بیدر (محمدیوسف رحیم بیدری): 21؍فروری کو ہرسال ’’عالمی یومِ مادری زبان‘‘ منایاجاتاہے۔ اس حوالے سے آج سوشیل میڈیا کی مختلف پوسٹ نے فرحت کا احساس دِلایا۔ مختلف نوجوانوں، شاعروادیب اور ضعیف حضرات نے بھی ’’یومِ مادری زبان‘‘ کو مناتے ہوئے اپنی مسرت کا اظہار کیا۔ جناب سیماب اکبرآبادی کے پوتے حامد اقبال صدیقی (ممبئی) نے ایک پوسٹ اپنی تصویر کے ساتھ بنائی اور لکھاکہ ’’دنیا کی تمام بڑی قومیں اپنی مادری زبان کے تحفظ اور فروغ کے لئے کوشاں ہیں۔ آئیے ہم بھی اپنی مادری زبان اردو ، اس کے رسم الخط اور اس کی تہذیب کو آنے والی نسلوں تک منتقل کریں۔ اپنے بچوں کواردو لکھنا، پڑھنا اور بولنا سکھائیں۔موصوف نے آگے لکھاکہ صرف شعروشاعری کانام اردو نہیں ہے۔ تجارت ، اعلیٰ تعلیم، فیشن ، تفریحات ، ہر شعبہ ء حیات میں اردو کے نفاذ کی کوشش کریں۔
جناب آفتاب احمد نے ایک پوسٹ روانہ کی ہے جسمیں لکھاہے ’’زبان تہذیب کی کلید ہے ۔ زبان نہیں تو آپ کاچہرہ نہیں۔ اور چہرہ نہیں تو تہذیب نہیں ہے۔اور اگر تہذیب نہیں تو آپ صرف کمانے ، کھانے ، جینے اورمرجانے کے لئے جیتے ہیں۔ زبان ہے تو تاریخ کاشعور ہے ۔ زبان ہے تو نیک وبد کاشعور ہے۔ اسلئے اپنی تہذیبی شناخت کی حفاظت کیجئے ۔ اردوپڑھئے اور پڑھائیے۔ اردو کی بقاء ترقی وترویج میں حصہ لیجئے ۔ جناب الطاف آمبوری صاحب نے تو ایک مضمون ہی لکھ ماراہے۔ جو پڑھنے لائق ہے۔ جناب مشتاق دربھنگوی نے آج ہی کی مناسبت سے اپنایہ شعر پوسٹ کیاہے ؎

ہیں شہد سے زیادہ الفاظ اِس کے میٹھے
دنیاکی ہرزباں سے شیریں زباں ہے اردو

اور بھی کئی افراد نے بین الاقوامی یوم ِ مادری زبان کے حوالے سے سوشیل میڈیاپر بہت کچھ پوسٹ کررکھاہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے