محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک۔
۱۔ ایک جرم
خوف تھاکہ ہارگئے تو کیاہوگا۔یہ خوف تب ختم ہواجب واقعی ہارگئے۔ پوری قوم کے اندرون سے خود کے دفاع کاوہ جذبہ ابھرآیا کہ شکست کے بعد اس نے جگہ جگہ اپنے لئے اور اپنی نسل کے لئے احتجاج شروع کیا۔ ملک کے کسانوں ہی کی مانند جب دوسال تک احتجاج کیاتو پتہ چلاکہ کس طرح حکومت کو زیر کیاجاسکتاہے اور بہادری کی زندگی کس طرح گزاری جاسکتی ہے ؟ نوجوانوں کے علاوہ ضعیف لوگوں نے بھی دوسالہ احتجاج کو پسندکیا۔اب ہم سراپا احتجاج ہیں۔قیدوبند کی صعوبتیں بھی جھیلی ہیں لیکن زندگی میں ایک مثبت تبدیلی اور بڑا سا لطف آگیاہے۔
جہدمسلسل کرنے والے طبقوں کے ساتھ ہم بھی شامل ہوگئے ہیں۔اب زندگی کو عیش وعشرت کی نگاہ سے نہیں بلکہ جدوجہد کرنے ، آواز اٹھانے اور آگے بڑھنے کے جذبہ اور طریقے سیہمارا ہر نوجوان اور ہر نوجوان لڑکی دیکھتی ہے۔ایسا لگتاہے زندگی صحیح ٹریک پر آچکی ہے ۔ پہلی والی تعیشانہ زندگی ایک جرم تھی۔
۲۔ عذاب اور نیل
وہ صدر کم بھانڈ زیادہ تھا۔ لوگوں نے اسے بحیثیت بھانڈ قبول کرلیا۔ اتناہی نہیں وہ جانتے تھے کہ اللہ کی طرف سے وہ عذاب بن کر نازل ہوچکاہے۔اس کاکچھ نہیں کیاجاسکتا۔ اب ہمیں دریائے نیل پار کرنے کی ہمت کرلینی ہے گوکہ کوئی عصالئے آگے آگے رہنمائی نہیں کررہا ہے۔ تو کیا ہوا؟ دماغ ہے کہ نہیں ۔ نیل پارکرنا ہی ہے۔
۳۔ غلام کے ووٹ
’’ہم آپ کے غلام ہیں صاحب ‘‘ اس کو آخر کہناپڑا ۔ ٹھاکر کابیٹا مان نہیں رہاتھانااسلئے کہناپڑا۔ پھر جو اس نے چیخ کر حکم دیاوہ یوں تھا کہ ’’پھر جا، جاکر ہمارے غلاموں سے کہہ دے کہ سبھی مل کر ٹھاکر خاندان کے بیٹے کوووٹ دیں ، ورنہ انجام بہت برا ہوگا، سارے غلام بھکاری بنادئے جائیں گے ، سمجھے ‘‘
وہ بولا ’’جی سرکار‘‘ پھر جو سرکاربنی اس میں ٹھاکر خاندان کاچشم وچراغ وزیر بن چکاتھا۔
۴۔ مجرمین کی تلاش
پولیس نے اس کو اٹھالیااور اسکی عصمت ریزی کرنے کے بعداس کے گھر کے پاس واپس چھوڑ کرتینوں چلے گئے۔ کہہ دیاتھاکہ اگر کسی سے کہاتو باپ اور ماں سمیت ماری جاؤگی ۔
آج وہ IPSبن چکی ہے۔ اور اپنے مجرموں کوڈھونڈ رہی ہے۔ اسے یقین ہے اسی محکمہ میں ہوں گے جس دن ہاتھ لگے ، ٹرک کے نیچے ایسے کچل دئے جائیں گے کہ کوئی ان کی لاش بھی پہچان نہ سکے گا۔
۵۔ کون ہے اپنا؟
ہندو بھی اپنے نہیں تھے ۔ مسلمان بھی اپنے نہیں تھے۔ وہاں کوئی انسان اپنانہیں تھااور نہ ہی دوسروں کاتھا۔ یہ وہ کٹھ پتلیاں تھیں جنھیں ان کے کرم میں الجھادیاگیاتھا۔ وہ اپنے کرم دیکھ دیکھ کر الٹے سیدھے فیصلے کرتے اور اسی میں لگے رہتے ۔ اسی میں ان کی عمر گزرنی تھی۔
۶۔ مشفق قانون
وہ کہہ رہاتھا’’یار تم بھی عجیب ملک میں رہتے ہو، جہاں اکثریت کا قانون چلتاہے‘‘ وہ بولا’’ہم اس پر فخرکرتے ہیں کہ اکثریت جس چیزکو صحیح سمجھتی ہے ہم اس کو اپنابڑا مان لیتے ہیں ‘‘
اس نے حیرت کااظہار کرتے ہوئے کہا’’ہمار ی سماجی پرمپرا ہے کہ اپنے چھوٹے کو بڑی اہمیت دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ پیار، محبت ، ہمدردی ، لگاؤ، تعلق کااظہار بے حد کرتے ہیں کیوں کہ وہ کمزور ہے اور چھوٹاہے۔ یہی سماجی پرمپرا ہمارے سیاسی نظام میں بھی ہے ۔ ہماراسیاسی نظام اقلیت کو جینے اور اپنے اصولوں پر جینے کاراستہ دیتاہے ‘‘
اس کو بڑی حیرت ہوئی اس نے کہا’’کیسے ممکن ہے ؟‘‘ وہ اسے سمجھانے میں لگ گیااور بولاکہ ’’انسانی قانون چھوٹے پر رحمد لی اور شفقت سے تعبیرکرتاہے ۔ اگرایسانہ ہوتو ماں باپ اپنے بچے کو پید اہی نہ کریں ۔ یاپیداکریں تو پھر کسی موقع پر مارڈالیں ‘‘ وہ پلکیں جھپک رہاتھا۔اس کی سمجھ میں چھوٹوں پر شفقت کامسئلہ سمجھ میں آبھی رہاتھااور نہیں بھی۔
۷۔ بجھتی آنکھوں میں لوٹتی روشنی
ووٹ دے کر غنڈوں کو اپنالیڈر بنانے کے سواکوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ اسی اکلوتے راستے پروہ چلتے رہے۔ نہ جانے کب منتظر آنکھیںدیگر راستے دیکھنے کاشرف حاصل کرسکیں۔اگر ایسا ہواتو وہ دن بجھتی آنکھوں کی روشنی واپس لوٹ آنے کادن ہوگا۔
۸۔ شہری جنت کا
راجا کو دکھ اس بات کا ہے کہ’’دنیا میں کروڑہا الفاظ لکھے اور شائع کئے جارہے ہیں۔ انسان ہے کہ ابھی تک اَن سیویلائزڈ ہی ہے ‘‘رانی کابھی قریب قریب یہی احساس ہے کہ ’’جنگل سے نکل کر شہروں میں آکر بساہوایہ انسان غزہ ، یوکرین اورہیروشیماناگاساکی میں اپنے ذہن کی کم ترین سطح اوراپنی فطرت کی کمینگی کودکھائے بغیر نہیں رہ سکا۔ اس نے انسانی نعشوں کے انبار لگادئے ‘‘وزیر البتہ خاموش ہے ۔ کچھ کہنانہیں چاہتا۔کوئی اس کی طرف متوجہ بھی نہیں ہے۔
عوامی قائد ’’روزیان‘‘چیخ رہاہے ’’لوگو! انھیں دیکھو ، ان کی اتباع کرو، جنہوں نے ملک عرب فتح کرلیا لیکن انسانی خون نہیں بہا۔ دنیا نے اس انقلاب کو بلڈ لیس ریولیشن کہا‘‘دراصل ٹی وی پر سیریل’’ اَن سیویلائزڈ‘‘دکھایا جارہا ہے۔میں نے بیگم سے کہا’’ذراآپ بھی سن لیں بیگم ، جنگل کے سابقہ شہری کو اپنی ذہنیت اور فطرت لامحالہ بدلنی ہوگی ، اس کی ذہنیت اور فطرت کوبھی انسانیت کا جامہ پہننا ہی ہوگاورنہ دنیا جہنم بن جائے گی‘‘ بیگم بولیں ’’ جنگل کا یہ سابقہ شہری دراصل جنت کاشہری تھا۔ باواآدم کے ذریعہ حاصل کیاہوا جنت کالطف بھول چکاہے اورجب کہ مستقبل میں اس کو جنت ہی میں جاکر قیام کرناہے ‘‘ میںنے کہا’’اچھا‘‘ میری حیرت کی کوئی انتہانہیں ہے ۔میں اب تصوراتی طورپر کوشش کررہاہوں کہ جنت کالطف مجھے مل سکے ۔
۹۔ ضمیر کا طنز
خاموشی بہت ہے۔ شاید سبھی سوگئے ہیں۔ جب یہ اٹھیں گے تو آسمان سرپر اٹھالیں گے۔کان پڑی آوازسنائی نہیں دے گی۔ صوتی آلودگی اس قدرہوگی کہ خدا کی پناہ ، اسی لئے تو میں صبح کی واک کو پسند کرتاہوں ۔تاکہ واک کرتے ہوئے آفاق وانفس پر غور کرسکوں ۔’’کیاملا پھر؟‘‘ میرے ضمیر نے مجھ سے پوچھا۔ کوئی نہ کوئی جواب تو دیناہی تھا۔ میں نے کچھ سوچ کر کہا’’جوکچھ ملتاہے اس کااظہار کرنا درست نہیں ہوگاورنہ کچھ اور حادثات پیش آسکتے ہیں‘‘ میراضمیر کھکھلاکر ہنس پڑا۔ مجھے اس کے ہنسنے پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔جوکچھ مجھے ملاہے وہ اچھی طرح جانتاہے نا۔
