محمدیوسف رحیم بیدری
سال 2024 کے پارلیمانی انتخابات کا اعلان کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر آف انڈیا جناب راجیو کمار نے بشیر بدر کا یہ شعر سیاسی پارٹیوں کے لئے پڑھاتھا ؎
دشمنی جم کرکرو لیکن یہ گنجائش رہے
جب کبھی ہم دوست بن جائیں تو شرمندہ نہ ہوں
اس کامطلب یہ ہواکہ سیاست میں دشمنی ہوتی ہے اور سیاست دان اس دشمنی کو نبھاتے بھی ہیںلیکن اس شعر میںچیف الیکشن کمشنر آف انڈیا نے امیدواروں کو آپسی دشمنی یاپارٹیوں کو آپسی دشمنی نبھاتے ہوئے دشمنی کی اعلیٰ قدروں کاخیال رکھنے کے لئے کہاگیا،یعنی یہ شعر دشمنی کی سیاست والا کہلایا ۔ شکیل بدایونی کے یہاں ’’پھولوں کی سیاست‘‘ والے شعر کی نشاندہی ملتی ہے۔بڑا ہی رومانٹک اور موڈی شعر ہے ، حضرت شکیل بدایونی کہتے ہیں ؎
کانٹوں سے گزرجاتاہوں دامن کوبچاکر
پھولوں کی سیاست سے میں بیگانہ نہیں ہوں
سیاست کا تعلق حکمرانی سے ہے ، اس کی بابت ایک تھوڑا سارومانی شعر بھی پڑھ لیجئے ، اس شعر کو میرؔبیدری نے کہاہے ، ملاحظہ کریں ؎
ہمیں بھی حکمرانی کرنا ہوگی
ملاہے دِل کاقصبہ دیکھنے میں
دِل کے قصبہ کاتعلق خالص شاعری سے ہوتا ہے لیکن ہم مختلف قطعہ ء زمین کی بابت بات کرنے جارہے ہیں۔ سارافساد میرامطلب ہے سیاست کی ساری کہانی اسی قطعہ ء زمین سے متعلق ہے۔ ہمارے ملک کے قطعہ ء زمین پر جمہوری طرزِ حکومت ہے یعنی ہماراملک جمہوری ہے۔ اور جمہوریعنی عوام سے ، عوام پر ، عوام کی حاکمیت کیلئے بننے والی حکومت جب اپنی بے رخی دکھاتے ہوئے اڈانیوں اور امبانیوں
کی جانب اپناقبلہ موڑلیتی ہے تو منوررانا کا یہ شعر کام آتاہے ۔ منوررانا کہتے ہیں ؎
ایک آنسو بھی حکومت کے لئے خطرہ ہے
تم نے دیکھا نہیں آنکھوں کاسمندر ہونا
میں اب دواشعار کاذکر کروں گا۔ پہلے یہ شعر پڑھ لیں ؎
سمجھنے ہی نہیں دیتی سیاست ہم کوسچائی
کبھی چہر ہ نہیں ملتا، کبھی درپن نہیں ملتا
میں سمجھتاہوں شاعر نے اس شعر میں سیاست کی سچا ئی کو کھول کھول کر بیان کیاہے۔ کم الفاظ میں بہت ساری باتیں کہہ دی گئی ہیں۔ سیاست میں بہت کچھ وہ ہوتاہے جو زندگی میں بھی نہیں ہوتا۔ سیاست وہ گرگٹ ہے جو رنگ ہی نہیں بدلتا ، ساری دنیا کو بدل دیتاہے۔اس گرگٹ کو پکڑکر غلام بنانے کا ہنر آنا چاہیے ۔ علامہ اقبال نے جب اس گرگٹ کو پکڑاتو کہا۔ ع۔
جداہودین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
اب ہم ایک مشہور شعر کی طرف چلتے ہیں۔ اس شعر کو پہلے پہل کہاجاتاتھاکہ شاید کسی دِل جلے شاعر نے کہاہوگا۔ارتضیٰ نشاط نے کیاہی خوب کہاہے ، ملاحظہ کریں ؎
کرسی ہے تمہارا یہ جنازہ تو نہیں ہے
کچھ کر نہیں سکتے تو ، اُتر کیوں نہیں جاتے
