محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر، کرناٹک
۱۔ غیرترقی یافتہ 
اُس کے کاروباری دوست نے دس سال پہلے تلقین کی تھی کہ ’’کنڑاکٹر س سے تعلقات پیدا کربھائی ، ورنہ بھوکا مرے گا‘‘
اردو صحافی کا صاف صاف جواب تھا’’مجھے خبروں سے تعلق جوڑنا ہے ، سماج کے مختلف افراد سے نہیں ‘‘
دس سال بعد بھی اردو صحافی ہینڈ ٹوماؤتھ اور خبروں تک محدود ہے۔
۲۔ کبھی نہیں ہوا
گھر میں ہرطرف برتن کھلے پڑے تھے۔ یہاں تک کہ تینوں سالن ، شیرخرمہ بھی ڈھانکا نہیں گیاتھا۔ بریانی البتہ ڈھکی ہوئی تھی۔
بیوی ، دوبالغ لڑکیاں اور تین لڑکے باتوں اور موبائل میں مصروف تھے۔ گھر کے بے ضرر شوہر نے جب باورچی خانہ میں سالن وشیرخرمہ کے برتنوںکے کھلے پڑے رہنے کااحوال پوچھا تو کہاگیا’’عید ہے ، عید میں یہ سب تو ہوتاہی ہے ، ذراآپ خود برتن ڈھانک دیں ‘‘
وہ سوچ رہاتھاکہ’’ عیدتو ہر سال آتی ہے۔ کیاہرسال یہی منظر ہوتاہے ؟ جب کہ اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا‘‘
۳۔ مؤرخ کی اطلاع
مؤرخ کہہ رہاتھا ’’غیرمسلم صحافیوں کو ہرسال دسہرا ، دیپاولی ، رام نومی ، امبیڈکر جینتی ، بسواجینتی وغیرہ پر غیرمسلم سیاست دان اپنے گھروں پر مدعو کرتے ہیں اور ان کے کام پر اپنی خوشی کااظہار کرتے ہوئے ان کی قدرافزائی کی جاتی ہے ۔ مسلم صحافیوں کو اس شہر کے مسلم سیاست دان عید الفطر ، 12؍ربیع الاول ، عید قربان ،اوردسویں محرم پر ہرگز ہرگز مدعو نہیں کرتے ۔وہ مسلم صحافیوں سے خوف کھاتے ہیں ۔ ان سیاست دانوں کاخیال ہے کہ مسلم صحافیوں کوعزت دی جائے گی ، انہیں قریب کیاجائے گا تو وہ ہمارے راز جان جائیں گے اور ہمارے کالے کارنامے اخبارات میں شائع ہوں گے اورچینلوں پر دکھائے جائیں گے ، پھر اس کے بعد ہم کسی اور کومنہ دکھانے لائق نہیں رہیں گے ‘‘
میں ہنسا،خوب ہنسنے لگا۔ اسلئے ہنساکہ مجھے ہنسنا ہی تھا۔مؤرخ برامان گیا۔ میں نے کہا’’یار مؤرخ، برانہ مان ۔مسلم صحافیوں میں اب اردو صحافی رہ گئے ہیں جو مسلم معاشرے کی اصلاح کے لئے کام کررہے ہیں۔ انہیں بڑے سے بڑا راز یاکالاکارنامہ بھی بتایاجائے تو ان کے نزدیک ردی جیسا ہی رہے گا‘‘
مؤرخ نے پوچھا’’وہ کیوں ؟‘‘ میں نے کہا’’وہ اسلئے کہ مسلم صحافی سمجھتاہے کہ مسلمان سیاست دان میں اتنادم خم ہی نہیں ہوتاکہ وہ کالے کارنامے انجام دے سکے ‘‘ مؤرخ پوچھ رہاتھا’’اگر ایسی بات ہے تو پھر مسلم سیاست دان مسلم صحافیوں کے بارے میں غلط فہمی کاشکار کیوں ہے ؟‘‘
میں نے جواب دیتے ہوئے کہا’’کچھ لوگ وہم کا شکار ہوتے ہیں، مسلم سیاست دان بھی وہم کاشکار ہیں۔ اگر کچھ کالے کارنامے کرنے والے مسلم سیاست دان ہیں بھی تو ان کی پول مسلم صحافی نہیں غیرمسلم صحافی کھولیں گے اور وہی ان کی قبر ضرور بنائیں گے ‘‘
مؤرخ کامنہ کھلاہواہے اور میں اپنے دفتر کی جانب رواں دواں ہوں ، آج دفترپہنچنے میں دیرہوگئی ہے۔واقعی خبرنویسی آسان کام نہیں ہے۔ اس کو وقت کے اندرون بہتر سے بہتر طورپر انجام دینا ہوتاہے ۔
