مکرمی!
آئین ہند ہمارے اسلاف کی عرق ریزی اور محنت ومشقت کا نتیجہ ہے، آئین ہندپر ہمارے ملک کے زیست و بقاء کا دارو مدار ہے، آئین ہند ہمارے ملک کے سارے طبقات اور ذات برادریوں کا واحد ترجمان ہے اور اس کے بقاء و ترقی کی ضمانت ہے یہ وہ کتاب ابیض ہے جس پر حلف لیکر اس ملک کا ہر لیڈر عہد و پیماں کرتا ہے کہ بلا تفریق مذہب و ملت مادر وطن کی خدمت کرے گا، افسوس صد افسوس کہ آج اس پر شب خون مارا جارہاہے اور اسکا بدل تلاش کیا جارہا ہے بلکہ تلاش کیا جا چکاہے مگر ابھی تک ہمارے ملک میں اس گھنائونی سازش کے خلاف احتجاج نہیں؟
یہ صورت حال یقینا کسی بھی جمہوری ملک کیلئے خطرہ کی گھنٹی ہے؟ یہ یقینا ہمارے ملک کے سیاسی لیڈران اور ملی رہنمائوں کی بہت بڑی لاپرواہی ہے، اس پر خاموش رہنا ایک مجرمانہ کردار ہے، اس لئے جن لوگوں نے بھی آئین ہند پر حلف لیا ہے اور جن کو آج بھی اس پر اعتماد ہے کہ یہ سفینہ نوح ہے اور اس پر سوار رہ کر ہی اس ملک کی ڈگمگاتی کشتی کو پار لگایا جاسکتا ہے، ان کو آگے آنا چاہئے اور سارے طبقات کو اپنے ہمراہ لیکر احتجاج کرنا چاہئے، جب چیف جسٹس نے یہ کہہ دیا کہ’’ آپ کی بھی ذمہ داری ہے کہ آپ روڈ پر نکل کر احتجاج کریں‘‘ تو پھر دیر کیوں؟ ۔
شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات
مولانا اے کے رحمانی
قومی نائب صدر مسلم پولیٹکل کونسل آف انڈیا
کشی نگر یوپی