جس تلخی کے ساتھ بات کہی گئی ہے ،ہمارے سیاست دان اس سے بھی چکنے گھڑے واقع ہوئے ہیں ۔ 80سال ، 85سال کی عمر یعنی موت تک بھی وہ کرسی سے چپکے رہناچاہتے ہیں۔ اِدھرنئی نسل کرسی سے محروم رہتی ہے اور اُدھر گھسی پٹی پرانی نسل اسی کرسی سے چپکی ملے گی ، ایک دفعہ سانس لینا چھوڑ دیں گے لیکن کرسی پربیٹھنا نہیں چھوڑیں گے۔ ایک اور معنی اس شعر کا یہ ہے کہ جب تم اپناسیاسی فرض پورا نہیں کرتے تو پھر تمہیں یہ کرسی دوسرے قابل شخص کے لئے چھوڑ دینی چاہیے ۔دنیا میں بہت قابل لوگ ملیں گے لیکن تلخ ترین سچائی یہ ہے کہ کرسی پر بیٹھے ہوئے شخص سے قابل کوئی نہیں ہوتا،چاہے وہ خواجہ سر اہی کیوں نہ ہو۔ بہت سے شیخ چلیوں کو کرسی نصیب ہے اور لاکھوں قابل ترین لوگ دردر گھوم کر بھیک مانگ رہے ہیں اور انہیں بھیک بھی نصیب نہیں ہے ۔نادم ندیم کایہ شعر شاید ایسے ہی کسی موقع کیلئے کہاگیاہوگا ؎
اِن سے امید نہ رکھ ، ہیں یہ سیاست والے
یہ کسی سے بھی محبت نہیں کرنے والے
جمہوریت میں عوام کے دوہی کام بتلائے گئے ہیں۔ ایک ووٹ دینا دوسرے سیاست دان ، لیڈر یا کسی قائد کیلئے تالیاں بجانا ۔اظہر عنایتی نے اس سچویشن میں تالیوں والی بات کو کچھ یوں نظم کیاہے ؎
وہ تازہ دم ہیں نئے شعبدے دِکھاتے ہوئے
عوام تھکنے لگے ہیں تالیاں بجاتے ہوئے
تالیوں کے علاوہ سیاست دانوں کاانتظارکرتے کرتے بھی عوام تھک جاتی ہے۔اور یہ مناظر عام ہیں۔ صبح 11بجے والاوقت دے چکا سیاست دان 2بجے دن کڑی دھوپ میں جلسہ میں پہنچتاہے۔ یاپھر 2بجے وقت دے چکا لیڈر شام 10بجے جلسہ گاہ پہنچے گا تب تک عوام کے اندر دم خم نہیں ہوتا۔اِدھر پیٹ میں کھانا نہیں ، اُدھرمیسر رخ ِ جاناں نہیں۔اُسی رخ جاناں کے بارے میں عنبر
بہرائچی نے کیاخوب کہاہے ؎
یہ سچ ہے رنگ بدلتاتھا وہ ہر اک لمحہ
مگروہی تو بہت کامیاب چہراتھا
چہروں کی بات کریں گے تو بات بہت دور تلک نکل جائے گی ۔ ہم اس ذکر کو یہیں رہنے دیتے ہیں۔ میرؔبیدری نے اپنے اِ س شعر میں خلافت کے جدا ہونے اور قیادت کے قضا رہنے کی بات کہی ہے ۔ اس شعر کو پڑھیں اور مسلمان اپنی عالمی سیاسی حالت ِ زار کا ماتم کریں ؎
ہوگئی ترکوں سے جب خلافت جدا
میرؔتب سے رہی اک قیادت قضا
آج پوری دنیا میں خلافت کی بات نہیں ہوتی ۔خلافت کی بات کرنا عالمی جرم ہے ، اسی لئے شاید مسلمانوں میں قیادتی فکرمندی دیکھنے کوملتی ہے لیکن اس فکرمندی کاتعلق بادشاہت ، جمہوریت ، نیم جمہوریت ، اوردیگرغیراسلامی نظریات میں رہ کر قیادت کرنے سے ہے۔ خلافت والی قیادت کے بارے میں اب ہندوستان کے علمائے کرام بھی نہیں کے برابر بات کرتے ہیں۔ترکوںکے ہاں بھی سناہے یہی کچھ حال ہے۔بہرحال میرؔبیدری کاایک عمدہ اورسچاشعر سن لیں ؎
فاتحِ دنیا تو ہم سناکرتے ہیں
دل پہ دِل کی چلے وہ حکومت بجا
آج کی اس بیٹھک میں اتنی گفتگو کافی ہے۔ آئندہ پھرملتے ہیں۔ اپنے بھائی اور دوست محمدیوسف رحیم بیدری کو اجازت دیجئے ۔