۴۔ شہرِمنافقین 
وہ پوچھ رہاتھا’’عجیب شہرہے۔ ابھی تک زندہ ہے ۔ کیاایسا ہے کہ منافقین کے شہروں کی عمریں بڑی ہوتی ہیں ؟‘‘میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
۵۔ رب ہی جانے 
جیسے ہی رمضان ختم ہوا، میں نے محسوس کیاکہ میں رقم خرچ کرنے میں ہاتھ کھینچ رہاہوں۔رمضان میں بے دریغ خرچ کیاکرتاتھامیں ۔
جب اپنے دوست فیاض سے اس کاذکر کیاتو اس نے کہا’’یار ، میںبھی ایسا ہی محسوس کررہاہوں ،عیدالفطر کے ایک ہفتہ بعد میرے بھتیجے نے بنگلوروسے آکر مجھ سے اپنی عیدی مانگی تو میں نے بہانہ بناتے ہوئے عیدی دینے سے انکار کردیا۔ چلو مولانا سے پوچھتے ہیں کہ ایساکیوں ہورہاہے یا ہوتاہے ؟‘‘
شارق کیفے کے آگے مولانا شجیع الرحمن کی دینی کتابوں کی دوکان پر ہم نے حاضری دی اور ان کے سامنے مسئلہ رکھاتو  مولانا شجیع الرحمننے بڑی دردمندی سے کہاکہ ’’کہاں رمضان اور کہاںشوال کی باتیں ، یہ راز رب ہی جانے کہ ایسا کیوں ہوتاہے ؟‘‘
۶۔ یہ ملاقاتیں 
عید کے دوسرے دن بھی دوست احباب سے ملاقات نہیں ہوسکی تھی۔تقریباً دوستوں کی جانب سے صرف واٹس ایپ پیغام ملاتھاکہ عیدمبارک ۔بغیر ملاقات کئے کوئی کس طرح عیدمنائے؟
اس نے بہت سوچ وچار کے بعد فیصلہ کیاکہ آئندہ سال عید کے دوسرے دن دوستوں کی دعوت رکھی جائے گی ، توقع ہے سبھی دوستوں سے ملاقات ہوگی ۔
رمضان میں بھی تو دعوتوں میں ہی دوستوں سے ملاقات ہوتی رہی ہے۔ ورنہ کون کس سے مل رہاتھا؟نہیں نا؟
۷۔ وہ حملہ
سفارتی سرگرمیاں تیز ہوچکی تھیں، اقوام متحدہ بھی حرکت میں آچکا تھا. میں اقوام متحدہ میں بحیثیت کلرک گذشتہ 15/سال سے برسرخدمت ہوں. مجھ تک جب یہ بات پہنچی کہ ایران دراصل آج یا کل اسرائیل پر حملہ کردے گا۔میرے منہ سے ہنسی نکل گئی. ہیڈ کلرک نے ناراض نگاہوں سے مجھے دیکھتے ہوئے پوچھا” کیا مطلب ہے تمہارا؟”
میں نے اپنے دانت بند کرلئے اور سنجیدگی سے کہا”وہ حملہ جو کبھی نہیں ہوتا اس کو ایرانی حملہ کہتے ہیں…. پچھلے پندرہ سال میں، ایسا کچھ نہیں ہوا، اب کس طرح حملہ ہوسکتا ہے؟ ”
ہیڈکلرک مجھے خوف زدہ نگاہوں سے دیکھ رہا ہے، جانے کیوں؟
۸۔ باباصاحب کا احسان 
’’یہ باباصاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کااحسان ہے کہ انھوں نے ایک اچھاساسمویدھان دِیا‘‘پنکج ماڑگے نے کہا۔ وہ دلت تھا۔ میں نے کہا’’اس احسان کابدلہ کیاہوسکتاہے ؟‘‘ پنکج بولا’’عجیب دور ہے صاحب ، یہاں باپ کے احسان کواولاد نہیں مانتی ۔اس لئے کچھ کہانہیں جاسکتا‘‘
میں نے اس کویقین دِلایاکہ تمہاری کمیونٹی باباصاحب کے سمویدھان کوضرور بچائے گی ۔ رات کاکھانا ہم ساتھ کھارہے تھے۔ کھانے کے بعد اس کو شراب کی ضرور ت تھی۔ میں اس کوشراب خانہ پر چھوڑآیا۔ پیسے بھی دئے تاکہ وہ سمویدھان کوبچانے میں اپنالڑکھڑاتاہواہی سہی رول اداکرسکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے