بیدر (محمدامجد حسین): دفعہ 371(J)کے دفاع(بچاؤ) کے لئے کلیان کرناٹک ہوراٹا سمیتی کی جانب سے آج ہفتہ کو بیدر کے امبیڈکر سرکل پر احتجاج منظم کیاگیا اور بنگلور کے ہسیروپرتشٹھان کے خلاف سخت ترین انتباہ دیتے ہوئے اس احتجاج کے مقررین نے کہاکہ ہمیں ہمارا حق بھیک میں نہیں ملاہے۔ دفعہ 371(J)دراصل ہمارا حق ہے۔ ہم پوچھناچاہتے ہیں کہ دفعہ371(J) جاری ہونے کے بعد سوائے تعلیم اور ملازمت کے ہمیں کوئی حقوق نہیں دئے گئے ۔ اور وہ بھی حق 1.5%سے زیادہ نہیں دیاگیا۔یہ ناانصافی ہمارے ساتھ کیوں کر ہورہی ہے۔ ریاست کی کانگریس سرکار ہمارے ساتھ انصاف کرے ۔ اور بتائے کہ کلیان کرناٹک علاقے کے افراد کرناٹک کاحصہ ہیں۔اوربڑے پیمانے پر اس وقت تڑپ جاتے ہیں جب کاویری کے پانی کے لئے پوری ریاست میں احتجاج کرناپڑتاہے۔ ہمارے علاقے کے کارنجہ کے لئے جنوبی کرناٹک والوں یاہسیروپرتشٹھان والوں نے احتجاج بالکل نہیں کیاہے۔لہٰذا ہمار اکانٹروبیوشن کرناٹک کے لئے زیادہ ہے۔ گذارش یہی ہے کہ ہم سے اور ہمارے بچوں سے ان کاحق نہ چھیناجائے۔ اس احتجاج میں شہر کے مختلف کالجس کے طلبہ وطالبات نے صبح ہی سے حصہ لیا۔ ایک مینارٹی کالج کے طلبہ کو بیٹھنے کے لئے جگہ نہیں ملی ۔ اس لئے وہ طلبہ کھڑے کھڑے سارا پروگرام سنتے رہے۔اور مختلف موقعوں پر تالیاں بجاکر انہوں نے داددی۔ تعلیمی اداروں کے ذمہ داران شہ نشین پرموجودتھے۔ چند ایسے افراد بھی نظر آئے جنہیں شہ نشین پر جگہ نہیں ملی ۔ سیاسی افراد جیسے ایشورسنگھ ٹھاکر وغیرہ بھی شہ نشین پر نظر آئے جب کہ ان کی ضرور ت نہیں تھی۔

جناب لکشمن دستی ، جناب سریش چن شٹی صدر کنڑا ساہتیہ پریشد نے اس احتجاج کی قیادت کی۔ ویسے تعلیمی اداروں کے ذمہ داران نے 10تا15ہزارطلبہ وطالبات کے آج جمع ہونے کا دعویٰ کیاہے لیکن ہمارااندازہ ہے کہ 5ہزارسے کچھ زیادہ طلبہ وطالبات تھے، اور وکلاء کی قابل ذکر تعداد نظر آئی۔پولیس کا معقول بندوبست دیکھنے کوملا۔ پروگرام پرامن طورپر اپنے اختتام کو پہنچا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے