہوئیں، لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی کے مصداق کچھ بھی دوا نے کام نہ کیا۔ آخر دوبارہ انھیں علاج کے لیے بمبئی کا سفر کرنا پڑا جو ان کی زندگی کا آخری سفر ٹھہرا۔

بمبئی سے واپسی پر وہ مکمل طور پر ہار مان چکے تھے اور وہ سمجھ رہے تھے کہ آخری وقت چل رہا ہے جب تک بھی ہوں اللہ کا دیا ہوا عطیہ ہے اسی وجہ سے جب میں نے تلکہنا ملاقات کی تو آپ نے خواہش ظاہر کی کہ میں گاؤں انتری بازار جانا چاہتا ہوں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں سے ملاقات کر سکوں چونکہ بہت سارے لوگ معذور اور مجبور ہیں اور کچھ کے ساتھ اپنے مسائل ہیں، جس کی بنا پر مدرسہ میں سب سے ملاقات کرنا مشکل ہے اور میرے جانے سے فائدہ یہ ہوگا کہ سب سے ملاقات بھی ہوجائے گی اور معافی تلافی بھی ہوجائے گی۔ بہر حال وہ گھر آئے اور لوگوں سے ملاقات کرکے اپنی بیماری کے باوجود اپنی ذمے داری ادا کرنے دوبارہ جامعہ اسلامیہ تلکہنا چلے گئے اور اپنی بساط بھر ذمے داریاں ادا کرنے میں مصروف ہو گئے، لیکن بیماری میں اضافہ ہوتا رہا دھیرے دھیرے کمزوری اس قدر لاحق ہوئی کہ اٹھنے بیٹھنے میں دشواری ہونے لگی اور گلے سے آواز کا نکلنا بھی بند ہوگیا صرف اتنا محسوس ہوتا کہ کچھ کہنا چاہتے ہیں آواز صاف طور سے سمجھ میں نہیں آتی تھی، اس وقت غالبا انھوں نے لکھ کر اپنے بیٹوں سے آبائی گاؤں انتری بازار لے چلنے کو کہا بالآخر بچوں نے حکم کے مطابق مع ساز و سامان انھیں اپنے گھر لے آئے اور ایک ہی دن بعد 31/جنوری 2024 ساڑھے گیارہ بجے کے قریب ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

انتقال کی خبر بجلی کی طرح پورے علاقے میں پہنچ گئی اور لوگوں کے آنے کا اور تعزیتی پیغام کا سلسلہ شروع ہو گیا شام چھ بجے بعد نماز مغرب ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں ان کے صاحبزادے عزیزم نعمان حیدر فلاحی سلمہ کی امامت میں نماز جنازہ ادا کی گئی۔

ان کی نماز جنازہ میں الجامعۃ الاسلامیہ تلکہنا کے منیجر صبغۃ اللہ عمر کے ساتھ وہاں کے اساتذہ کرام میں سے مولانا اختر فلاحی، مولانا کرم حسین فلاحی، مولانا محمد رفیع اصلاحی، مولانا عبد السلام سلفی، مولانا عبد الاول ندوی، ماسٹر ابو الاعلیٰ خاں، ماسٹر عبد الغفار، مولانا اظہر الدین فلاحی، مولانا محمد اقبال فیضی، مولانا رحمت اللہ مصباحی، ماسٹر جمال احمد، ماسٹر ارشد حسین علیگ، ماسٹر محمد اسلم، مولانا احمد علی سنابلی، مولانا عبد العلیم فلاحی، ماسٹر عبد المعبود، مولانا کلیم احمد، حافظ ریاض احمد، جماعت اسلامی کے صدر مولانا عبداللہ فیضی، جامعۃ الصالحات بانسی کے پرنسپل مولانا مشتاق احمد فلاحی، مصباح العلوم چوکنیاں کے پرنسپل مولانا محمد شریف فلاحی، ماہنامہ مجلہ السراج کے ایڈیٹر مولانا سعود اختر عبد المنان سلفی، جامعہ دار الہدیٰ یوسف پور کے استاد مولانا رضوان اللہ فیضی اور مولانا عزیر رشید مدنی، جامعہ سراج العلوم جھنڈا نگر کے استاد مولانا شفیع اللہ مدنی، المعھد الاسلامی انوارالعلوم گنجہڑا کے ریکٹر شیخ بدرالدین ریاضی، المعھد الاسلامی بحرالعلوم انتری بازار کے پرنسپل و جمعیت اہل حدیث حلقہ شہرت گڑھ کے نائب ناظم عبد الرشید سلفی، جمعیت اہل حدیث شہرت گڑھ کے ناظم مولانا جمشید عالم سلفی، ضلعی جمعیت اہل حدیث سدھارتھ نگر کے ناظم و کلیہ عائشہ صدیقہ کرشنا نگر جھنڈا نگر کے استاد حدیث شیخ وصی اللہ عبد الحکیم مدنی، مولانا محمد فاروق ریاضی، مولانا امیر اللہ یوسفی، خدیجۃ الکبری گرلس کالج ببھنی بازار کے ناظم مولانا ممتاز احمد جامعی کے علاوہ قرب وجوار اور علاقہ کے سرکردہ افراد کے ساتھ عوام کی ایک اچھی خاصی تعداد تھی اس جم غفیر نے مولانا مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی اور نمناک آنکھوں کے ساتھ سپرد خاک کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے