سہارنپور(احمد رضا): دار العلوم دیوبند اور مظاہر علوم سہارنپور کے علماء کرام نے گذشتہ صدی سے ملک و ملت کی جس قدر  اصلاحی ،فلاحی اور علمی خد ما ت انجام دی ہیں ان اعلیٰ ترین خد مات کو تاقیامت بھلایا نہی جا سکتا جنگِ آزادی میں علماء کرام کی شہادتیں ایک سنہرا باب ہے ہمکو اپنے علمائے کرام اور بزرگان دین پر فخر ہے! سماجوادی پارٹی نے ہمیشہ بزرگان دین اور ملک کی مہذب ترین شخصیات کی طرز زندگی سے کچھ نہ کچھ تجربات حاصل کر کے اپنے عوام کے لئے فلاحی اور تعمیری کام انجام دئے ہیں زمانہ جانتا ہے کہ سماجوادی قیادت مسلسل سبھی مذاہب کے لوگوں کو ساتھ لیکر ملک کو خوشحال بنانے کے اپنے مشن میں آج پہلی صف میں کھڑے ہونے ہم اکابرین کی عزت اور عظمت سے بہت متاثر ہیں ہمارے ساتھ اپنے بزرگوں کی دعائیں ہی ہیں کہ آج ہم ترقی کی راہوں پر دوڑ رہے ہیں!
اقلیتی سیل کے ریاستی صدر شکیل خان ندوی گذشتہ دنوں اپنے مختصر دورے پر جامعہ مظاہر علوم کے سابق امین عام  اسلامی اسکالر عالم دین مولانا سید محمد شاہد الحسنی  رح کی رحلت پر اپنے گہرے رنج اور غم کا اظہار کرنے کے لئے پہنچے اس موقعے پر آپنے کہا کہ مولانا شاہد الحسنیرح ایک شخص نہیں بلکہ گوناگوں صفات کے حامل ایک انجمن تھے مولانا کی وفات جامعہ مظاہر علوم کا ہی نقصان نہیں بلکہ ملک و ملت کا بہت بڑا نقصان ہے آپ نے اپنے ساتھیوں سمیت مولانا مرحوم کی قبر کی زیارت اور فاتحہ خوانی کر کے ایصال ثواب کیا ، سماجوادی قائد شکیل خان ندوی نے مولانا مرحوم کے ساتھ اپنے تعلقات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ہمیشہ مولانا کو ملک و ملت کی تعمیر و ترقی کے لیے فکر مند اور جدو جہد کر تے ہوئے پایا آپ در حقیقت بہت خوبیوں سے مالا مال تھے آپکی کمی ہمیشہ محسوس ہوا کریگی!
اس موقع پر جامعہ مظاہر علوم کے شعبہ رابطہ برائے مفاد عامہ کے ذمہ دار مولانا محمد اسعد حقانی نے ان کا استقبال کیا اور مدرسے کے مختلف شعبوں لائبریری وغیرہ کا معائنہ کرایا انہوں نے مولانا مرحوم کی خود نوشت سوانح حیات "حیات مستعار” کا ایک سیٹ بھی بطور ہدیہ پیش کیا اس موقع پر ان کے ہمراہ مولانا رحیم الدین قاسمی، مولانا نظر محمد، چوہدری عبدالواحد ضلع صدر سماجوادی پارٹی،دیوندر سنگھ خالصہ ،ٹنکو اروڑا، نواب انصاری،چودھری جابر ایاز سہارنپوری و حافظ عبدالرحمن وغیرہ موجود رہے!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے