تحریر: ابرق ساجدی بستوی 

نائب ناظم : ضلعی جمعیت اہل حدیث بستی

 

بچپن میں ہم نے چمن اسلام حصہ اول میں ایک بڑا ہی مشہور شعر انتہائی شدت جذبات اور لگن کے ساتھ پڑھا تھا

دکھا دے یا الہی وہ مدینہ کیسی بستی ہے

جہاں پر رات دن مولا تری رحمت برستی ہے

بالیقیں بحالت ایمان دیدار دیار سیدالمرسلین بھی رب کونین کی طرف سے عطا کردہ ان نعمتوں میں سے ایک ہے جس پر حاملین قرآن و سنت اور متبعین دین رحمت کو ناز ہوتا ہے

وہ دیار کہ جس کے عظمتوں کی گواہی قرآن نے بلد الامین کہہ کر دی ہو ،

وہ دیار جو کہ سید الملائکہ روح الامین کے ورود کا مرکز رہا ہو ،

وہ سرزمیں کہ جس نے ان پاؤں کو بوسہ دیا ہو جن کی رسائی سدرة المنتہی سے بھی آگے ہو ،

وہ سرزمیں کہ جس پر وہ پاؤں پڑے ہوں جن کے تعلق سے نبی کا یہ فرمان ہو ہے ،

انی سمعت دف نعلیک بین یدی فی الجنة

وہ سر زمیں کہ جسے مرکز دین اطہر کہا گیا ہو ،

وہ سرزمیں کہ جہاں سے لاالہ الااللہ کی ضیا بار کرنیں اٹھتی ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے ظلمات کائنات کا قلع قمع کرکے

ذرے ذرے کو تابندہ و درخشندہ کر دیتی ہیں ،

وہ سرزمیں کہ جسے رب نے تعمیر کعبہ کیلئے منتخب کیا ،

وہ سرزمیں کہ جو نبی آخر الزماں کے جانثاروں اور دین کے علمبرداروں کا مرکز و مرقد ہو ،

درحقیقت اس دیار میں شرف حاضری اور اذن دیدار کا تحفئہ ہر کس و ناکس کیلئے زینت تقدیر نہیں بلکہ یہ تحفئہ نایاب اسی کو نصیب ہوتا ہے جسے کہ رب قدیر چاہے ۔

ورنہ کانئات میں کتنے ہی غنی و مالدار حرماں نصیبی کی چادر اوڑھے کائنات سے رخصت ہوگئے ،

کتنے ہی تاجدار اپنی ناکام حسرتوں کے ساتھ سپرد خاک کردیئے گئے ،

کتنے ہیں جو تمام تر وسائل و ذرائع کے باوجود، اپنے خواب شرمندہ تعبیر نہ کرسکے ۔

امید کہ کھیتیاں خزاں رسیدہ رہیں وہ چاہ کر بھی آشنائے بہار اور لالہ زار نہ کرسکے ۔

لیکن خوش نصیب ہیں مرے ہم نوا ، ہم نشیں ہم عصر عمر دیرینہ رفیق و حمیم،

محمد رفیق سراجی امام خطیب جامع مسجد اہل حدیث

جوہو گلی اندھیری ،

جنھیں اللہ نے عمرے کی سعادت سے سرفراز فرمایا ۔

اس حصول سعادت پر ہم انھیں بصمیم قلب مبارکباد پیش کرتے ہیں ۔

اور اللہ جل شانہ سے دعا پرخلوص کرتے ہیں کہ رب کریم شرف قبولیت سے ہمکنار کرے _

اس کا کرم کہ اس نے عطا کردیا تجھے

ورنہ ہر اک نصیب میں یہ اعزاز یہ کہاں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے