تعلیم ہی انسان کی ترقی کا حقیقی سبب: بہوری لال شکلا
جامعہ سلیمان الطراد میں 16 طلبہ کی دستاربندی، قرآن کے مطابق زندگی گزارنے پر زور
نانپارہ، بہرائچ (رپورٹ محمد رضوان ندوی):
حلقہ مہسی کے معروف ادارہ جامعہ سلیمان الطراد بنش پوروہ میں چوتھا ايك روزہ عظیم الشان جلسہ دستاربندی مولانامحمد سعید قاسمی کی صدارت میں منعقد ہوا، جس کی نظامت مولانا ظہیر الدین نوری نے کی، جلسہ کی پہلی نشست کا آغاز جامعہ کے طالب علم حافظ محمد قاسم کی تلاوت سے ہوا،حمد و نعت کا نذرانہ حافظ سعید الدین نے پیش کیا، مغرب سے عشاء تک طلبہ نے مختلف زبانوں میں تقریر، سیرت طیبہ سے متعلق اہم معلومات اور مختلف متنوع ثقافتی پروگرامس پیش کرکے خوب تعریف و تحسین حاصل کی اور مختصر وقت میں کھل کر اپنے جوہر دکہلاے، علماء کرام وسامعین نے طلبہ کی خوب ہمت افزائی کی ، جلسہ کی دوسری نشست بعد نماز عشاء رئیس القراء جامعہ نور العلوم بہرائچ قاری محمد جواد کی تلاوت سے ہوا اور نعت کا نذرانہ مولانا نور الدین نے پیش کیا، ناظم جلسہ حافظ عبد الباری کی دعوت پر صدر جلسہ حضرت مولانا محمد سعید قاسمی نے خطبہ صدارت پیش کیا جس میں مدارس اسلامیہ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہو کہا کہ ابھی تو یہ ننہا سا پودا ہے آگے چل کر یہی تنا ور درخت بنے گا ، اور پوری قوم اور ملت کی ان شاء اللہ نمائندگی کرے گا۔

(حفظ قرآن کریم کے جلسے کو خطاب کرتے ہوئے بہوری لال شکلا)
مقرر خصوصی مفتی محفوظ الرحمن قاسمی نے طلبہ اور عوام کو خطاب کرتے ہوۓ کہا کہ جس طرح انسان اپنی دنیا بنا نے اور سنوار نے کے لۓ ہر وقت محنت اور کوشش کرتا ہے اس سے کہیں زیادہ اپنی آخرت کو بنا نے اور سنوار نے کے لۓ ہر وقت کوشش کرتے رہنا چاہئے، انھوں نے کہا کہ انسان کی تخلیق ہی قرآن فہمی اور اس کے مطالبات پر عمل کے لیے ہوئی ہے، انہوں نے واضح الفاظ میں زور دے کر کہا کہ معاشرے سے غیبت، عیب جوئی اور بدخواہی دور ہونی چاہئے، تین باتوں پر ہمیشہ عمل کریں معاشرہ پاکیزہ بن جائے گا، حسب توفیق خوب صدقہ کریں، بچوں،ہمیشہ بھلائی کے پہلو کو ترجیح دیں اور آپس میں صلح کی بات کریں، مولانا محمد آمین مکریاوی نے اپنا نعتیہ کلام پیش کیا۔
اس اجلاس کی خاص بات اس کے مہمانان خصوصی تھے، دینی اجلاس اور خاص طور پر تکریم حفاظ کرام کے جلسہ میں اکثر علماء، حفاظ اور قرآن سے دلچسپی رکھنے والے سامعین و ناظرین کو مدعو کیا جاتا ہے لیکن اس جلسہ میں علاقے کے کچھ سنجیدہ دانش مند اور اخلاق مند برادران وطن کو نہ صرف مدعو کیا گیا تھا بلکہ مہمان خصوصی کی حیثیت سے ان کی شرکت خاص توجہ کا باعث تھی، عجیب بات یہ بھی ہے کہ اس جامعہ کی بنیاد بھی علاقے کے بعض خیر خواہ برادران وطن نے مل جل کر رکھی تھی، بلکہ پورے علاقے کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی تھی کہ اتحاد کے بغیر مثالی معاشرے کی تشکیل ناممکن ہے، اس موقع پر بہوری لال شکلا اور گجیندر پال سنگھ عرف سنی بھیا نے کھل کر اور گلے لگ کر تعلیم کے مشن کو آگے بڑھانے پر زور دیا، دونوں نے مائک پر آکر اپنے تاثرات کا اظہار کیا اور ہمیشہ کندھے سے کندھا ملا کر چلنے اور آپسی بھائی چارے کو فروغ دینے کی اپیل کی، تمام 16 حفاظ کرام کو مبارک باد پیش کی اور مستقبل کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا، بہوری لال چاچا نے کہا آج سے تقریبا ۸ سال پہلے اس مدرسہ کی بنیاد ہمارے ہی ہاتہو ں سے رکہی گی تہی اور آج اس میں سے سولہ بچوں نے قران کریم کی سند حاصل کی ہے یہ ہمارے لۓ بہت ہی فخر کی بات ہے اور کہا کہ ہماری جانب سے اس ادارے کے بانی، مہتمم اور جملہ اراکین کمیٹی، طلبہ اور انکے والدین کو بہت بہت مبارکباد ہو، اسی طرح سنی بہیا نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مدرسے اور اسکول کوئی الگ چیز نہیں ہیں بلکہ دونوں کے اندر انسانیت سکھلائی جاتی ہے اور ایک اچھے اخلاق اور اعلی کردار کی تعمیر پر زور دیا جاتا ہے، بے شک تعلیم ہی ایک ایسی چیز ہے جس سے آدمی اپنے اندر امتیاز پیدا کرسکتا ہے۔

(گجینجدر پال سنگھ پال عرف سنی بھیا کے ساتھ جامعہ کے مہتمم قاری سعید الدین الہندی)
جامعہ کے جنرل سکریٹری ماسٹر وحید الدین نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا،پردھان بلال احمد کی بھی اچھے کام پر گل پوشی کرکے حوصلہ افزائی کی گئی، اخیر میں جامعہ مسعودیہ نور العلوم بہرائچ کے مہتمم قاری زبیر کے ہاتھوں طلبہ کو دستار اور سند سے نوازا گیا، انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ جو لوگ محنت کرتے ہیں وہ ضرور اپنی منزل تک پہنچ جاتے ہیں، قرآن کے علوم سمندر کی طرح ہیں، ہمیشہ موتیوں کی تلاش جاری رہنی چاہیے، مفتی وحید اللہ قاسمی نے بھی نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ قران کریم کی تعلیمات عمل کی متقاضی ہیں، اسکے مطابق زندگی گزارنے پر کامیابی سے کوئی دور نہیں کر سکتا، قاری زبیر قاسمی کی دعاء پر جلسہ کا اختتام ہوا۔
اس موقع پر جامعہ کے صدر حاجی محمد احمد، نائب صدر شعبان علی، جنرل سکریٹری ماسٹر وحید الدین، مولانا ابرار، قاری عبید الرحمن، مولانا محمدرضوان ندوی، مولانا محمد احرار قاسمی، مولانا ولی الرحمن ، مولانا ظہیر الدین قاری شیر محمد ماسٹر مقصود، نوشاد احمد، ارشاد احمد سمیت علاقے کے لوگ کثیر تعداد میں موجود رہے.
