بیدر کے تربیتی اجتماع منعقدہ مسجد قباء سے اقبال الدین انجینئر کا خطاب

بیدر (پریس نوٹ): اپنی خواہشات کو اللہ کے تابع کرنے کانام قربانی ہے۔ عید قربان سنت ابراہیمی ہے۔ حضرت ابراھیم علیہ السلام کو اللہ نے خلیل اللہ کہاہے ۔ آن دنیا کی 80%سے زائد آطبادی آپ کو اپناپیشوار اور امام مانتی ہے۔ اللہ نے یہ اعزاز اس لئے دیاکہ اللہ کی اطاعت واحکامات کو آپ ہر چیز پر مقدم رکھتے تھے۔ ان خیالات کااظہار اقبال الدین انجینئر نے تربیتی اجتماع منعقدہ مسجد قباء بیدر سے اپنے خطاب کے دوران کیا۔

انھوں نے مزید کہاکہ امت مسلمہ آج بہت ناز ک دور سے گزررہی ہے۔ خوشگوار زندگی کے لئے مسر ت وخوشی کے وقت حمد وشکر سے کام لیں۔ اور مصیبت وتکلیف کے وقت صبرواحتساب سے کام لیں۔ تب ہی اللہ تعالیٰ اپنا علم وحلم عطاکرے گا۔ اور دنیا میں اطمینان قلب وسکون عطافرمائے گا۔ اور آخرت میں بے شمار نعمتیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایاکہ میں جدامجد ابراھیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام کے خاندان میں سے ہوں ۔ حضرت اسمعیل کو آپ نے ذبیح اللہ کہاہے۔ نبی کریم ﷺ عیدین کی نماز عیدگاہ میں پڑھتے تھے۔ عید میں آپ بہترین لباس زیب تن فرماتے تھے۔ عیدالاضحی میں عیدگاہ سے واپس آجانے تک کچھ نہ کھاتے بلکہ عیدگاہ سے واپسی پر قربانی کاگوشت کھاتے ۔ گھر سے عیدگاہ تک تکبیر کہتے جاتے تھے۔ نبی کریم عیدکے دن عیدگاہ جاتے وقت مختلف راستوں سے آتے جاتے تھے۔ آپ 9؍ذی الحجہ فجر سے 13؍ذی الحجہ کی عصرتک ہر نماز کے بعد تکبیر کہتے تھے۔

ہمارے شہر میں مختلف تنظیموں کی طرف سے بچوں کوفجر کی نماز باجماعت اداکرنے کی مہم چلائی جارہی ہے۔ سرپرستوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ بچوں کے ساتھ خود بھی مساجد کا رخ کریں اور نماز باجماعت اداکرنے کی ٹھان لیں۔ ہم روزانہ 5وقت نماز کے بعد پیش امام صاحب کے ساتھ تکبیر اداکریں اِن شاء اللہ ۔ عادت ہوجائے گی۔ تب ہی ہم دنیاداری کے کام میں مصروف رہیں تو اللہ ہمیں زندگی گزارنے میں مدد کرے گا۔ کیوں کہ نماز کامیابی کی ضمانت ہے ۔ قرآن میں فرمان ِ الٰہی ہے ’’اللہ کو قربانی کاگوشت پہنچتاہے نہ خون بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتاہے‘‘۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے